مجھے اب اس سے زنا کرنے کا نہیں نکاح کرنے کا دِل چاہتا تھا

زنا کرنے کا نہیں نکاح کرنے کا

یوں سمجھ لیں کہ میں منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا تھا کیوں کہ میرے دادا جان سندھ کے ایک نامور وڈیرے تھے
اِس لیئے ان کے انتقال کے بعد ان کی ساری زمینیں ، جائداد ، سونا ، گاڑیاں میرے والد صاحب کے پاس آئیں ،
ویسے بھی ہمارا خاندان سندھ کا سب سے امیر خاندان مانا جاتا تھا ،
جب میں نے ہوش سنبھالا تواس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق ہماری جائداد کی کل مالیت 3 ارب تھی اور میں 15 سال کی عمر میں گاڑی ، بنگلہ ، دبئی ، سنگاپور ، ترکی ، آسٹریلیا ، کینیڈا ، برے برے موبائل ، برانڈڈ کپڑے سب کا مزہ لے چکا تھا ،
کثرت دولت اور اپنے والد کا ایک ہی بیٹا ہونے کے ناتے میں شراب اور زنا کی گندی لت میں ‫18 سال کی عمر سے ہی دھت ہو چکا تھا ،
میرے گھر والوں نے مجھے کبھی ان چیزوں سے روکنے کی کوشش نا کی کیوں کے ہمارے خاندان میں یہ مردانگی کی علامت سمجھی جاتی تھیں ،
کبھی طوائف کے ساتھ تو کبھی کسی لڑکی کو اپنی دولت سے خرید کر اس کے ساتھ زنا کرنا مجھے کبھی بھی مشکل نہیں لگا .
زندگی اسی گندگی میں گزر رہی تھی کے ایک دن جب صبح ہمارے گھر میں کام کرنے والی ماسی نے مجھے جگایا تاکہ وہ میرے کمرے کی صفائی کر سکے ، اسکا نام صائمہ تھا ،اسے دیکھ کر میں دھنگ رہ گیا کے واقعی میں وہ کوئی ماسی ہے یا کوئی شہزادی ،
اسکی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے نا تو میرے پاس الفاظ ہیں نا ہی اس کی خوبصورتی الفاظ سے بیان ہوسکتی ہے ،
اس سے زیادہ خوبصورت اور حَسِین لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی تھی ،
میرے دِل میں شیطانی وسوسے آنا شروع ہوگئے کے اِس کے ساتھ تو کل ہی زنا کرنا ہے ، چونکہ مجھے پتہ تھا کے وہ غریب بھی ہے اور مجبور بھی ، اس لحاظہ سے اسے خریدنا میرے لیئے قطاَ مشکل نا ھوگا ،
خیر اس نے مجھے جگایا تو میں کمرے سے باہر جانے کی بجائے غسل کھانے میں نہانے چلا گیا ،
5 منٹ بَعد میں نے جان بوجھ کر صائمہ کو آواز دی کے مجھے تولیا دے ، لیکن 12 سے 15 دفعہ آوازیں دینے کے بَعْد بھی اس نے مجھے تولیا نا دیا ،
مجھے اِس بات پر شدید غصہ آیا اور مجھے گیلے جسم پر ہی کپڑے پہن کر باہر آنا پڑا ،
میں نے باہر آکر اسے بہت دانٹا اور نوکری سے نکالنے کی بھی دھمکی دی ، لیکن اس کے کان پر جوں تک نا رینگی ،
وہ خاموشی سے سَر جھکائے میری بات سنتی رہی جیسے میں اس سے نہیں دیواروں سے بات کر رہا ہوں ،
مجھ پر حیرت طاری تھی کے یہ کیسی لڑکی ہے نا تو اسے میری دولت متاثر کر رہی ہے ، نا میری طاقت اور نا ہی میری خوبصورتی ،
خیر مجھے بھی مزہ آنے لگا کے اِس دفعہ کوئی مشکل شکار ہاتھ میں آیا ہے ،
میں پورا دن بہانے بہانے سے اس کے پاس جا کر اس سے فری ہونے کی کوشش کرتا رہا لیکن اسنے مجھے لفٹ تک نا کاروائی ،
صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہمارے گھر کے دوسرے مردوں اور دوسرے نوکروں سے بھی وہ کوئی بات نا کرتی ،
4 دن لگاتار کوشش کرنے کے باوجود بھی میں اسے گناہ پر مائل نا کر سکا ،
میں چاہتا تو اسے اغوا کر کے اس کے ساتھ زبردستی اور زیادتی بھی کر سکتا تھا ،
لیکن پتہ نہیں کیوں میرے دِل اِس چیز کی اِجازَت نہیں دے رہا تھا ،
وقت گزرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ، 4 ماہ گزر گئے لیکن وہ میرے قابو میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ،
ان 4 ماہ میں میں نے لوگوں سے اس کی پسند نا پسند کا پوچھا کے شاید میں اپنے اندر تبدیلی لاؤں اور وہ اسے پسند آجائے ،
بہت سے لوگوں نئے بتایا کے صائمہ بہت دین دار اور با کردار لڑکی ہے ،
اسی لیے میں نے شراب پینا بھی چھوڑ دی اور زنا کرنے کا بھی دِل نہیں چاہتا تھا ،
