میں اِس ٹائپ کی لڑکی نہیں ہوں جس طرح کا آپ مجھے سمجھ رہے ہیں

میں اِس ٹائپ کی لڑکی نہیں ہوں جس طرح کا آپ مجھے سمجھ رہے ہیں

آج بھی وہ میری ہی فرمائیش پر اپنا بلیک سوٹ پہن کر آئی تھی ،
لمبے لمبے گھنے بال جب اس کے گورے اور سرخ رخسار پر گرتے تھے تو میرے دِل کے گوشے گوشے میں ایک قیامت سی چھا جاتی تھی ،
اس کا نام فائزہ تھا وہ ہمارے ٹیوشن سینٹر میں 2 دن پہلے ہی داخل ہوئی تھی ،
ہَم دونوں اس وقت سیکنڈ ایئر کے طالب علم تھے ،
اچھی پرسنیلیٹی کی وجہ سے وہ بھی میری مسکراہٹ پر ضرور مسکراتی
اور جب بھی میں ہماری میڈم کے سامنے اپنی پسند کے رنگ کا اظہار کرتا ، فائزہ اس کے اگلے دن اس رنگ یا اس سے ملتے جلتے رنگ کے کپڑے پہنتی .
وہ انتہا کی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی سیرت کی بھی مالک تھی ، میں نے 3 مہینوں میں ایک بار بھی اسے کسی لڑکے سے بات کرتے نہیں دیکھا تھا ،
وہ مجھ سے بھی نظریں نہیں ملا پاتی ، جب بھی ہماری نظریں ملتیں وہ شرما کر اپنا سَر جھکاتی اور کلاس ختم ہونے تک مسکراتی رہتی ،
میں اس کی دِل فریب اداؤں کی وجہ سے اس کا پوری طرح دیوانہ ہو چکا تھا ،
روز گھر سے یہ سوچ کر نکلتا کے آج اس سے اپنی محبت کا اظہار کر دونگا لیکن ٹیوشن سینٹر پہونچتے ہی ، میری ہمت جواب دے جاتی ،
6 ماہ گزرنے کے بَعْد ایک دن میں نے ٹیوشن کی ایک چھوٹی بچی کو پرچی لکھ کر دی جس میں میں نے اپنی محبت کا اظہار کر ڈَالا تھا ،
اور اس بچی کو یہ چھوٹی پرچی نما لو لیٹر فائزہ کے حوالے کرنے کو کہا تھا ،
اگلے دن دھڑکتے ہوئے دِل سے میں ٹیوشن پہنچا تو فائزہ کا روایہ بلکل مختلف تھا ،
وہ نا تو میری طرف دیکھ رہی تھی نا ہی مجھ میں کوئی دلچسپی لی رہی تھی ،
جیسے ہی کلاس ختم ہوئی وہ میرے پاس آئی اور سخت لہجے میں کہنے لگی
“میں اِس ٹائپ کی لڑکی نہیں ہوں جس طرح کا آپ مجھے سمجھ رہے ہیں ، میرے بہت سے خواب ہیں جنہیں مجھے پورا کرنا ہے”
“آئیندہ اِس قسم کی کوئی بھی حرکت کی تو میں میڈم کو بتا دونگی ، یہ محبت کا ناٹک کسی اور کے ساتھ کرنا”
یہ جملے تیر بن کر میرے سینے میں پیوست ہوگئے اور میں نے وہ ٹیوشن سینٹر اگلے دن ہی چھور دیا ،
کیوں کے میری محبت کو فائزہ نے غلط رنگ دے دیا تھا ،
میں فائزہ سے سچی محبت کرتا تھا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے بعد اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا ،
لیکن شاید وہ میرے نصیب میں نہیں تھی ،
ابھی کچھ 3 دن پہلے میں فیس بک استعمال کر رہا تھا تو پیپل یو مے نو میں مجھے فائزہ احسان نام کی ایک آئی ڈی نظر آئی ،
میں نے ویسی ہی غیر اِرادی طور پر اِس آئی ڈی کو وزٹ کیا تو پتہ چلا کے یہ تو وہی فائزہ ہے جس سے 6 سال پہلے میں محبت کرتا تھا ،
آئی ڈی میں کچھ خاص نہیں ایک بچے کے ساتھ اور مرد کے ساتھ فائزہ کی 8 یا 9 فوٹوز تھیں جو غالباً اس کے بیٹے اور ہسبنڈ احسان کی تھیں ،
اباؤٹ سیکشن میں جا کر دیکھا تو لکھا ہُوا تھا “پرفیکٹ ہاؤس وائف”
میں نے نہ چاھتے ہوئے بھی اسے ایک میسیج ٹائپ کیا “کیا پرفیکٹ ہاؤس وائف بننا ہی تمہارے وہ بہت سارے خواب تھے اوراگر یہی خواب تھے تو پرفیکٹ ہاؤس وائف میرے ساتھ بننے میں کیا برائی تھی ؟ ”
اگلے دن کوئی جواب تو نا آیا لیکن فائزہ نے مجھے بلاک کر دیا تھا . اس دن کے بعد سے میں نے فائزہ کے بارے پِھر کبھی نا سوچا اور برے بزرگوں کی بات پر یقین کر لیا کے “وہ عشق ہی کیا جو کامیاب ہوجائے”

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.