99

” محبت “

پچھلے دنوں ایک اچھے ہسپتال جانے کی کوشش میں ہم ٹریفک جام میں پھنس گئے تھے, یہ پانچ سال پہلے کی بات ہے, کار کی پچھلی سیٹوں پر میری وائف شین خود پر ضبط کرنے میں کامیاب تھی مگر میں ناکام تھا کہ میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا,,, یہ سوچ کر کہ اگر ہمیں راستہ نہ ملا تو پھر کیا ہو گا,,

اس بار میں اسے شہر کے قریب ترین ہسپتال میں لے گیا,, صبح کے چار بج رہے تھے

وہ زچہ بچہ وارڈ میں چلی گئی,, میں وارڈ کے باہر ہی کھڑا رہا,, انتظار گاہ میں جا کر بیٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا,, اور اس وقت ہسپتال میں,, سختی,, بھی نہیں تھی کیونکہ بیشتر عملہ سو رہا تھا,
شین بیس منٹ کے بعد باہر آگئ
کہنے لگی,, ڈاکٹر نے زیادہ سے زیادہ چلنے کا حکم دیا ہے,,
میں نے اندازاً پوچھا,, تو گویا تمہارا وقت پورا ہو چکا ہے,,
وہ میرے ذو معنی جملے پر مسکرائی اور راہداری میں اس کونے سے اس کونے تک چلنے لگی,
پھر دیکھتے ہی دیکھتے دو کیس اور آگئے جس میں ایک تو درمیانی عمر کی خاتون تھی اور دوسری,,,,,,

دوسری نے مجھے حیران کر دیا,,
وہ اتنی چھوٹی سی لگ رہی تھی,,
میں نے حیرت سے دیکھا کہ کیا واقعی وہ بھی پریگنینٹ ہے ؟
وہ ایک بڑی سی چادر میں لپٹی ہوئی تھی اور یقینًا تھی,,

میرے حساب سے تو ابھی اس کی شادی بھی نہیں ہونی چاہیئے تھی,, خیر مجھے کیا,,,
جب وہ دونوں کیس بھی راہداری میں آکر چلنے لگے تو مجھے شرم آئی اور میں باہر جا کر انتظار گاہ میں بیٹھ گیا
ٹھیک ایک گھنٹے بعد جب میں دوبارہ اندر گیا تو دور کسی مسجد سے سلام پڑھنے کی آواز آ رہی تھی,, گویا فجر کی نماز ادا ہو چکی تھی

میں نے دیکھا وہ ابھی تک چل رہی ہے,, اس کے چہرے پر پریشانی تکان اور درد کے تاثرات ہیں, میں اسے کچھ دیر ایک ستون کی اوٹ سے دیکھتا رہا, مجھے اس پر بڑا ترس آیا,, ایسی حالت میں اتنا بوجھ لے کر چلنا ظاہر ہے آسان تو نہ ہو گا
جب میں اس کے سامنے گیا تو اس نے چہرے سے فالتو تاثرات فورا اڑا دیے اور لبوں پر مسکراہٹ سجا لی
میں نے کہا,, کیا ہوا,,, بیٹھ جاؤ نا اب,,
بولی, نہیں. ذرا دیر کے لیے بیٹھ گئی تھی تو لیڈی ڈاکٹر نے اندر سے آکر ڈانٹا کہ اس وقت تمہارے لیے زیادہ سے زیادہ چلنا ہی بہتر ہے ورنہ بے بی کو نقصان ہو سکتا ہے

میں کچھ دیر تک وہاں کھڑا رہا پھر دوبارہ انتظار گاہ میں آکر بیٹھ گیا
صبح جب سورج نے سر نکالا تو میں نے بھی نیند سے بوجھل آنکھوں پر پانی کے چھینٹے مارے اور اندر جا کر معلومات حاصل کیں,, ہسپتال میں گہما گہمی شروع ہو چکی تھی
مجھے یہ جان کر ہرگز خوشی نہیں ہوئی کہ میرے بعد آنے والے دونوں کیس فارغ ہو کر جا چکے ہیں,, کچھ مایوس ہو کر میں نے سوچا کہ میرے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوتا, کیا اس بار پھر مجھے غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے ؟
جب میرا رابطہ شین سے ہوا تو اس نے کہا, ہاں کچھ پیچیدگیاں ہیں, ایک سینیئر لیڈی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تمہیں شام تک دیکھیں گے اس کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے,

