درود تنجینا 131

درود تنجینا اسلام کی نظر میں کتنا مفید ہے لازمی پڑھیں

درود تنجینا کے نام سے جو درود نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر پڑھا جاتا ہے اس کے الفاظ گھڑے ہوئے ہیں۔ سنت مبارکہ اور آثار میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اسے مورخ اور ادیب عبدالرحمٰن بن عبدالسلام الصفوری (متوفی ۸۹۴ھ) نے اپنی کتاب نزھۃ المجالس و منتخب النفائس میں ذکر کیا ہے اور مالکی فقیہ شیخ عمربن علی بن سالم الفاکھانی النحوی نے بھی اپنی کتاب الفجر المنیر میں کسی شیخ موسیٰ کے حوالے سےدرود تنجینا کے بارے میں لکھا ہے کہ:
’’ہم ایک قافلے کے ساتھ بحری جہاز میں سفر کررہے تھے کہ جہاز طوفان کی زد میں آگیا ۔یہ طوفان بشکل قہر خداوندی جہاز کو ہلانے لگا اور ہم لو گ یقین کر بیٹھے کہ جہاز چند لمحوں میں ڈوب جائیگا اور ہم لقمہ اجل بن جائینگے ۔ملاحوں نے بھی سمجھ لیا تھا کہ اتنے تندو تیز طوفان کوئی قسمت والا جہاز ہی بچتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں اس عالم افراتفری میں مجھ پر نیند کا غلبہ ہوگیا چند لمحے غنودگی طاری ہوئی میں نے دیکھا کہ حضور آقائے دوجہاں ﷺ تشریف لائے اور مجھے حکم دیا کہ تم اور تمہارے ساتھی یہ درود ہزار بار پڑھو ۔ میں بیدار ہو ااپنے دوستوں کو جمع کیا وضو کرکے درود پاک پڑھنا شروع کردیا ۔ابھی ہم نے تین سو بار درود پاک پڑھا تھا کہ طوفان کا زور کم ہونے لگا اور آہستہ آہستہ طوفان رک گیا اور تھوڑے ہی وقت میں آسمان صاف ھو گیا اور سمندر کی سطح پرسکون ہوگئ اس درود پاک کی برکت سے تمام جہاز والوں کو نجات مل گئی‘‘ اب اگر خواب کی بنیاد پر ہم درود تنجینا کو عبادت تو مان نہیں سکتے نہ.
یہ بات معلوم ہے کہ خواب سے کوئی شرعی حکم یا کسی عمل کی فضیلت ثات نہیں ہوتی۔ لہٰذا محض ایک خواب کی بنیاد پر درود تنجینا کی فضیلت ثابت کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شرعیت کامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین پسند کر لیا ہے‘‘۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے پوری دیانت و امانت کے ساتھ ہمیں کامل صورت میں پہنچایا ہے اور اس میں سے کچھ بھی چھپا کر نہیں رکھا۔ ایک مسلمان کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ثابت شدہ اعمال کو بجا لانا ہی کافی ہے۔ اپنی طرف سے عبادات گھڑنے اور خوابوں سے ان کا استحباب ثابت کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں جبکہ صحیح ثابت شدہ احادیث میں ایسی دعائیں ملتی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کرب اور مصیبت میں کہا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم مصیبت میں یہ کلمات فرمایا کرتے تھے:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
اور امام ترمذی نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جب کوئی مصیبت یا شدت پہنچتی تو وہ فرمایا کرتے تھے:​
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ
شیخ البانی نے اسے صحیح الترمذی میں حسن کہا ہے
پس مسلمان کو چاہیے کہ دین میں نئی نئی چیزیں جیسے درود تنجیناوغیرہ نکالنے کی بجائے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے کی پیروی کرے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کیا خوب فرمایا ہے ’’ اتباع کرو اور نئی چیزیں مت نکالو کیونکہ تم (قرآن و سنت کے ذریعے) کفایت کیے گئے ہو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.