61

ہے کوئی نجی جامعات سے پوچھنے والا؟

چند روز قبل ایک ایسا واقعہ رونما ہوا، جس نے سوچ کا رخ مختلف سمتوں میں موڑ دیا ہے۔ کراچی کے ایک نجی یونیورسٹی کے طالب علم کی خود کشی نے جہاں والدین اور احباب کو غمگین اور کرب میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں اس اقدام خودکشی نے نظام تعلیم اور خصوصاً نجی جامعات کی ساکھ  سے متعلق بہت سے سوالوں کو بھی جنم دیا ہے۔ طالب علم کی خود سوزی کے پس پردہ محرکات کی چھان بین ابھی جاری ہیں لیکن اس خود سوزی کے بعد جن خیالات نے میرے ذہن میں جگہ بنائی یقیناً ایسا ہی آپ سب کے ساتھ بھی ہوا ہوگا۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں نوجوانوں کی تعداد کل آبادی کا 40 فیصد ہے، بیشتر تو تلاش ِ معاش میں الجھ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کر ہی نہیں پاتے، اور جو تعداد اس سطح تک پہنچتی ہے وہ بھی نشستوں کی کمی اور ناقص و پیچیدہ داخلہ جاتی کارروائیوں کے سبب سرکاری جامعات میں داخلہ حاصل نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے نجی جامعات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کی لاپرواہی اور طلبا کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا سرمایہ دار طبقہ نے اور تعلیم کے شعبے کو بھی کاروبار کا ذریعہ بنا لیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں جامعات قائم ہوگئیں، جہاں بھاری بھرکم رقومات ہر سیمسٹر پر طلبہ سے اینٹھی جاتی ہیں۔

تعلیم کے نام پر جاری اس منافع بخش کاروبار کو روکنے میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا کوئی کردار نظر نہیں آتا کیونکہ ایسے بییشتر واقعات ہیں کہ لاکھوں روپوں کی ادائیگی کے بعد  جب ڈگری لینے کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ لاکھوں روپے جس تعلیمی سند کے حصول کیلئے لٹائے جا چکے وہ تو سرکار کی جانب سے تصدیق شدہ ہی نہیں، اور اس ڈگری کی وقعت کاغذ کے ٹکڑے سے کچھ زیادہ نہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق تقریباً 173 ایسی جامعات ہیں جو حکومت کی جانب سے منظور شدہ نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ بھی ایسے بہت سے ہتھکنڈے ہیں جن کے ذریعے پیسہ کھینچا جاسکتا ہےاور جا رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی ڈگری پر طالب علم کا پورا مستقبل انحصار کرتا ہے، اور اس کی پروفیشنل زندگی کی کامیابی بھی ڈگری کی متقاضی ہوتی ہے، میڈیکل، انجنئیرنگ، کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے، یہ اسناد اس وقت  لوگوں کی ضرورت بن گئیں جب سرکاری و نجی ملازمتوں اور پروموشنز کے لیے ان ڈگریوں کی شرط عائد کر دی گئی۔ اس ضرورت کا سب سے زیادہ فائدہ بھی نجی یونیورسٹیز نے اُٹھایا اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کے پارٹ ٹائم  پروگرام متعارف کروائے گئے۔

اور جب جامعات کا حال ایسا ہو تو پھر اساتذہ کیوں پیچھے رہیں؟ تو بھائی انہوں نے بھی اس کمائی مہم میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ ذاتی تجربات کی بنا پر میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مختلف نوعیت کے اسائنمنٹس اور خاص کر تھیسسز کی تیاری کے مرحلے میں سپر ویژن کی آڑ میں خوب جیب گرم کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ اگر زیر شامت محقق کا تعلق صنف مخالف سے ہو تو پھر مطالبات کی نوعیت مختلف بھی ہوسکتی ہے۔

ان سب وجوہات کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ کافی حد تک نجی جامعات تعلیم کے پس پردہ اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف ہیں۔ اور حکومت کی بے توجہی کے باعث افسوس کہ پاکستان کی جامعات کا معیار عالمی سطح پر پست ہے، اس سلسلے میں ماہر تعلیم اور طبعیات کے محقق ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام مضبوطی سے کافی دور ہے۔ اندازے کے مطابق 40 فیصد طلبا میٹرک، انٹر، اور یونیورسٹی کے امتحانات میں نقل کرتے ہیں۔ اساتذہ بھی دکانداروں، پولیس اہلکاروں، سیاستدانوں، ججوں، اور جنرلوں سے زیادہ اخلاقی نہیں ہیں۔ ریسرچ پیپرز کے مصنفین اور پی ایچ ڈی سپروائزرز کو پروموشن اور کیش انعامات دینے کی پالیسی نے ہماری جامعات کو کچرا ریسرچ پیپرز اور پی ایچ ڈیز پیدا کرنے والے اداروں میں تبدیل کردیا ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور حکومت ذرا غفلت کا پردہ آنکھوں سے ہٹائے، ایک طالب علم کی خود سوزی جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے کہ ان وجوہات کو سامنے لایا جائے جو تعلیم کو کمانے کا دھندا سمجھے ہوئے ہیں، طالب علم، ان کا مستقبل، جذبات ان کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ پیسہ بٹور کر ایک ڈگری کا ٹھپہ لگائے شخص معاشرہ کو دینا ہے، اس کی تخلیقی صلاحیتوں، شعوری تعمیر اور انسانی ہمدردی سے ان نجی اداروں کو کوئی سروکار نہیں ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں