73

” روح کے زخم “

شمع آج مجھے تمہارا اور تمہارے منگتیر کا مشترکہ خط ملا ہے جس میں تم دونوں نے میر ے جذبوں کی بے پناہ توہین کی ہے میری

محبت کا ہتک کی میں حیران ہوں شمع کہ تمہاری وہ زبان جوتمہاری منگنی ہو جانے کے باوجود میری و فا کے گیت گایا کرتی تھی۔آج میرے خلاف زہر کیو ں اُگل رہی ہے تمہاری وہ آنکھیں جن میں کل تک میرے انتظار کے دیپ روشن رہا کرتے تھے آج کسی غیر کی محبت کے نغمے کیوں الا پ رہے ہیں ،شمع !

میں تمہیں اس بے وفائی کا دوش نہیں دوں گا اس لیے کہ تم سب عورتوں کی فطرت یہی ہے کہ پہلے پہلے وہ اپنی جھوٹی محبت کے خوبصورت جال مردوں کو الجھاکر چند دن اپنی مصنوعی الفت کے دلفریب خواب دکھلا تی رہتی ہیں مگر جب جی بھر جاتا ہے تو دامن جھٹک کرکسی نئے مرد کی تلاش میں نکل کھڑ ی ہوتی ہیں اور زندگی کے کسی مو ڑ پر اگر کبھی ٹکراﺅ ہو جائے تو یو ں اجنبی بن جاتی ہیں جیسے کبھی کوئی واسطہ ہی نہ تھا ۔اور جب ان کی شا دی ہو جاتی ہے تو زندگی کی مسرتو ں میں کھو کر وہ یہ بھو ل جایا کر تی ہیں کہ ان کی یہی زلفیں جو آج اس کے شوہر کے     کاندھو ں پر بکھر رہی ہیں کبھی یہی گیسو کسی اور کے پیار کی دنیا میں شا م کا سندیسہ لا یا کرتے تھے۔

آج یہ با زو جو اس کے شریکِ سفر کے گلے کا ہار بنے ہو ئے ہیں گذرے ہو ئے کل کو کسی دوسرے کے ہا تھ تھام کر اسے جینے کا سہارا بخشتے تھے تم نے مجھے آج ٹھکرا دیا ہے نا ؟ شمع مجھے اتنی شد ت سے دکھ پہنچا ہے کہ میر ی روح بھی ان زخمو ں سے بلبلا اٹھی ہے شاید اس لیے کہ تم میرا آئیڈل تھیں ۔ برسو ں کی تلا ش کے بعد میں نے تمہیں پایا تھا اور آج جب کہ تم نے شبیر کی بانہو ں کا سہارا پاکر مجھے ٹھکرا دیا ہے تو یقین کرنا مجھے دکھ پہنچا کر خو ش تم بھی نہ رہ سکو گی ۔ وہ و قت ضرو ر آئے گا کہ جب رات کی تنہائیو ں میں تم چھپ چھپ کر رویا کرو گی جب چا ند جوان ہو گا آکاش پر تا رو ں کی محفل سجی ہوئی ہو گی باغ میں مہکتے ہوئے پھو ل روتی ہوئی شبنم کے آنسو ﺅ ں کا مذا ق اڑا رہے ہوں گے اس وقت میر ے پیا ر کا ادھو را سایہ تمہارے دل میں میر ی بھو لی بسری محبت کی کسک ضرور پید ا کرے گا ۔

شمع شا ید تمہیں علم نہ ہو کہ میں نے تمہیں برس ہا برس کی تلاش کے بعد پایا تھا میں نے تمہیں چا ند ستا رو ں میں ڈھونڈا میں نے تمہیں بہا ر کی رعنا ئیوں میں ڈھونڈا میںنے تمہیں پھولو ں کی رنگینیو ں میں تلا ش کیا میں نے تمہیں گنگنا تے ہو ئے جھر نو ں کی دلکش مو سیقی میں تہما را سراپا تلا ش کیا میں نے پربتو ں کے سینوں سے جنم لینے والے اور گیت گا تے ہو ئے در یا ﺅ ں سے تمہا را پتہ پو چھا میں نے نسیم صبح گا ہی کے اٹھکیلیا ں کرتے ہو ئے لطیف اور معطر جھو نکوں سے تمہا ری با بت دریافت کیا مگر سب خا مو ش رہے کسی نے بھی مجھے تمہارے با رے میں کچھ نہ بتا یا ۔ شا ید تم اس دنیا کی با سی نہیں تھیں بلکہ دنیا کے اس تصوراتی دیس میں بستی تھیں جہا ں پر یا ں رہتی ہیں ….پھر جب تم ایک روز مجھے زیست کے ایک موڑ پر اچا نک آن ملیں تو مجھے یو ں محسو س ہو ا گو یا میر ی زند گی مہک اٹھی ہو ….میر ے ویران دل میں بہا ر آ گئی ۔ میں نے جان لیا کہ تم میری ویران زند گی کی پکا ر اور دیو انہ وار تلا ش سے متا ثر ہو کر میر ی روح کے زخم مند مل کر نے کے لئے انپے دیس سے کوسو ں میل کا فا صلہ طے کر کے یہا ں آئی ہو ….اور اب مجھے چھو ڑ کر کبھی نہیں جا ﺅ گی چنا نچہ میں نے دل کے معید میں تمہا ر ی تصو یر سجا کر تمہیں پو چنا شر و ع کر دیا ۔ میں نے دل میں یہ عہد کر لیا تھا کہ تم جو میر ی رو ح کے زخمو ں کا مرہم ہو میر ی ویران زندگی کی بہا ر ہو ….میر ی بر سو ں کی محنت کا ثمر ہو ….تم اگر کہو گی تو میں بے در یغ تمہیں سجدہ بھی کر دو ں گا مگر ….کیا خبر تھی کہ میر ے سا رے خو اب ٹو ٹ کر بکھر جا ئیں گے اور تم ایک اجنبی کا سہا را پا کر مجھے زیست کے تپتے ہو ئے ریگزارو ں میں تنہا بھٹکنے کے لئے چھو ڑ دو گی ۔ آج نہ جانے کیو ں میرا دل یہ اشعا ر گنگنانے کو چا ہتا ہے

: آج بچھڑ ے ہو ئے لو گو ں کو صد ا دے اے دل

شا ید تیر ی آواز پہ کو ئی مو ڑ کر دیکھے

مجھ کو شکو ہ تو نہیں کا تبِ تقد یر مگر!

رو پڑے تو بھی اگر میر ے مقد ر دیکھے

شمع تم میر ے زخمو ں کی داستا ن سے و اقف نہیں ہو ۔ اس لئے آج جبکہ تم پرائی ہو چکی ہو ۔ میں چاہتا ہو ں کہ اپنا سا را ما ضی تمہا رے سا منے عر یا ں کر دو ں ….اپنے جنو ن ….اپنی ناکام محبت کا افسا نہ تمہیں سنا ﺅ ں ۔ مجھے یقین ہے شمع کہ تم میر ی داستان ضرور دیکھو گی جو سار ی زند گی نا سو ر بن کر رِستے رہیں گے ….

