کرونا 122

سانپ مینڈک اور کرونا

ایک سانپ اپنے زہر کی تعریف کررہاتھا کہ میراڈسا پانی نہیں مانگتا
پاس بیٹھا مینڈک اس کا مزاق اڑا رہاتھا کہ لوگ تیرے خوف سے مرتے ہیں زہر سے نہیں
دونوں کا مقابلہ لگ گیا
طے یہ پایا کہ کسی راہگیر کو سانپ چھپ کےکاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا
دوسرے راہگیر کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آۓ گا
اتنے میں ایک راہگیر گزرا اس مسافر کوسانپ نے چھپ کے کاٹا جبکہ ٹانگوں سے مینڈک پھدک کے نکلا
راہگیر مینڈک دیکھ کے زخم کھجا کے تسلی سے چل پڑا خیر ہے مینڈک ہی تھا کیافرق پڑتا ہے
دونوں اسے دور تک جاتا دیکھتے رہے وہ صحیح سلامت چلا گیا

دوسرے راہگیر کو مینڈک نے چھپ کے کاٹا اور سانپ پھن پھیلا کے سامنے آگیا
مسافر دہشت سے فوری مر گیا
دنیا میں ہرروز ہزاروں افراد مرتے ہیں جن کو دیگر امراض ہوتے ہیں یاکوئی بھی مرض نہیں ہوتا
جبکہ کرونا کی شرح اموات اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے
خدارا سوشل میڈیا پر مایوسی مت پھیلائیں
مسلمان موت سے نہیں ڈرتا
جب موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے نہ پپیغمبروں کو چھوڑا نہ ولیوں کو
موت جب ہر حال میں آنی ہے پھر کرونا سے ڈر کیسا
احتیاط لازم ہے کریں لیکن خوف کو خود سے الگ کردیں
خوف اور مایوسی سے انسان کی قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے جوکسی بھی بیماری سے لڑنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے
کرونا کےہزاروں مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں
موت اس کو آتی ہے جس کی زندگی کے دن پورے ہوچکے ہوتے ہیں
کرونا چھوت کا مرض ہے ایک دوسرے سے لگتا ہے
احتیاط ضرور برتیں لیکن اس خوف کو ذہن میں بٹھا کے موت سے پہلے اپنی زندگی کوموت سے بدتر نہ کریں
جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں گے تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا
آواز خلق نقارہ خدا
اللہ وہی دے گا جس کی اللہ سے امید رکھتے ہو
اللہ تعالی کی شان ہے کہ وہ آپکی امنگوں پر پورااترتا ہے
اچھی امید رکھو گے تو اچھا ہی ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کیا کہتے ہیں؟

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.