پِھر کسی نئے بتایا کے اسے محنت اور کام کرنے والے لوگ پسند ہیں ، تو میں نے اگلے ہی دن ابّا کی زمینوں کا کام سنبھالنا شروع کیا ،
کام سنبھالنے کے بَعْد پتہ چلا کے ہمارے منشی ہر مہینے لاکھوں کا چونا لگا رہے ہیں ،
اِس لیے کام میں دِلچسپی برھنے لگی ، اور آہستہ آہستہ میں نے ان مونشیوں کو فارغ کر دیا ،
اب کام کی پوری ذمہ داری مجھ پر تھی ، اور پورا پورا دن کام میں نکل جاتا ، اکثر تو 2 ، 2 دن تک گھر لوٹنے کا موقع نہیں ملتا تھا ،
پورا دن دِل بیچین رہتا تھا کے کب گھر جاؤں اور صائمہ کا جی بھر کر دیدار کروں ،
لیکن میں ضبط کرتا رہا ،
دِل ہی دِل میں یہ خیال آتا کے اب جیسا کے ، میں اسے گھر میں کم نظر آنے لگا ہوں تو شاید اس کا دِل بَدَل جائے ،
مجھے اب اس سے زنا کرنے کا نہی نکاح کرنے کا دِل چاہتا تھا ،
میں اپنی ساری دولت کے بدلے اس کا پیار اور محبت چاہتا تھا ،
میرا دِل چاہتا تھا کے زندگی میں صرف ایک بار وہ مجھ سے مسکرا کر پیار کا اظہار کر دے ،
لیکن سب بے سود و بے فائدہ ،
اسکا دِل شاید پتھر کا تھا ،
پِھر ایک دن کسی نئے بتایا کے صائمہ 5 وقت کی نمازیں پرھتی ہے ،
میں نے اسی وقت سے نمازیں ادا کرنا شروع کر دیں ،
ایک دن میں ابّا کے کام کاج سے فارغ ہو کر گھر لوٹا تو سارے گھر والے کسی رشتہ دار کی شادی میں جانے کے لیے گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے ،
میں بہت تھکا ہُوا تھا اِس لیے میں نے گھر میں آرام کرنے کا فیصلہ کیا ، گھر والے سامان اور تحفے اُٹھانے کے لیے باقی نوکروں اور ماسیوں کو ساتھ لے کر جا رہے تھے ،
امی نے بتایا کے گھر میں صائمہ اور اس کی والدہ میری خدمت کے لیے موجود ہیں ،
میں نے صائمہ پر ایک سرسری سے نظر ڈالی وہ شاید کوئی کتاب پڑھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی ،
دِل تو بہت چاہا کے اس مسکراہٹ کو یونہی کھڑا رہ کر پوری رات دیکھتا رہوں لیکن پِھر اچانک یہ خیال آیا کے کہیں صائمہ کو یہ بات بری لگ گئی تو ،
صائمہ کی والدہ جنہیں سب گھر والے “بری بھی جی” بلاتے تھے انہوں نے كھانا لگایا ،
كھانا کھا کر میں اپنے کمرے میں چلا گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا ،
شیطان مجھ پر پوری طرح حاوی تھا کے 8 مہینوں کی پیاس میں صائمہ سے زنا کر کے بجھا لوں لیکن قدم اس کی طرف اٹھنے سے کانپ رہے تھے ، کچھ دیر بَعْد میرے کمرے پر کسی نے دستک دی ، میں سمجھا کے شاید بری بھی جی ہونگی ،
لیکن میرے تَوَقُّع کے بار عکس میرے سامنے صائمہ کھڑی تھی ،
میں کچھ بولتا یا پورا معاملا سمجھ پتہ صائمہ نے کہا ،
“جو نیکیاں اچھائیاں اور بدلاؤ آپ اپنے اندر میری محبت جیتنے کے لیے لے آئے ہیں ذوہیب صاحب ، کاش یہ سب آپ نے اپنے اللہ کو راضی اور اس کی محبت کے حصول کے لیئے کیا ہوتا تو شاید آپ اب تک ولی بن چکے ہوتے”
اس نے جیسے ہی جملہ پورا کیا میں نے ایک زور دار چیخ مری اور شاید اس کے بَعْد میں بے ہوش ہو گیا ،
جب آنکھ کھلی تو پتہ چلا کے اس رات گھر میں نا تو صائمہ موجود تھی نا ہی بی جی ،
وہ دونوں بھی گھر کے چھوٹے بچوں کو سنبھالنے کے لیے گھر والوں کے ہمراہ شادی میں گئے تھے ،
وہ دن میرا اس شاندار حویلی میں آخری دن تھا ، میں نے اس دن کے بَعْد سے اپنی ساری زندگی راہ خدا میں بسر کرنے کا اِرادَہ کیا ،
جب میں تبلیغی کافلوں میں سفر کرنے کے ایک سال بَعْد اپنے گھر لوٹا تو صائمہ کے والد نے خوفیہ طور پر ایک ملاقات کی اور درخواست کی کہ آپ صائمہ کا رشتہ لے کر ہمارے گھر آئیں ،
ورنہ وہ آپ کی یاد میں رُو رُو کر مر جائے گی ،
مجھے اپنے کانوں پر یقین نا آیا ،
اللہ کےفضل و کرم سے میرا اور صائمہ کا نکاح 3 ہفتوں میں ہی طے پاگیااور آج ہماری شادی کو 22 سال گزر چکے ہیں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.