شمع

یہ آج سے تقر یبا ًدس سا ل پہلے کی بات ہے جب میں نے بچپن کو خیر آبا د کہہ کر جو انی کی دہلیز پر نیا نیا قد م رکھا تھا ۔ تم میر ی پھو پھی زاد تھیں ۔ وہ پھو پھی جسے ہمارے گھر انے سے اتنا شدید پیا ر تھاکہ جب تک دن میں دو تین چکر نہ لگا لیتیں انہیں چین نہ آتا تھا ….میرے و الد صا حب اور پھو پھی جا ن کے پیا ر کی خاندان تو کیا پو رے گا ﺅ ں میں مثا لیں دی جا تی تھیں ….ایک دن پھو پھی جا ن ہما رے گھر آئیں تو انکے سا تھ تمہار ی بڑی بہن

“امبر “بھی تھی ۔ ہم سب ایک ہی جگہ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے ۔ جانے کیا با ت تھی کہ امبر کھانا کھاتے ہو ئے بڑ ی جھجک رہی تھی ۔ پتہ نہیں میرے بڑے بھا ئی حبیب جو کہ شا دی شدہ تھے انکے دل میں کیا خیا ل آیا کہ وہ امبر سے مخا طب ہو کر بو لے

“امبر شرما کیو ں رہی ہو ہو سکتا ہے کہ قسمت تمہا رے نصیب میں ہی اس گھر کی رو ٹیا ں لکھ دے”

میں نہیں جانتاکہ یہ با ت انہو ں نے مذاق میں کہی تھی یا سنجیدہ ہو کر ….بہر حا ل ان کا اشارہ میر ی طرف تھا ۔ وہ یقینا امبر کو میری دلہن کے رو پ میں دیکھنا چا ہتے تھے ….چو نکہ اس وقت میر ی عمر اتنی زیا دہ نہیں تھی اس لئے امبر کے چہرے کے تاثرات نو ٹ نہ کر سکا ۔ بلکہ میں نے یہ با ت سنی اَن سنی کر دی تھی ….شا ید اس لئے کہ اس و قت میرے دل میں نہ محبت کی کوئی کسک تھی اور نہ ہی دل کا مند ر کسی کے تصو ر سے آباد ہو ا تھا ہا ں شمع اس و قت میر ے ذہن میں تمہا ری و ا ضح صورت تو نہ تھی البتہ دھندلے دھندلے نقو ش ضر ور تھے ۔ جنہیں میں کو شش کے با وجو د اجاگر نہ کرسکا طا ئر و قت محو پر واضح رہا ۔ دن رات کا چکر چلتا رہا ۔ اسی دوران پورے خاندان میں یہ خبر پھیل گئی کہ تمہاری بڑ ی بہن امبر کی منگنی اخترسے جو کہ غیر برادر ی کا تھا کر دی گئی ہے چو نکہ میرے ذہن کے کسی گو شے میں بھی امبر کا تصو ر موجود نہ تھا اس لئے مجھ پر اس خبر کا کو ئی اثر نہ ہوا ۔ البتہ ابا جان اور دیگر بہن بھائیوں کے منہ ضرور بن گئے تھے ۔

اس خبر کے چند روز بعد پھو پھی جان اور تمہا ری سب سے بڑی بہن خالدہ ہمارے گھر آئی اس و قت ہم کاروباری وجو ہا ت کی بنا پر راولپنڈی دھمیال کیمپ کے نزدیک رہتے تھے ۔ ان ہی کی زبانی پتہ چلا کہ “امبر “کی ابھی منگنی نہیں ہو ئی البتہ صر ف با ت پکی ہو ئی ہے….اور اب مشورہ کر نے آئی ہیں کیو نکہ اختر کے گھر والے جلد از جلد شا دی کے لئے زور دے رہے ہیں ۔ ابا جان اگر چہ پھو پھی جان سے بے پنا ہ محبت کر تے تھے مگر خاندانی رسم وراوج انہیں اپنی جان سے بھی پیار ے تھے انہیں پہلے ہی صدمہ کیا کم تھا کہ تمہار ی بہن امبر کا رشتہ خاندان سے باہر کر دیا گیا ہے ۔

مزید براں جب پھو پھی جا ن نے مشو رہ لینا چا ہا تو ابا جان بھڑک اٹھے ۔ انہو ں نے صا ف صا ف کہہ دیا کہ چو نکہ آپ نے رشتے کی با ت مجھ سے پو چھے بغیرپکی کر دی ہے اس لئے اب مجھ سے کچھ پو چھنا فضو ل ہے ۔ پھو پھی جان سے زیا دہ تمہا ری بڑی بہن خا لدہ کو غصہ آگیا کیونکہ اس کی شا دی بھی خاند ان سے با ہر اختر کے بڑ ے بھا ئی سے ہو ئی تھی اس لئے وہ اپنے دیو ر اختر کے بار ے میں برداشت نہ کر سکی اور ابا جا ن سے گستاخانہ اندا ز میں تلخ کلامی شرو ع کر دی۔ جس کے نتیجے میں با ت بڑھ گئی اور پھو پھی جان اور تمہا ری بہن اٹھ کر چلی گئی ۔ وقت گزرنے کے سا تھ ساتھ ہمارے اور تمہا رے درمیان نفر ت اور دوری کی خلیجیں وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی ۔ اسی اثناءمیں اختر کے سا تھ تمہاری بہن کی منگنی بڑ ی دھو م دھا م سے ہو گئی….ہمارے گھرکا کوئی فرد اس تقر یب میں شا مل نہ تھا ۔ یہ منگنی تین چا ر سا ل رہی ۔ دو نو ں گھر انے بڑے زورو شور سے شا دی کی تیاریا ں کر رہے تھے اور ایک دوسرے کے گھر تم لو گ آتے جا تے رہے ….با لا آخر جب شا دی کی تیا ریا ں مکمل ہو گئیں تو اختر کے گھر والے تمہا رے ہا ں امبر کی شا دی کی تا ریخ لینے آئے ۔ نہ جا نے تمہارے گھر والو ں کے دل میں کیا تھا پھو پھی جان نے شادی کے لیے شرط عا ئد کر دی کہ چونکہ اختر کا بڑا بھا ئی احمد اور دیگر گھر والے ایک ہی گھر میں رہتے ہیں اور ان کے گھر کا ماحو ل اس قد ر خراب ہے کہ ہاں امبر کو نوکر بن کر رہنا پڑ ے گا ۔اس لیے امبر کی ڈولی اس گھر میں نہیں اترے گی اور نہ ہی وہا ں رہے گی ۔ اختر کو علیحدہ مکان لینا ہو گا خو اہ وہ کرایے کا کیو ں نہ ہو ….کتنی عجیب تھی تمہاری ماں کی سو چ ….بیٹی کو سسرال والوں سے گھل مل کر رہنے کا درس دینے کی بجا ئے علیحدہ رہنے پر زور دے رہی تھی ۔ شومئی قسمت کے اختر کے چچا کے دل میں شر وع ہی سے یہ خیال تھا کہ وہ اختر کا سنجو گ اپنی بیٹی سے جوڑ دیں ….چنانچہ انہوں نے اس مو قع پر پورا فا ئدہ اٹھا یا اور مختلف حیلے بہا نوں سے تمہا ری بہن امبر اور اختر کی منگنی ختم کر ڈالی ۔ دریں اثنا ہمارے اور پھو پھی جان کے گھر میں خو شی غمی کے مو قع پر کسی کو بھی ایک دوسرے کے گھر نہ بلا یا گیا ۔ جس کی وجہ سے نفر ت کی دیوار مزید بلند ہو گئی ۔

اختر کے گھر والو ں جب ہمارے اور پھو پھی جان کے اختلا فا ت دیکھے تو ہمارے گھر والو ں کو بہلا پھسلا کر اپنی لڑ کی کا رشتہ مجھے دیا ۔ اس و قت میں چھمب آرمی کینٹین پر کام کر تا تھا اور ان حا لات سے بالکل بے خبر تھا ۔ جب میر ی قسمت کا فیصلہ میری عدم موجودگی میں میرے بزرگو ںنے کر دیا تو مجھے چھمب میں والد صا حب کا خط ملا ۔ جس میں انہو ں نے میر ی منگنی کے با رے میں لکھا ہو ا تھا ….شمع یہ ٹھیک ہے کہ میر ے دل میں ایک تصو راتی پیکر تھا ۔ میر ی دھڑکینیں کسی اجنبی مگر مانو س نا م کا ورد کیاکر تی تھی ….مگر جب میں نے منگنی کے با رے میں پڑھا تو جانے کیو ں میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی ….انگ انگ میں نشہ سا چھا نے لگا ۔ شاید کسی کو شرعی طور پر اپنا نے کے اس پہلے بند ھن کا نا م ہی اتنا کیف آگیں ہے کہ مدتو ں سے ویران و سنسا ن دل کے آنگن میں بھی بہا ر اپنی تمام تر رعنا ئیوں سے آن مو جو د ہو تی ہے ….رگ رگ سے خمار چھلکنے لگتا ہے ۔ میں تجسس کے عا لم میں خط پڑ رہا تھا مگر جب خط ختم کیا تو جا نے کیو ں ایک تشنگی کا سا احسا س ہو ا ….تھو ڑی دیر قبل خو شی سے دھڑکنے والے دل میں ایک بے نام سی نفر ت ابھر نے لگی ….اور اعصا ب ڈھیلے ہو گئے ….شاید اس لیے کہ جس لڑکی سے میر ی منگنی ہوئی تھی وہ میرے معیار پرپوری نہیں اترتی تھی ۔ و یسے جس د ل میں تمہا ری خوبصورت تصویرمو جو د ہو اس دل کو بھلا کیسے کو ئی اور چہرہ پسند آجاتا ….میر ی خو شیو ں کے تا ج محل ریز ہ ریز ہ ہوگئے میں فو راً کاغذ اور قلم سنبھا لا اور والد صا حب کو صا ف صا ف لکھ دیا کہ چو نکہ یہ رشتہ میری مرضی اور میر ی پسند کے خلا ف ہو ا ہے لہذا مجھے یہ بندھن قطعاً نا منظور ہے ۔ میرے اس خط کے جو اب میں کیا طو فان اٹھا ….اورحا لا ت کس قد ر خر ا ب ہو گئے یہ ایک علیحدہ داستان ہے ….مختصر اً یو ں سمجھ لو شمع کہ مجھ خو شیو ں کے لا شو ں پر کھڑاکرکے والد ین نے اپنی مر ضی کی صلیب پر مصلو ب کر دیا ….میر ی تمنا ئیں لٹ گئیں ….آشا ﺅ ں کے دیپ بجھ گئے ….مجھے زبر دستی کسی اور کا شر یک ِسفر بنا دیا گیا البتہ میر ی ضد اور کو ششو ں کا نتیجہ یہ نکلا ….کہ والد ین نے میرے سا تھ یہ وعدہ کر لیا جونہی میراآئیڈل مل گیا میری دوسر ی شا دی کر دی جا ئے گی ۔ شاید میرے والد ین میرے اس جنو ن کو جوانی کی وہ ضد سمجھ بیٹھے تھے جو و قت گذرنے کے سا تھ سا تھ ختم ہو جا ئے گی مگر جن دلو ں میں بچپن سے ہی کو ئی تصو یر جا گزیں ہو تی ہے وہ مو ت کی وادیو ں تک اس آئیڈل کی تلا ش کر تے ہیں چنا نچہ میں بھی تمہاری تلا ش میں سر گر داں رہا ….بھٹکتا رہا ….آبلہ پا زندگی کے لق و دق صحر ا میں تمہیں ڈھو نڈتا رہا ….حتیر

کہ ایک سا ل کا عر صہ بیت گیا ۔ا س دوران ایک بچے کا با پ بھی  بن چکا تھا ۔ اسکے با وجو د میرے دل میں تمہاری تصو یر جا گزیں تھی ….شا ید اس لیے کہ محبت وہ اندھا اور بے اختیار جذبہ ہو تا ہے کہ جو نہ تو عمر کا فر ق دیکھتا ہے اور نہ ہی وقت ….محبت کا کو ئی مذہب نہیں ہو تا ہے ….محبت بذا تِ خو د ایک ایسا مذہب جو ہر مذہب میں اپنی انفر ادیت بر قر ار رکھتا ہے ….محبت وہ جذبہ ہے جو کبھی بو ڑا نہیں ہو تا ہے بلکہ سدا جوان رہتاہے بلکہ یو ں کہنا چا ہیے کہ محبت خد ا ہے ….

محبت انتہا ہے محبت بحرِبیکراں ہے ۔

ایک دن کا رو با ری سلسلے میں میر پور کوٹلی سے واپس لو ٹا تو اپنے ایک ر شتہ دار سے ملنے راولپنڈی چلا گیا ۔ مکان کو تا لا لگا دیکھ کر پڑو س کے ایک بڑے لڑکے سے در یا فت کیاتو پتہ چلا کہ وہ تمہاری بہن امبر کی شا دی میں شرکت کے لیے راولپنڈی ہی میں ایک دوسر ے محلے میں گیا ہو ا ہے ….اُف!و قت نے ہمیں ایک دوسرے سے کتنا دور کر دیا تھاکہ میر ی پیاری پھوپھی کی بیٹی کی شا دی تھی مگر ہم اس سے لا علم تھے ۔ پہلے تو سو چا کہ خود چلا جا ﺅ ں اور اپنی روٹھی ہوئی پھوپھی کے پاﺅں تھا م کر اسے منالو ں مگر یہ خیا ل کر کے ارادہ تر ک کر دیا کہ ہوسکتامیر ی وہا ں موجو دگی کسی ہنگا مے کو جنم دے دے ….تمہارے ہا ں نہ گیا مجھے اپنے اس رشتہ دار سے کام بھی بہت ضرور ی تھاورنہ ملے بغیر لوٹ آتا چنانچہ میں نے اس لڑکے سے کہا کہ وہ میر ے مطلوبہ رشتہ دار کو چپکے سے میر ا نا م بتا کر یہا ں بلا لا ئے ۔ خداجانے اس لڑکے نے وہاں جا کر کس اندازمیں میر ے اس رشتہ دار کے سامنے میر ا نام لیا کہ پھو پھی جان کے دل سے نفر ت کی وہ تمام سیا ہیاں دھل گئیں جنہو ں نے ہمیں ایک دوسرے سے کو سوں دور کر دیا تھا ۔ ….چنا نچہ تمہارے گھر سے کچھ عزیز آئے اور مجھے زبر دستی امبرکی شادی پر لے گئے ۔ جب میں تمہارے مکان کے قر یب والی گلی میں پہنچا تو ایک سر یلی اور میٹھی آوازنے میرے پاﺅں جکڑ لیے ۔ میں نے مڑ کر دیکھا ….ہاں شمع وہا ں تم کھڑی تھیں ….اپنی تمام تر حشر سامانیو ںسمیت ….مجھے یو ں محسوس ہو ا گویا زیست کے تپتے ہو ئے صحر امیں آبلہ پا بھو ک اور پیا س

سے تڑپ تڑپ کر بھٹکتے ہو ئے میں کسی ٹھنڈے اورمیٹھے چشمو ں والے نخلستا ن میںپہنچ گیا ہو ں ….میر ی بر سو ں کی تلا ش کی ریا ضت آج تمہا رے رو پ میں میر ے سا منے کھڑی تھی ۔ تمہا ری خو بصو ر ت اور گہر ی خمار آلو د آنکھو ں میں میرے پیا ر کے سو یرو ں کا مقد س نو ر تھا ….تمہار ی لا بنی لا بنی سیا ہ گھٹا ﺅ ں کی طر ح لہر اتی ہو ئی زلفیں شام کی ظلمت کا منظر پیش رہی تھیں اور ان گھٹا ﺅ ں کے درمیان تمہا را چاند سا چہرہ رات کی گود سے جنم لینے والے حسین سو یر ے کو شرما رہا تھا ….تمہا رے صبح عا رض پرچھا ئی ہو ئی سرخی دیکھ کر میں سو چ رہا تھا کہ شا ید شفیق پر چھا ئی ہو ئی سر خیا ل تمہارے عا ر ض کی رنگینی تم سے مستعا ر لے جا یا کر تی ہیں ۔ میر ی تلا ش ختم ہو گئی ۔ میر ی منزل مجھے مل گئی ….میر ا وہ آئیڈ ل جس کی میں برسو ں سے خو اب دیکھ رہا تھا آج تمہارے روپ میں سا منے کھڑا تھا ….تم نے بڑے ادب سے ہمیں سلا م کیا ….اور مجھے تمہا ری رسیلی اور دلکش آواز سن کر یو ں مجھے محسو س ہو ا گو یا کہ کسی مند ر میں بہت سی نقر ئی گھنٹیا ں بج اٹھی ہو ں ….یا پھر ….بر کھا ر ت میں آم کے پیڑو ں پر بو لنے والی کو کل اپنی سر یلی آواز میں بو ل رہی ہو ….میں ایک ٹک کھڑا تمہیں دیکھ رہا تھا ۔ وقت کی صتا بیں کھنچ گئی تھیں ….اور زمین کی گر دش ایک ہی جگہ تھم گئی تھی ۔ تم بھی اپنی معصو م اور خو بصورت آنکھو ں سے مجھے دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں ….نہ جا نے ہم کب تک وہا ں کھڑے ایک دوسر ے میں کھو ئے رہتے کہ تمہیں اپنی وار فتگی اورمیر ی دیوانگی کا احسا س ہو گیا اورتم ایک شرمیلی سی مسکر اہٹ کے سا تھ گھر میں داخل ہو گئیں ….میںبھی ان عزیز و ں کے سا تھ گھر میں داخل ہو گیا جو مجھے لے کر آئے تھے ….چو نکہ شا دی کی مصروفیا ت بہت زیادہ تھی اس لیے وہ میرے پا س تھو ڑ ی دیر بیٹھنے کے بعد چلے گئے ۔ میں خو د بھی اس و قت تنہا رہ کر تمہا رے حسین خیالو ں میں کھو جا نا چا ہتا تھا ۔ اس لیے ان کے جا تے ہی میں تمہارے خیا لو ں میں کھو گیا ….رہ رہ کر میر ی نظروں میں تمہا ر ا حسین سر اپا گھوم ر ہا تھا ….رات با رہ بجے جب شا دی پر آئے ہو ئے مہما ن کم ہو نے شرو ع ہو گئے تو سب گھر والے میر ے پا س آبیٹھے ۔ جن میں تم پیش پیش تھیں ۔ نہ جانے کیا کیا گلے شکو ے ہو ئے پھوپھی جان اور دیگر گھر والے کیا کچھ پو چھتے رہے اور میں کیا جواب دیتا رہا مجھے کچھ علم نہیں میں تو تمہا رے حسن میں کھویا ہواتھا ….اپنی برسوں سے پیا سی رو ح کی پیا س تمہاری دید سے بجھا رہا تھا ….تم بھی کنکھیو ں سے میر ی طر ف دیکھتے ہو ئے زیرٍ لب مسکر ا رہی تھیں ۔ تمہاری حسین آنکھو ں پر پڑی ہو ئی پلکو ں کی ریشمی جھا لر کے پیچھے سے خمار آلو د آنکھوں کی چمک میر ی محبت کی چغلی کھا رہی تھی ….میں دوسرے دن شا م تک تمہا رے ہا ں رہا ….اگر چہ میر ا دل وہا ں سے آنے کو قطعا ً نہ چا ہتا تھا مگر ا س ڈر سے کہ کہیںمیر ا وہاں زیا دہ دن ٹھہرنا تمہا ری رسو ائی اور میر ی محبت کی بد نامی نہ بن جا ئے میں نے دل پر پھتر رکھ کر تمہارے ہا ں سے آنے کی اجا زت چاہی ….اور سا تھ ہی سا تھ دو نو ں گھر انو ں کے تعلقا ت نئے سر ے سے استو ار کر نے کے لیے تمہارے سمیت تما م گھر انے کو اپنے گھر آنے کی دعو ت دے ڈالی ….میرے جانے کا سن کر تمہا را ہنستا مسکر اتا چہر ہ یکد م تاریک ہو گیا ۔ اگر چہ تم نے مجھے رو کنے کے لیے انتہا اصرار کیا تھا مگر مجھے اپنی خو شیو ں سے زیا دہ تمہار ی عزت عزیز تھی ۔ میں نہیں چا ہتا تھا کہ چند لحمو ں کے و صل کی خا طر ہمارے درمیان ابدی جد ائیا ں پڑ جا ئیں ….اس لیے میں نہ چا ہتے ہو ئے بھی تمہا ری عزت کی خا طر منگلا کی پتھریلی او نچی اور سنگلاخ چٹا نوں سے گھری ہو ئی کا لو نی میں چلا آیا ….میر ی نظر و ں میں ہر وقت تمہا ر ا خو بصو ر ت اور دلفر یب سراپا گھو متا رہتا اور میں تمہا رے تصور میں با تیں کر کے اپنا دل بہلاتا رہتا ….تمہاری بہن امبر کی منگنی پر اگر چہ ہمارے اختلافات کا فی بڑھے تھے مگر جب اس کی شا دی ہو ئی اور میں وہا ں گیا تو تمہا رے اورپھو پھی جان کے عمدے سلو ک سے یہ اختلا فا ت کم ہو تے نظر آئے ….شاید خو ن جو ش مارہا تھا ۔ میں ابا جا ن کو ایک طو یل خط لکھا جس میں امبر کی شادی میں شرکت کر نے تمہارے اور پھو پھی جان کے علا و ہ دیگر اہل خانہ کے اچھے سلو ک اور خلو ص کا ذکر کر نے کے سا تھ سا تھ پرانی با تیں بھو ل جا نے نیز نئے سر ے سے دو بارہ مل بیٹھنے پر کا فی زور دیا ۔ میں نے انہیں یہ بھی لکھا کہ میں نے پھو پھی جان اور دیگر اہل خا نہ کو گھر آنے کی دعو ت بھی دی ہے خط پوسٹ کر نے تین دن بعد مجھے اچانک کارو با ری سلسلے میں ننگلا سے با ہر جا نا پڑ ا ….تقر یباً ایک ہفتے کے بعد واپس آیا تووالد صا حب کا خط میرامنتظر تھا ۔ جس میں انہو ں نے میر ے جذ با ت و خیا لا ت کو سر اہتے ہو ئے بڑے مثبت انداز میں جواب دیا ہو ا تھا ۔ میر ا دل خو شی سے دھڑک اٹھا کہ اب ہمارے اور تمہارے اختلا فا ت ختم ہو نے کے سا تھ سا تھ میرے والد ین حسبِ وعد ہ میر ی پسند کے مطا بق میر ی تمہا رے سا تھ شادی کر دیں گے ….اسی شب میں نے تمہیںخط لکھا کہ پھو پھی جان سمیت تم سب تیا ر رہنا میں جلدہی راولپنڈی آﺅ ں گا ….اور ہم اکٹھے گھرچلیں گے ۔

تقر یباً  چھ سا ت روز بعد میں راولپنڈ ی گیا تمہارے گھر پہنچنے کے بعد جب میں نے دروازہ کٹھکھٹا یا تو تمہیں نے آکر دروازہ کھو لا ….نہ جانے میر ی نظر کا وہم تھا کہ یا حقیقت کہ تمہارے چہرے پر افسر دگی کی گہر ی گھٹا ئیں چھا ئی ہو ئی تھی ….بکھر ے بکھر ے سے گیسو ….پت جڑ کے مو سم میں سرد ہواﺅ ں سے جھڑ جانے والے در ختو ں کی مانند سو نے سو نے سے نظر آرہے تھے ۔ مجھے دیکھتے ہی یک لخت تمہارے چہرے پر چھا ئی ہو ئی اداسی دور ہو گئی ….اور تمہا ری آنکھو ں میں یوں خو شی کے دیپ جل اٹھے جیسے تمہیں قا رو ن کا خزانہ مل گیا ہو ۔

تم نے مسکر اتے ہو ئے میرا ہا تھ تھام لیا اور اندر کر سی پر بیٹھاکر تو لیے سے میر ا پسینہ پو نچھتے ہو ئے پنکھا جھلینے لگیں حا لانکہ بر قی پنکھا پو ری رفتا ر سے چل رہا تھا ۔

“شمع “رہنے دو تم کیو ں تکلیف کر رہی ہو میں نے تمہا رے ہا تھ سے پنکھا لیتے ہو ئے کہا ۔ جو اباً تم نے بڑے پیار سے کہا کہ ….آپ اسے تکلیف کہتے ہیں حا لا نکہ میر ا جی چا ہتا ہےکہ میں سا ری زندگی آپ کو پنکھا جھلتی رہو ں اور آپ یو ں ہی میرے سامنے بیٹھے رہے ۔

تمہارے اس جو اب سے میرے من میں خو شی کے دیپ جل اٹھے۔ میں نے سنجیدہ لہجے میں تمہا را ہا تھ تھا متے ہو ئے کہا ….سوچ لو شمع ….یہ راہیں بڑ ی تاریک ہو ا کر تی ہیں ۔ اس راہ میں قد م قدم پر سما ج کی بنا ئی ہو ئی رسمو ں کے وہ لا نبے لا نبے اور نو کیلے کا نٹے ہو تے ہیں ….جن پر چل کر شا زونا در ہی منز ل پر پہنچا جا سکتا ہے ….محبت کی منزل تک پہنچنے کے لیے ہر لحمہ آہو ں سسکیو ں اور اپنی حسر تو ں کے لہو کا نذار نہ دینا پڑتا ہے ….ہم اپنے مقد س پیار کے نور کی ر و شنی سے یہ تاریک راہیں رو شن کر لیں گے ۔ آپ کا سا تھ ہو تو میں ان پر خطر راہو ں کو خند ہ پیشا نی سے عبو ر کر لو ں گی ….تم نے ایک عزم سے کہا ….اور میر ے دل میں تما م چھائے ہو ئے خدشات حر فِ غلط کی طر ح مٹ گئے ۔

آپ پہلے کبھی مجھے جا نتے تھے ؟کچھ دیر کے تو قف کے بعدتم نے مجھ سے سو ال کیا ۔ “ہا ں “میں نے جو اباً  کہا ….میں تمہیں اس وقت سے جا نتا ہو ں جب یہ دنیا ابھی تا ر یک تھی ….آکا ش پر ہماری رو حیں یا ہم رہا کر تی تھیں ….اس و قت سے ہم ایک دو سر ے کے شنا سا ہیں ….

تم نے شر ما کر منہ پھیر لیا

اسی رات جب کہ کا ئنا ت محو خو اب تھی مگر میں جا گ رہا تھا ….نیند آنکھو ں سے کو سو ں دور تھی اور میں پلکیں بند کیے تمہارے خیا ل میں مگن تھاک تم چا ئے پکا کر لے آئیں ….میں تمہارے تصو ر میں اس قد ر محو تھا کہ مجھے تمہارے آنے کی خبر بھی نہ ہو سکی ….حتیٰ کہ تم نے آ کر میرا پیر گد گدایا تب بھی میراانہما ک نہ ٹو ٹا ….تب تم میر ے کا ن کے قر یب منہ لا کر شو خ سے لہجے میں بولیں ۔ کیو ں جنا ب !آپ تو ہمیں گھر لے جا نے کے لیے آئے تھے مگر کیا اب بے ہو ش ہو گئے ہیں ….؟

تمہار ا اندازانتا پیارا اور معصو ما نہ تھا کہ بے اختیار مجھے ہنسی آگئی اورمیں اٹھ بیٹھا ۔ لیجئے جنا ب چا ئے پیجئے ….تم نے چا ئے کا کپ میرے نزدیک کر تے ہو ئے کہا ۔ نہیں شمع میر ی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ….میں نے عذر کیا ۔ جس پر تم نے اپنے ہاتھ سے زبر دستی مجھے چا ئے پلا نی شر و ع کر دی ….آدھا کپ پینے کے بعد میں نے بقیہ نصف تمہیں پینے کے لیے کہا ۔ جس پر تم نے دوسر ے کپ کی جا نب اشارہ کرتے ہو ئے کہا کہ میں و ہ چا ئے پیو ں گی ….میں چا ئے سے اکتا چکا تھا اس لیے جب میں نے حیل و حجت کی تم نے اپنی قسم دے کر دوتٰین گھونٹ اور چائے پلادی ۔ اس کے بعدمیںنے بقیہ چائے تمہیں پینے کو کہا تم نے پھر انکا ر کر دیا ۔ جب میں نے تم کو اپنی قسم دی تو تم نے وہ فو راً  چا ئے پی لی ۔

دوسرے دن ہم گیا رہ بجے گھر جا نے کے لیے لا ری اڈے پہنچ گئے ۔میر ی خو شی کی انتہا نہ رہی یہ احسا س کتنا فر حت آگیں تھا کہ آج پھو پھی جان پرانی نفر تو ں کو ختم کر کے محبت کے دیپ ازسر نو رو شن کر نے ہمارے گھر جا رہی تھی ….اڈے پر کافی رش تھا گرمی بھی خا صی تھی ۔ میں نے سو زو کی و ین کا بندو بست کیا اور تمہار ی محبت میں سر شار پھو پھی جان سمیت ہم گھر کیطر ف روانہ ہو گئے ۔ تقر یبا ً پندرہ بیس میل چلنے کے بعد جب و یگن چھتر کے مقا م پر پہنچی تو وین کا ٹا ئر پنکچر ہو گیا ….وہا ں سے تر یٹ کا مقا م تقر یبا ً آدھا میل دور تھا ہم سب وہا ں تک پیدل گئے اور وہا ں پا نی پیا ۔ تمہیں یا د ہے نا شمع وہاں قر یب ہی ایک زیا رت ااور بہت بڑا قبر ستان تھا تم اور پھو پھی جان تو سو زوکی کی و ین کے نیا ٹا ئر لگنے تک وہا ں در ختو ں کے نیچے بیٹھ گئیں اورمیں ہر قبر کی طر ف دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں خد ائے بزرگ و بر تر کے خصو صی یہی دعا کر تا رہا کہ ….”اے پر وور دگار !اس شہر خمو شا ں میں جوکو ئی بھی تیرا محبو ب ہے اور بر گزیدہ بند ہ دفن ہے تو اسی کے صد قے مجھے شمع کی زندگی بھر کی ر فا قت بخش دے….”دیکھا تم نے شمع تجھے پا نے کا کتنا جنو ن تھا مجھ کو ….تم در ختو ں کے نیچے نہ جا نے کن سو چو ں میں گم بیٹھی تھی اور میں تمہارے ابد ی ملا پ کی دعا ئیں ما نگ رہا تھا ….تھوڑی دیر بعد ڈرائیو ر نے نیا ٹا ئر لگ جا نے کی اطلا ع دی اور ہم سوزو کی وین میں بیٹھ کر اپنی منز ل مقصود کی جانب چل پڑے ۔ با لا آخر ہم اپنی منز ل پر پہنچ گئے سڑک سے تھو ڑی دور ہی ہما را گھر تھا ۔ اس لیے ہم جلد ہی گھر پہنچ گئے ….مد تو ں کے بچھڑے ہو ئے جب دوبارہ مل جا ئیں تو بہار یں مسکرا اٹھتی ہیں ….اور زندگی میں چار سو کہکشا ں کے رنگ بکھر جا یا کر تے ہیں ….یہی حا ل پھو پھی جان اور ابا جا ن کا ہو ا تھا ۔ گلے شکو ﺅ ں کی گرد آلو د فضا جب چھٹ گئی تو اس نفر ت آلو د گرد سے محبت پیار اور خلو ص کا ایک رو شن اورچمکیلا سو یر ا طلو ع ہو ا ۔دوسر ے دن مجھے ایک ضرور ی کا م کے سلسلے میں کو ٹلی جا نا پڑا ۔ تمہیں پتہ چلا تو تم نے بجھے ہو ئے لہجے میں مجھ سے پو چھا:

“کب واپس آﺅ گے ؟”

میں نے تمہیں تسلی دیتے ہو ئے دوسر ی شا م تک لو ٹ آنے کا وعدہ کیا ۔ تمہا رے سا تھ ہا تھ ملا نے کے بعد میں سڑک کی طرف چل دیا ۔ تقر یبا ً آدھ فر لا نگ جا نے کے بعد یو نہی بے اختیار میں نے مڑکر دیکھا ….تم گلا بی ر نگ کا خو بصور ت لبا س پہنے اپنا نا زک ہا تھ ہلا ہلا کر الو دع کہہ رہی تھیں ۔ تمہارے دل کش چہرے پر حزن و ملا ل کے بادل چھا ئے ہو ئے تھے ….اور خو بصورت آنکھو ں میں آنسو ﺅ ں کے مو تی تیر رہے تھے ….میر ادل کٹ کر رہ گیا تھا جی چاہا کہ میں یہی سے واپس مڑ جاﺅ ں اور وہ ضرور ی کا م چھوڑکر تمہیں سینے سمیٹ کر دینا کے اس کو نے میں چلا جا ﺅ ں جہا ں نہ زمانے کے نشیب و فراز ہو ں نہ سماج کی اندھی رسمیں بس میں اور تم وہاں پیا ر کے گیت ایک دوسرے کی آغو ش میں گنگنا تے ہو ئے زندگی گذار دیں مگر میں ایسا نہ کر سکا ….اور کو ٹلی چلا گیا ۔

دوسرے دن صبح صبح کا م سے فار غ ہو کر بس کے ذر یعے راولپنڈی آگیا ….اڈے پر جنرل سٹور دیکھ کر خیا ل آیا کہ تمہارے لیے کو ئی تحفہ ہی خر ید لیا جائے ….یہ جنر ل سٹور کا فی بڑا تھا اور اس میں دینا جہا ن کی چیزیں پڑ ی ہو ئی تھی مگر میں تمہارے لیے کو ئی منفر د اور ایسا تحفہ خر ید نا چا ہتا تھا جوتمہیں پسند آنے کے سا تھ سا تھ میرے دلی جذبا ت کی عکا سی بھی کر سکے ….با لا آخر تلا ش بسیا ر کے بعد میں نے ایک ایسا لا کٹ کا انتخا ب کیا جس پر پروانہ بنا ہو ا تھا ….اس سے بہتر بھلا اور کیا تحفہ ہو سکتاتھا ۔تم میری محبت میر ی شمع تھیں اورمیں تم پر ایک پر وانے کیطر ح فد ا ہو جا نا چا ہتا تھا ….میں نے تحفہ خر ید کر جیب میںڈا ل لیا اورگھر جانے کے لیے بس میں بیٹھ گیا اور تمہارے خیا لو ں میں کھو گیا ….

میں سو چ ر ہا تھا کہ تم یہ تحفہ دیکھ کر بہت خو ش ہو گی ….اور محبت کی یہ خامو ش زبان سن کر اپنی چا ہتو ں کا دامن مکمل طور پر میر ے لیے واکر دو گی ….مگر ا س و قت میر ی تما م امیدو ں کے محل گر گئے جب میں نے اپنی الفت کا نذار نہ بڑے خلو ص اور بڑ ی امنگو ں سے تمہاری طر ف بڑھا یا تو تم چند منٹ سو چتی رہیں پھر ایک طو یل کے سا نس کے لے کر وہ تحفہ لے لیا ….جیسے کسی اہم فیصلے پر پہنچ کر تم نے یہ اقد ام کیا ہو ۔

کیابات ہے شمع!تحفہ پسند نہیں آیا ہے جو لیتے ہو ئے اتنا سو چا ….میں نے بڑے دکھ اور مایو س سے پو چھا ۔

“نہیں نہیں ….یہ با ت نہیں”

یہ تحفہ تو مجھے دل و جان سے عزیز ہے مگر ….تم نے بڑے عجیب انداز میں اپنی با ت کو ادھورا چھو ڑ دیا ….میر ے بے حد اصر ار پر تمہارے منہ سے صر ف اتنا نکلا کہ ….راولپنڈ ی میں چل کر بتا ﺅ ں گی ….

تمہا ر ا متغیر چہر ہ اور لڑکھڑاتی ہو ئی چا ل بتا رہی تھی کہ کوئی بہت ہی عظیم سا نئحہ رو نما ہو چکا ہے ….تمہار ی   خوبصو رت آنکھیں ڈبڈبا ئی ہو ئی تھیں اور دل نشین چہرے پر حزن و ملا ل کی پر چھا ئیا ں لر ز رہی تھیں ….میں نے جتنا تمہیں کر یدنے کی کو شش کی تمہا ری پر یشانی اور افسر دگی اتنی ہی گہر ی ہو تی چلی گئی ۔ با لا آخر میں نے یہ سو چ کر کہا شا ید کسی و جہ سے زبا ن تمہا را سا تھ نہ دے رہی ہو ۔ اس لیے میں نے قلم کا سہار ا لے کر مختصر اً تمہاری پر یشا نی کا سبب دریا فت کر نا چا ہا جس میں لکھا تھا کہ اگر تم کسی و جہ سے میری محبت سے اکتا گئی ہو تو صا ف صاف بتلا دو تا کہ تمہارے خو بصو ر ت چہرے پر چھا ئی ہو ئی افسر دگی یا سی اور پر یشانی کے لز ر تے ہو ئے سا یے مٹا ڈالنے کی خاطر میں وہا ں سے دور بہت چلا جا ﺅ ں ….لیکن اس وقت میر ی حیر ت اور پریشانی میں اور بھی اضا فہ ہو گیا کہ جب تم نے کا غذ کا وہ ٹکرا لینے سے پس و پیش کر تے ہو ئے کہاکہ یہ خط بھی راو لپنڈی جا کر لو ں گی ….تمہارے سر د رویے نے میر ی محبت کا تاج محل بھی گرا دیا جسے میں نے بر سو ں کی محنت سے تعمیر کیا تھا ۔ اس تا ج محل میں میر ی خو شیوں میر ی امیدو ں میری چا ہتو ں میر ی امنگو ں اور میرے خلو ص کی دھنک بکھری ہو ئی تھی ….میں نے بڑے چا ﺅ سے اس تا ج محل کو اپنی خو اہشات کے معطر پھو لو ں سے سجا یاتھا ….مگر تمہا رے اس روز کے رویے نے مجھے اس حد تک مایو س کر دیا کہ میں نے دل ہی دل میں یہ عہد کر لیا کہ میں اپنی محبت کو اپنے ہی ہا تھو ں سینے کی گہرائیو ں میں دفن کر لو ں گا ….میں اس تصو ر کو حر فِ غلط کی طر ح مٹا دو ں گا جسے بچپن ہی سے میں نے دل کے مندر میں سجا یا ہو ا تھا ….مگر تمہارے خو اب دیکھنے کی ہر گز ہر گز کو شش نہیں کر و ں گا ….کتنا نا دان تھا میں بھی….بھلا محبت اتنا ہی کچا رشتہ ہو تا تو نہ فر ہا د پہاڑو ں کا سینہ چیر کر جو ئے شیِر لا تا اور نہ ہی سو ہنی کچے گھڑے پر چنا ب کی بپھری ہو ئی مو جو ں کا سینہ چیر کر اپنے محبو ب مہینوا ل کو ملنے کی کوشش کر تی ….نہ رانجھا اپنی ہیر کی خا طر اپنے کا ن چھدواتا اور نہ ہی اختر شیر وانی اپنی سلمے ٰ کے فر اق میں عہِد شبا ب میں مو ت کو گلے لگا لیتا ….محبت و ہ شر اب ہے جس کا نشہ ساری زند گی نہیں اتر تا ….محبت و ہ کند تلو ار ہے جس پر ساری عمر انسان تڑ پتا رہتا ہے مگر اسے موت بھی پناہ نہیںدیتی ….بلکہ یو ں کہنا چا ہئے کہ محبت وہ زہر یلا جام ہے جو اگر ایک دفعہ ہونٹو ں کو چھو جا ئے تو یہ نو کیلے کا نٹے کی پھانس کی طر ح ساری زندگی ایک خلش بن کر دل میں جا گزین رہتا ہے ۔

یہی حا ل میر ا بھی ہو ا ۔ تم تے تر کِ محبت کا فیصلہ تو میں نے کر لیا تھا مگر اس کا اثر میر ے ذہن میرے دل اور میرے جسم پر اس قد ر شد ید ہو گیا کہ مجھے بخار نے آن گھیر ا ….بخار بھی اتنا شدید کہ میرے ہوش و حواس جو اب د ے گئے ….اور بے ہوشی کی اتھا ہ گہر ائیو ں میں ڈو بتا چلا گیا ….ڈاکٹرو ں کی بے پنا ہ کو ششو ں ‘اور گھروالوں کی دعا ﺅ ں اور مسلسل تیما داری سے جب مجھے ہو ش آیا تو میَں نے دیکھا کہ تم میر ا سر دبا رہی تھیں ۔ تمہا ر ی خو بصو ر ت آنکھو ں سے آنسو ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے ۔ میر ے سینے میں کو ئی چیز چھنا کے سے ٹو ٹ گئی ….تم جو میر اآئیڈ ل تھیں ….پیار تھیں ….تمہا ری خا طرمیں اپنے سب تو کیا ‘یہ دنیا بھی چھو ڑ سکتا تھا ….بھلا تمہا ر ی آنکھو ں میں آنسو کیسے دیکھ سکتا تھا اور کیسے بر ادشت کر لیتا ….میں نے بڑ ی نقا ہت سے اپنی جیب سے رو ما ل نکا ل کر تہما ری حسین اور پر ُخمار آنکھو ں سے گر تے ہو ئے گو ہر نا مدار اکٹھے کرنے لگا ۔ میر ے تند ر ست ہو نے پر ہما ر ا و اپس راو لپنڈ ی جا نے کا پروگر ا م بنا ….ہم ایک” سو زو کی کی و ین “کے ذریعے مر ی آئے او ر وہا ں سے بذر یعہ و یگن راو لپنڈی پہنچے ۔ تمہاری بڑ ی بہن کے گھر پہنچ کرہم نے کھا نا کھا یا ۔ وہیں پر میرے بے پناہ انکار کے با و جو د میرے کپڑے استری کیے ‘قمیض کے با زو ﺅ ں پر بٹن ٹانکے ‘اور میلے کپڑ و ں کو دھو یا گیا….وہ ر ات تمہار ی بہن ہا ں گذار کر دوسرے د ن تمہا رے گھر گئے ۔ کچھ دیر کے بعد تم “البم “اٹھا لا ئی ….جس میں پورے خاند ان کی تصویریں تھیں ۔ جن میںاکثر شا دی و غیرہ کے گرو پ فو ٹو تھے ۔ ایک تصو یر تمہا ری اورامبر کی تھیی ۔ مختلف اور اق پلٹنے کے بعد البم کے آخر ی صفحے پر تمہاری تصویر تھی جس میں تم کسی یو نانی سنگتر اش کے حسین مجسمے کی طر ح لگ رہی تھیں ۔ تمہارے خو بصو رت ہو نٹو ں پر ایک دلفر یب مسکر اہٹ پھیلی ہو ئی تھی….آنکھو ں میں پیا ر کا طو فان تھا ….بلا شبہ و ہ اس فو ٹو گر افر کی فنی صلا حیتو ں کا اچھو تا شاہکار تھا ۔ میں نے تم سے وہ تصو یر ما نگی تو تم نے ایک    ٹھنڈ ا سا نس لے کر بڑے بجھے ہو ئے دل سے کہا

“اب یہ سب کچھ فضو ل ہے “میں اس فقر ے کو سنکر یو ں اُچھلا جیسے کسی بچھو نے ڈنک مار اہو ۔ دما غ سا ئیں سائیں کرنے لگا ۔ مجھے یو ں محسو س ہو رہا تھا گویا کسی نے میر ا دل مُٹھی میں لے کربھنیچ ڈالا ہو ….”شمع”….میں نے بڑ ی مشکل سے خو د پر قا بو پاتے ہو ئے تمہیں کچھ با تو ں ک و ضا حت کے لیے کہا تھا تو تم نے کہا تھا کہ میں روالپنڈ ی چل کر جو ا ب دو ں گی ….آج تصویر کی با ت پر جس انداز میں تم نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے کیا تم اس چیز سے پر دہ نہیں ہٹاﺅ گی….اپنی تما م مجبو ر یا ں عیا ں کر دو ‘جو میری او ر تمہاری راہ میں روڑے اٹکا ئے ہو ئے ہیں ….تب تم نے وہ روح فر سا انکشا ف کیاکہ میں تڑ پ اٹھا ۔ میری رو ح کے زخم جو تمہارے پیار کی مر ہم سے مند مل ہو چکے تھے ۔ ازسِر نو ر سنے لگے ….میر ی دنیا ویران ہو گئی ۔ میں اپنی تمام متا عِ زیست ہار گیا ….تم نے اشکبار آنکھو ں سے یہ روح فر سا انکشا ف کیا کہ تمہا ری منگنی تمہارے محلے ہی کے ایک لڑکے شبیر سے ہو چکی ہے ‘حا لا نکہ شبیر کو میں اچھے طر یقے سے جانتا تھا ….اس میں کو ئی ایسی ما لی یا ظا ہر ی خوبی نہیں تھی ‘جس کی بد و لت تمہا ر ا سجو گ اس سے جو ڑا جا تا ….میں نے شکستہ دل سے ہارے ہو ئے جو ار ی کی طر ح آخری امید کے تحت تم سے پو چھا:

“اگر یہ ر شتہ تمہاری مر ضی سے طے ہو ا ہے تو میں تمہار ی خو اہش کے احتر ا م میں یہاں سے دُور چلا جا ﺅ ں گا ….لیکن اگر کسی مجبو ری نے تمہاری قد م میر ی جانب بڑ ھنے سے رو ک رکھے ہیں تو یقین کر ناتمہاری خا طر میں دنیا کی ہر رکا و ٹ کو خس و خا شاک کی طر ح رو ند ڈالو ں گا “….تب تم نے بڑ ے بجھے ہو ئے دل سے بتا یا کہ اگر چہ میں حا لات کے تحت مجبور ضرو ر ہو ئی ہوں ….مگر ….تم ہمیشہ میر ی نس نس میں سما ئے رہو گے ….اس کے بعد کیا ہو ا….؟مختصر اًیو ں سمجھ لو کہ تم میر ی محبت کا بھی دم بھر تی رہیں ….اورشبیر سے بھی نا طہ نا تو ڑ سکیں ۔ میں تمہارے پیار کے حسین خو اب دیکھتا رہا ….تمہیں پوجتا رہا ….مگر ….آج تمہار ا اور تمہارے منگیتر کا خط ملا ہے ‘جس میں تم نے کھلم کھلا اس چیز کا اعتر اف کیا ہے کہ تمہیں صر ف شبیر سے محبت ہے بلکہ شبیر نے تو یہا ں تک بھی لکھ دیا ہے کہ….گلزار صاحب !میرے بازو ﺅں میں اتنی طاقت ہے کہ میں اس کی طر ف بڑ ھنے والے ہر ہا تھ کو تو ڑ سکتا ہوں”

شمع….شبیراگر تمہار ا منگتیر نہ ہو تا تو میں اس کے بازو ﺅں کی طا قت کو ضرور آزماتا ۔ میں اگر اسے زندہ زمین میں دفن نہ کر دیتا تو پھر با ت ہو تی ….مگر میں کیا کرو ں ‘وہ تو تمہار ا منگتیر ہے اور ….شا ید تم اس سے محبت بھی کر تی ہو ….خد ا کے لیے شمع سچ بتلا دو ‘کیا و اقعی تم شبیرکو ہی چا ہتی ہو یا مجھ سے پیارکر تی ہو ….اگر تمہیںمجھ سے پیار ہے ….تو آﺅ میر ی رو ح کے زخمو ں کا مر ہم بن جا ﺅ ….اوراگر تمہیں مجھ سے نفر ت ہے تو اپنی یادو ں کے نقو ش بھی مجھ سے چھین لو ….اس لیے کہ میں نے یہ تہییہ کر لیا ہے کہ جس دن میں تمہاری دہلیز کے سامنے خو دکشی کر لو ں گا ‘تاکہ میر ی رو ح کے زخم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مند مل ہو جائیں ….یہ میر ا فیصلہ ہے ٹھو س اور اٹل فیصلہ ….

٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں