میں خود کو کورونا وائرس سے کیسے بچا سکتا ہوں؟

میں خود کو کورونا وائرس سے کیسے بچا سکتا ہوں

اگر اس سے مراد آپ کی ایک عام کورونا وائرس تو؟آپ نہیں بچ سکتے میرا مطلب ہے ، آپ کو ماضی میں کو کورونا وائرس کے انفیکشن کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جی ہاں یہ ذہن میں رکھیں اس کو سردی لگنا بھی کہتے ہیں: کچھ نزلہ کوروناوائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اگر آپ کی مراد SARS-CoV-2 سے ہے ؟تو ٹھیک ہے ، آئیں کچھ خاص باتوں کو ذہن میں رکھیں۔ زیادہ تر معاملات میں SARS-CoV-2 وائرس نسبتا ہلکے انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ اس کا شکار ہونے والے زیادہ تر لوگوں میں علامات ہوتی ہیں جو چند ہفتوں میں خود ہی ختم ہوجاتی ہیں۔ خشک کھانسی ، گلے کی سوزش ، شاید کچھ سر درد اور تھوڑا بہت بخار۔

یہاں تک کہ کوئی علامت نہیں بھی ہوتی۔ صرف ایک اکیلی چیز ہی آپ کی جان کو سنجیدگی سے خطرے میں ڈالتی ہے۔ یہ خطرہ عمر کے ساتھ بڑھتا ہے ، لیکن یہاں تک کہ سب سے زیادہ خطرے والے طبقے میں (80 سال سے زیادہ کی عمر میں) متاثرہ افراد صرف "شک کا شکار” ہوتے ہیں ان میں سے جن لوگوں میں اسکی تشخیص ہوتی ہے وہ ان میں سے صرف 15 .20 فیصد ہوتے ہیں۔ کم عمر والے لوگوں کے لئے خطرہ 1٪ سے بہت کم ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوڈ-19 ایک غیر متعلقہ بیماری ہے ، یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت سے لوگ جو اسس کا شکار ہوتے ہیں ان میں شدید نمونیا ہوتا ہے جو ان کے پھیپھڑوں میں ایک مخصوص داغ چھوڑ سکتے ہیں۔

کوویڈ ۔19 کا بنیادی خطرہ معاشرتی ہے۔ یہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے ، جو حیرت انگیز طور پر تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دو مہینوں کے اندر ، اگر پھیلاؤ کو روکے نہیں رکھا گیا تو ، یہ صرف ایک مخصوص تعداد میں بیمار ہونے والے افراد کی تعداد کی وجہ سے پورے ممالک کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس سے پہلے کے اس کا علاج ڈھونڈا جائے بجائے گھروں سے باہر نکلنے کے تو پھر پورے ملک کو مکمل طور پر خاتمے کی طرف لایا جاسکتا ہے۔ اس لئے ہمیں انفیکشن کو کم کرنے کی ضرورت ہے ، کیوںکہ جو شخص بھی بیمار ہوتا ہے اس میں اس کی علامات نہیں ظاہر ہوتی نتیجے کے طور پر وہ شخص جہاں جاتا ہے یہ بیماری پھیلاتا جاتا ہے اپنی لا علمی کی وجہ سے ،جس کی وجہ سے بہت سے لوگ بیمار ہوجاتے ہیں ، اور اگر معاشرتی پھیلاؤ کو روک دیا جائے تو بہت کم لوگ اس کا شکار ہو پاتے ہیں اور ان میں سے بھی بہت کم وہ بھی اگر ضروری ہو تو ہسپتال جاتے ہیں ، اور صحت یاب ہونے کے بعد انھیں گھر بھجوا دیا جاتا ہے۔ یہ بیماری ابھی بھی کچھ بھی نہیں ہے جب تک کہ آپ خود اسے آگے نہ بڑھانا چاہئے ، یہاں تک کہ معمولی معاملات میں بھی یہ بہت ہی معمولی بیماری ہے ، اور اس سے غیر معمولی طور پر خوفزدہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے ، خاص طور پر آپ اگر اس جگہ پر ہیں جہاں آپ کا خیال رکھنے والے لوگ موجود ہیں یعنی آپ کا گھر.

لہذا ، یہ سوچنے کے بجائے کہ کوویڈ 19 سے اپنے آپ کو کیسے بچایا جائے ، اس پر غور کریں کہ آپ جس معاشرے میں رہتے ہیں اس معاشرے سے اسے کیسے بچایا جائے۔ جو کم و بیش ایک ہی چیز ہے ، باضابطہ طور پر۔ عام طور پر وہ باتیں کرنا جو کرنا چاہتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں:

گھر میں رہو جب تک کہ آپ کے پاس باہر جانے کی کوئی اچھی وجہ نہ ہو۔
مجھے معلوم ہے ، فی الحال ہم میں سے بیشتر سخت قوانین کے تابع ہیں کہ ہم گھر س کب اور کیوں چھوڑ سکتے ہیں ،عنقریب شائد یہ قوانین نرم کر دئیے جائیں مگر اصول برقرار رہنے چاہیئے۔انتہائی ضروری کام کے بغئیر اور کسی خاص وجہ کے بنا بے مقصد باہر نہ جانے کی کوشش کریں۔ چہل قدمی کرنا ، کسی دوست سے بات چیت کے لئے ملاقات کرنا ، اپنی نانی وغیرہ سے ملنا وغیرہ ٹھیک ہوگا لیکن آپ گھر چھوڑنے کے اوقات کو محدود کرنے پر غور کریں۔
اگر آپ ممکن ہو تو ، اپنے اوقات کاروں پر سفر کرنے سے بچنے کے لیئے انٹرنیٹ کا سہارہ لیں اپنے رشتہ داروں سے ویڈیو کال کے ذریعے رابطہ میں رہیں ، اگر آپ اپنے کام کے اوقات میں لچکدار رہنے پر غور نہیں کرسکتے ہیں تو دور سے کام کریں۔
بڑے ہجوم سے پرہیز کریں۔ سینما گھروں ، تھیٹروں اور نمائشوں کے میں جانے سے پرہیز کریں ،اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ایسے ہجوم سے دور رہیں جس حد تک ممکن ہو سکے.
فاصلوں کا احترام کریں ، جب بھی امکان ہو اپنے اور دوسروں کے مابین 2 میٹر / 6 فٹ کا فاصلہ رکھیں ، یا اس سے کم از کم آدھا اگر جگہ زیادہ نہیں ہے۔
معمولی احطیاطی تدابیر کا احترام کرین ، لہذا پاگلوں کی طرح اپنے ہاتھ دھوتے رہیں کچھ نہیں ہوگا آپ کے ہاتھوں کو ہاں مگر آپ کے ہاتھ مزید دلکش ہو جائیں گیں۔
گھر سے نکلتے وقت چہرے پر ماسک پہنیں۔
اگر آپ کو کھانسی ، نزلہ ، زکام ہو تو گھر میں رہنا یقینی بنائیں۔

میں خود کو کورونا وائرس سے کیسے بچا سکتا ہوں؟” ایک تبصرہ

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.