سونے کا انڈہ دینے والی مرغی اور انسان کا لالچی پن

سونے کا انڈہ دینے والی مرغی

ایک شخص مرغیاں پال کر اپنی زندگی گزار رہا تھا، وہ اپنی مرغیوں کا بہت خیال رکھتا تھاکیونکہ اس کی گزر بسر کا زریعہ ہی یہ مرغیاں تھی ،ویسے تو اس کو اپنی ساری ہی مرغیوں سے انسیت تھی مگر ایک مرغی اس کو بہت زیادہ پیاری لگتی تھی ، لہذا اس نے اس کی بہت دیکھ بھال کی اور بعض اوقات تو یہ عالم ہوتا تھا کہ وہ اس مرغی کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں سلاتاتھا ، اس کا مرغی فارم اپنے طریقہ کار کے مطابق ٹھیک چل رہا تھا اور ایسی کوئی پریشانی نہیں تھی اسے ایک دن جب وہ اپنے کھیت میں آیا تو وہ اپنی اس خاص مرغی کا انڈا دیکھ کر چونک گیا اورانڈے کو پکڑ کر بار بار دیکھنا شروع کر دیا کیونکہ یہ انڈہ کوئی عام انڈہ نہیں تھا یہ سنہری انڈا تھا جی ہاں سونے کا انڈہ، اس نے تو بنگھڑے ڈالنا شروع کر دیئے اور کہنا شروع کیا کہ میری تو قسمت کھل گئی ، میں امیر ہوجاؤں گا بہت امیر ہو جاؤں‌گا.

انڈہ بازار میں بیچنے کے بعد اس نے گھر میں ضرورت کی چیزیں حاصل کرنا شروع کر دی اگلے دن اس نے مرغی فارم میں جا کر دیکھا تو مرغی نے پھر سونے کا انڈہ دیا ہوا تھا اسکا تو خوشی کے مارے بُرا حال ہو گیا اب اس کے دل میں عجیب عجیب خیال آنے لگے اس نے سوچا کہ میں اب اپنے گاؤں‌کا سب سے امیر آدمی بن جاؤں گا۔
اب اس نے پھر بازار کا چکر لگایا اور بہت ساری چیزیں خرید لایا ہر وہ چیز جو کبھی وہ سوچا کرتا تھا کے اس کے پاس ہوں‌وہ سب وہ خرید لایا،اور تو اور مرغی نے اب روز انڈے دینے شروع کر دیئے اور وہ انڈے بیچ کر بہت امیر ہوگیا تھا ، اب اس نے اپنا نیا مکان تعمیر کیا لیکن دولت مند بننے کی خواہش میں اس کا لالچ بڑھتا گیا ،ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکا لالچ مزید بڑھتا گیاوہ اب یہی سوچتا رہتا کہ جلد از جلد امیر کیسے ہوا جائے، اور یہ سوچنا شروع کر دیا کہ روزانہ ایک سونے کے انڈے سے تو بہت زیادہ وقت لگ جائے گا کیوں نہ میں سارے انڈے ایک ہی وقت میں نکال لوں مرغی سے یہی سوچتے سوچتے وہ سو جاتا ہے اور صبح اٹھ کر اپنے مرغی کے فارم میں واپس آتا ہے اور کہتا ہے ایسا لگتا ہے کہ آج بھی صرف ایک انڈا ، میں جلدی سے مالدار نہیں ہو پاؤں گا ، میں ایک بار میں سارے انڈے نکال دیتا ہوں ، اس طرح سے کہ مجھے ایک بار میں سارے سنہری انڈے مل جائیں گے۔وہ مرغی کو ذبح کرنے کا پروگرام بناتا ہے اور لالچ میں اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ مرغی کو زبح کر دیتا ہے اور جب پیٹ چاک کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ یہاں پر تو ایک بھی سنہری انڈہ نہیں ہے
وہ رونا اور چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے کہ ، اے خدا ، میں نے کیا کیا؟ میں نے اپنے لالچ کی وجہ سے اپنا نقصان کر لیا
بچو یہ کہانی سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ لالچ بری چیز ہے ، ہمیں کبھی بھی لالچی نہیں ہونا چاہئے ، ہمیں سب کو جو ملتا ہے اس سے مطمئن ہونا چاہئے۔جلد بازی نہیں کرنی چاہئے ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اسی متعین وقت کا ہی انتظار کرنا ہوتا ہے.۔

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.