فیمینیزم اور آج کل کی عورتیں لازمی پڑھیں

فیمینیزم اور آج کل کی عورتیں

میں بہَت خوش تھی کیوں کے آج میں نے ایک بار پِھر اپنے شوہر کو بحث بازی میں ہرا دیا تھا ،
اور وہ خاموشی سے منہ نیچے کر کے سگریٹ پینے کے لیئے کمرے سے باہر چلے گئے تھے ،
میں اب اپنے شوہر کے سامنے کھل کر بولتی تھی ،
انہیں نیچا دکھا کر میں یہ بات دنیا کو ثابت کر دینا چاہتی تھی کے عورتیں اب کمزور نہیں بلکہ مردو کے برابر ہیں .
میں نے 2013ء میں ویمن کلب آف پاکستان جوائن کیا تھا ، اور یہ سب میری اسکول فرینڈ کی مہربانی تھی ،
اِس کلب کو جوائن کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کے میرے ایک عورَت ہونے کے ناتے کیا کیا حقوق ہیں ، میں فیمینیزم کو پوری طرح سمجھنے لگی تھی ،
میری ارینج میرج 2011 میں ہوئی تھی ، میرے خاوند پیشے کے اعتبار سے ایک پروفیسر ہیں ،
شروع میں تو میں بے وقوفوں کی طرح ان کا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرتی تھی ، رات کا كھانا ان کے ساتھ کھاتی تھی اور صرف ان ہی کے ساتھ گاڑی میں باہر کھانے پینے اور گھومنے جاتے تھی ،
لیکن ویمن کلب جوائن کرنے کے بعد مجھے احساس ہُوا کے یہ سڑی حرکتیں کر کے میں اپنے آپ کو کمزور کر رہی ہوں اور اپنے خاوند کو سَر پر چرھا رہی ہوں ،
اب میں اکثر رات کو اپنی دوستوں کے ساتھ باہر چلی جاتی تھی اور باہر كھانا کھا لیتی ،
اکثر انہیں بتانے کی بھی زحمت نا کرتی اور نا كھانا بنا کر جاتی ، تاکہ وہ یہ نا سمجھ لیں کے یہ میرا فرض ہے اور میرے پاس اِس کے علاوہ اِس دنیا میں کوئی کام نہیں .
میں نے جاب کرنا بھی شروع کر دی تھی ، ہالانکہ ہمارے پاس پیسے کی کوئی کمی نا تھی لیکن پِھر بھی اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے یہ سب کرنا ضروری تھا،
میں ان کے اوپر چلاتی بھی تھی ، تاکہ ہَم دونوں برابری پر رہیں ،
وہ کبھی کبھار اسموکنگ کرتے تھے اِس لیے میں ان سے زیادہ اسموکنگ کرتی ، ان پر برتری حاصل کرنے کے لیے ان کے سامنے چرس بناتی اور پییتیی بھی ،
میرے کلب والو نے میری ان ساری خصوصیات کو دیکھ کر کراچی ڈویژن کا وائس پریذیڈنٹ بنا دیا تھا ،
ہماری کوئی اولاد نہیں تھی ، کیوں کے میں فلحال اولاد نہیں چاہتی تھی ، لیکن میرے خاوند کو اولاد کی بہَت خواہش تھی ، مجھے سکھایا گیا تھا کے اولاد کے بعد میں کمزور پر جاؤنگی ،
وہ پروفیسر تھے اِس لیے اکثر میں انہیں باتوں میں نہیں ہرا پاتی ، اِس لیے اپنی بہنوں اور والدہ سے جواب لائی کر جاتی ، اور اگلے دن ان کے منہ پر مارتی ،
میں نے انہیں بے بس کر دیا تھا ، جس طرح مرد شادی کے بعد عورتوں کو کر دیتے ہیں ،
وہ چُپ رہنے لگے تھے ، اب وہ مجھ سے صرف کام کی بات بھی نہیں کرتے تھے ، لیکن اگر مجھے ایک چھوٹی سی وجہ بھی مل جاتی لڑنے کی تو میں نہیں چھورتی تھی ،
آج انہوں نے نہانے کے بعد تولیا پلنگ پر ہی چھور دیا ، میں نے لڑائی شروع کی اور غلطی سے میرے منہ سے انہیں گالی نکل گئی جس پر وہ میرے قریب آنے لگے ،
میں سمجھ گئی کے وہ مجھے مارنے آرہے تھے اِس سے پہلے کے وہ مجھ پر ہاتھ اٹھا تے میں نے انہیں زور سے دھکہ دے ڈالا ،
وہ مضبوط اور قد آور تھے اِس لیے انہیں کچھ فرق نہیں پڑا ، اور وہ اِس بار بھی سَر جھکائے گھر سے نیچے اُتَر گئے .
لیکن اگلے دن جب وہ مجھے میری امی کے گھر چھوڑنے آئے تو ساتھ میں مجھے ایک لفافہ بھی تھما گئے ، امی کے گھر پہنچ کرجب میں نے دیکھا وہ طلاق نامہ تھا ، وہ مجھے طلاق دے چکے تھے ، میں 30 سال کی عمر میں طلاق یافتہ ہو چکی تھی ،

مجھے اِس بات کا ذرا سا بھی افسوس نہیں تھا ، میں جاب کرتی تھی ، کلب میرے کریڈٹ کارڈز کا خرچا اٹھا تا تھا اِس لیے میرے ماں باپ کو بھی اِس چیز کی فکر نا تھی ،
میں وائس پریذیڈنٹ سے پریذیڈنٹ کے عہدے پر پہنچ گئی ، پریذیڈنٹ کے عہدے پر پہنچ کر جب میں نے اِس مہینے کی فنڈنگ وصول کی تو پتہ چلا کے ہمیں انگلینڈ کی ایک بہت بڑی این جی او کی فنڈنگ آتی ہے اور مزے کی بات کہ اس این جی او کا بانی ایک مرد ہے ،
یہ بات میرے لیے بہَت حیران کن تھی کے ، ہَم لوگ نعرہ تو عورتوں کے حقوق کا لگاتے ہیں ، لیکن فنڈنگ ایک غیر ملکی مرد کی بنائی ہوئی این جی او سے لیتے ہیں ؟
پریذیڈنٹ ہونے کے ناطعے مجھے اِس ویمن کلب کی بہَت سی سینیر ممبرز کے گھر جانے کا اتفاق ہُوا
اور میں نے یہ اندازہ لگایا کے وہ اپنے گھر پر یہ میٹنگس اپنے شوہر کی مرضی کے مطابق ارینج کرتی ہیں ،
پِھر ایک دن میں نے ایک سینیر ممبر کے گھر پر عجیب تماشہ دیکھا کے ہماری ایک سینیر خاتون ممبر ، رَو رَو کے کسی بات پر اپنے شوہر سے معافی مانگ رہی تھیں ،
یہیں حال میری بہنوں کا تھا ، وہ سب اپنے شوہروں کی باتیں مانتی تھیں ، جتنے لوگ میرے بارے میں مجھے بڑھ چڑھ کر مشورہ دیا کرتے تھے ، وہ لوگ خود اس سے بار عکس کام کرتے تھے ،
لیکن اب بہَت دیر ہو چکی تھی ، میرے شوہر کی وہ ساری باتیں اور دلائل مجھے یاد آرہے تھے جو وہ مجھے سمجھانے کے لیے دیا کرتے تھے ،
انکی قوت برداشت پر مجھے رشک آرہا تھا ، فیمینیزم اور برابری کے چَکَر میں ، میں نے ایک بے حد نفیس انسان کو کھو دیا تھا ،
میں نے یہ تمام دنیاوی فتنے چھور کر اپنے مذہب اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ شروع کر دیا ، اور اپنی 10 سال کی رسرچ کے بعد میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ،
“برابری تو بہَت چھوٹی بات ہے ، دین اسلام نے تو جنت ہی عورتوں کے پیروں کے نیچے لا کر رکھ دی ہے ،
اسلام نے عورتوں کو بے پناہ عزت بخشی ہے ، ماں کے روپ میں ، بہن کے روپ میں اور بیٹی کے روپ میں ،
یہ باپ ایک مرد ہی ہوتا ہے جو سوکھی روٹی کھا کر کر بھی اپنی بیٹی کو اچھا كھانا کھلاتا ہے اور اسکی پرورش کر کے اسکی شادی تک کا کاخرچہ اٹھاتا ہے”
“میری گاڑی خراب ہونے پر ، یا گاڑی کا ایکسڈینٹ ہونے پر مرد ہی اپنی بائیکس روک کر میری مدد کرنے بھاگ بھاگ کر آجاتے ہیں ، عورتیں تو دیکھنا تک گوارہ نہیں کرتیں”
آج میں ایک مدرسے میں معلمہ ہوں اور کوشش کر رہی ہوں کے جن غلطیوں سے میں نے اپنی زندگی تباہ کر دی ، آپ سب وہ نا دہرائیں .

برائے مہربانی شئیر کریں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس فیمینیزم کی دوڑ سے باہر نکل سکیں.

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.