میں ڈر گیا کیونکہ وہ گورنمنٹ ہوسپٹل تھا اور میں جانتا تھا کہ وہاں زیادہ دیر تک کسی کو,, دیکھا,, نہیں جاتا,,, کاٹو کاٹ کر کے پرے پھینک دیا جاتا ہے اور پھر,, نیکسٹ,, کی آواز لگائی جاتی ہے,,
میں ایک اثر و رسوخ والے کو پکڑ لایا, اس نے ہسپتال انتظامیہ کو تنبیہ کی کہ یہ کیس نارمل طریقے سے ہونا چاہیئے,,,

نارمل کے چکر میں دوسرا دن بھی گزر گیا,, شین لبوں پر مسکراہٹ سجائے مجھ سے ملنے آتی رہی

تیسرے دن ایک بزرگ ڈاکٹر مجھے ایک کونے میں لے گئے
تم کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے ڈانٹنا شروع کیا.,, تمہیں کچھ اندازا ہے کہ وہ کتنی تکلیف میں ہے آج تیسرا دن ہے اگر آج بھی ہم نے آپریشن نہیں کیا تو زہر پھیل سکتا ہے, تم آپریشن کی اجازت کیوں نہیں دے رہے

میں نے کہا ڈاکٹر صاحب میں آپریشن سے خوفزدہ ہوں میرے دل میں پتہ نہیں کیوں یہ وسوسہ بیٹھ گیا ہے کہ اگر اس کا آپریشن ہوا تو وہ مر جائے گی

مر تو وہ ویسے بھی جائے گی,, ڈاکٹر نے کہا,, وہ تین دنوں سے تکلیف میں مبتلا ہے شاید اس نے تم سے کہا نہیں
پھر وہ مجھے دیر تک سمجھاتے رہے,, اور میں نے حامی بھر لی,,

دس منٹ بعد شین میرے پاس آئی اس نے دو عدد پیپرز میری طرف بڑھائے جس پر مجھے سائن کرنے تھے
جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو میرا دل چاہا اسے گلے لگا لوں مگر اس کے برعکس,,
یہ کیا ہے ؟ میں نے یونہی پوچھا اور سائن کرنے کے لیے جیب سے پین نکالنے لگا
شین زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے اور ہوتی بھی تو اسے میری طرح تجسس نہ ہوتا
میں نے پیپرز کے مندرجات پڑھے اور چپ چاپ سائن کر کے اس کے حوالے کر دیے

اس نے ایسے ہی سرسری پوچھا,, اس میں کیا لکھا ہے ؟
میں نے کہا,, چھوڑو,, تم جاؤ
وہ چلی گئی,,,
میں اسے کیسے بتاتا کہ اس پر لکھا ہے کہ اگر دوران آپریشن تم ایکسپائر ہو جاؤ تو اس کی ذمہ داری ہسپتال انتظامیہ پر عائد نہیں ہوگی,,
میں اسے کیسے بتاتا کہ میں دستخط تو کر رہا ہوں مگر میرے دل سے کیسی کیسی دعائیں نکل رہی ہیں تمہارے لیے,, میں اسے کیسے بتاتا کہ اگر تم نہ رہو گی تو میں تمہارے بغیر جیتے جی مر جاؤں گا,,

پھر ایک دن ہم دونوں ایک تفریح گاہ میں بیٹھے تھے اور ہمارا پیارا سا بچہ اپنے ننھے ننھے قدموں سے ادھر ادھر بھاگ رہا تھا, کھیل رہا تھا, ہنس رہا تھا,, اس کی معصوم شرارتیں دیکھ کر دیگر فیملی والے بھی محفوظ ہو رہے تھے.
وہ ہر کسی کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا
میں نے شین کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا,, دیکھو ہمارا بے بی کتنا پیارا ہے

اس نے اس تعریف سے خود پر فخر محسوس کیا اور کہا,, ہاں,, کیوں کہ اس کے ابو بہت پیارے ہیں اور اپنوں سے بہت محبت کرتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں