57

بھائی بس، چکر آگیا تھا!

میں پچھلے ایک گھنٹہ سے چوک میں کھڑا اپنے ایک دوست کا انتظار کر رہا تھا اور یہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اُس چوک میں ہونے والا دوسرا حادثہ تھا۔ سب لوگ اُس نوجوان موٹر سائیکل سوار کے گرد جمع تھے جو سڑک کنارے کھڑی ایک گاڑی سے ٹکرا گیا تھا، اُس کے چہرے پر خراشیں کم اور شرمندگی زیادہ دکھائی دے رہی تھی۔

’’بس بھائی! چکر آگیا تھا، کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا۔‘‘

اُس نوجوان نے گاڑی کے مالک سے معذرت کرتے ہوئے کہا۔

میرے لیے یہ بات حیران کن تھی، کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے جس شخص نے اپنی موٹرسائیکل کی ٹکر سے بیچارے ایک راہگیر کو زخمی کیا تھا، اُس نے بھی اپنے ٹکرانے کی بالکل یہی وجہ بیان کی تھی کہ

’’چکر آگیا تھا، کچھ سمجھ نہیں آیا۔‘‘

شرمندگی اُس کے چہرے پر بھی عیاں تھی، ورنہ عام طور پر تو کوئی اپنی غلطی ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا اور قصور وار ہمیشہ دوسرے کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے کہ

’’اندھے ہو کیا؟ نظر نہیں آرہا تھا کہ سامنے سے بائیک آرہی ہے۔‘‘

یا

’’یہ کوئی جگہ ہے گاڑی پارک کرنے کی؟ کیا سڑک اپنے باپ کی سمجھی ہوئی ہے کہ جہاں دل چاہا گاڑی کھڑی کردی۔‘‘

ابھی میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ ایک گاڑی بے قابو ہوکر کھمبے سے ٹکرا گئی، میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح فوراََ گاڑی کی طرف بھاگا۔ کار کا تو کافی نقصان ہوا مگر اللہ کا شکر کے گاڑی میں بیٹھے تمام افراد بالکل محفوظ رہے۔

’’بس بھائی! کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا؟ شاید چکر سا آ گیا تھا۔‘‘

اُس نے بھی میرے پوچھنے پر شرمندگی چھپاتے ہوئے بالکل وہی جواب دیا جو پہلے دو نے دیا تھا۔ میرے لیے یہ سب خوفناک حد تک نا قابلِ یقین ہو چلا تھا۔ برمودا ٹرائی اینگل کے متعلق تو آج تک صرف پڑھا ہی تھا مگر یہ سب جو نظروں کے سامنے ہو رہا تھا، وہ میرے لیے برمودا ٹرائی اینگل سے بھی بڑا معمّہ تھا۔

’’بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ سب کو اسی چوک میں آکر چکر آجائے، کیا اس چوک پر جنوں بھوتوں کا بسیرا ہوگیا ہے یا پھر یہ چوک ہی منحوس ہوگیا ہے؟ پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔‘‘

میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے دوست کی آواز آئی۔

’’چلیں؟‘‘ وہ بائیک پر تھا۔

میں دو گھنٹوں سے یہاں تمھارا انتظار کر رہا ہوں، اور تمھارا موبائل بھی مسلسل آف جا رہا ہے۔ میں اُسے دیکھتے ہی غصّے سے چلّایا۔

بس یار! میں تو یہاں طے شدہ وقت سے پہلے ہی پہنچ گیا تھا، مگر یہاں آتے ہی ایکسیڈنٹ ہوگیا۔‘‘

اُس نے ہاتھ پر بندھی پٹی دکھاتے ہوئے کہا۔

’’اسی چوک پر؟‘‘

اُس نے اثبات میں سَر ہلایا تو میری آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

’’اب پلیز یہ نہ کہنا کہ تمہیں بھی چکر آ گیا تھا۔‘‘

میں نے جھنجھلاہٹ سے کہا۔

ہاں یار! کہنا تو میں نے یہی تھا مگر اب تم سے کیا چھپانا،

دراصل سارا قصور اُس کم بخت کا تھا۔‘‘

اُس نے سامنے لگے ایک بڑے بل بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں ایک ماڈل کسی مشہور کمپنی کی لان کی تشہیر کچھ اس انداز سے کرتی نظر ا رہی تھی کہ شرم بھی شرم سے ڈوب مرے۔

اس طرح کے بل بورڈز سے تو پورا شہر بھرا پڑا ہے، اور ابھی جیسے جیسے گرمی میں شدت آتی جائے گی ویسے ویسے مزید ہوش ربا بل بورڈز سامنے آتے جائیں گے، پھر کیا بنے گا؟‘‘ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔

’’گورے کہتے ہیں کہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بس 2 سیکنڈز کے لیے نظر اِدھر اُدھر ہوجائے تو سمجھو ایکسیڈنٹ ہوگیا، اب اس میں ہم بیچاروں کا کیا قصور۔‘‘

اُس نے ہنستے ہوئے اپنی صفائی پیش کی۔

اگلے دن یونیورسٹی گیا تو فزکس کے پروفیسر معاشرے میں پھیلی بے حیائی پر لیکچر دے رہے تھے۔ کلاس سے فارغ ہوکر باہر نکلا تو میں نے محسوس کیا کہ پروفیسر صاحب کو چلنے میں تھوڑی دِقت پیش آرہی ہے، میں نے از راہِ ہمدردی خریت دریافت کرلی۔

’’کیا بتاؤں بیٹا! کل گھر واپس جا رہا تھا کہ ایکسیڈنٹ ہوگیا۔‘‘

پروفیسر صاحب نے ٹانگ پر لگا زخم دکھاتے ہوئے کہا۔

’’یقینا چکر آگیا ہو گا، سر؟‘‘

میں نے معصومیت سے پوچھا۔

’’ہاں بیٹا! بس کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔‘‘ پروفیسرصاحب نے شرمندگی چھپاتے ہوئے جواب دیا کہ اب اس آفت سے کوئی بھی تو محفوظ نہیں رہا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں