54

نو سو چوہے ’حج‘ پر گئے

سنا ہے جب سے چوہوں کے دام لگے ہیں، چوہوں نے بلوں میں پناہ لے لی ہے، لیکن کیا کریں ان کی خبریں وقت بے وقت پتہ نہیں کیوں ’لیک‘ ہوجاتی ہیں۔ جبکہ ایک بھی چوہا کسی کے ہتھے نہیں چڑھتا۔ چوہوں کی دنیا بھی عجیب ہوتی ہے، کھا کھا کر موٹے ہوئے جاتے ہیں لیکن کھانا پھر بھی نہیں چھوڑتے۔

کچھ چوہے تو اتنا کھا جاتے ہیں کہ ان کا زمین پر آزادی سے چلنا پھرنا دوبھر ہوجاتا ہے اور نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ ان کا ملک سے باہر جانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر انہیں باہر نکلنے کے لیے پتلا ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ آپ ان کو پکڑنے کے لیے کتنے بھی جتن کرلیں، چاہے نیب لگالیں، یہ کسی کے ہاتھ آسانی سے نہیں آتے۔

چوہوں کو پکڑنے یا ڈرانے کے لیے پہلے بلی کو گھر میں رکھا جاتا تھا لیکن آج کل چوہوں کو رکھا جاتا ہے۔ یہ پلے ہوئے چوہے بلی سے کسی طور کم دکھائی نہیں دیتے۔ اسی لیے بلی بھی ان کے آگے دُم ہلاتے دکھائی دیتی ہے۔ یہ چوہے اتنے تیز ہوگئے ہیں کہ ان کو مارنے کے لیے زہر بھی رکھا جائے تو یہ اسے منھ تک نہیں لگاتے۔ بلکہ اکثر کھانے کو زہریلا کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ پتا نہیں یہ چوہے جس تھیلی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کیوں کرتے ہیں؟

ایک روز بلی سے پوچھا گیا کہ وہ چوہے کیوں نہیں پکڑتی؟ کہنے لگی جب چوہوں کی طرف سے کھانے کو مل رہا ہے تو ہمیں کیا ضرورت ہے اُن کا نمک حرام کرنے کی۔ تو پھر اس سے مالک کا جو نمک حرام ہو رہا ہے بلکہ جینا حرام ہورہا ہے اس کا کیا؟ کہنے لگی مالک کے نمک پر بھی چوہوں کا قبضہ ہے، جب مالک نے خود گھر کا کچن چوہوں کے حوالہ کر رکھا ہو تو پھر ایسے میں بلی بیچاری کیا کرے؟ بھیگی بلی ہوگی تو کھمبا ہی نوچے گی۔

آج کل کے چوہے خود کو شیر سمجھتے اور کہتے بھی ہیں۔ بڑی دیدہ دلیری سے شہر کی سڑکوں پروی وی آئی پی پروٹوکول میں دندناتے پھرتے ہیں اور کسی کو اپنا دیدار بھی نہیں کراتے۔ عوام سے ڈرتے ہیں بے چارے، آخر کو چوہے جو ہوئے۔ انہیں تو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے لیکن کیا کریں، شیر ہوتے تو کب کے چڑیا گھر میں ہوتے لیکن اب یہ ٹھہرے چوہے، بھلا چڑیا گھر میں ان کے لیے کوئی پنجرہ جو نہیں ہے، اسی لیے آزادی سے گھوم رہے ہیں۔ جب دل چاہتا ہے خود ہی چڑیا گھر کی سیر کو چلے جاتے ہیں اور وہاں کی تازہ ہوا کھا کر پھر سے اپنے کاروبار پر واپس آجاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ قاضی جی کے گھر کے چوہے بھی سیانے ہوتے ہیں۔ اب بھلا قاضی جی ان چوہوں کو سبق تھوڑا ہی پڑھاتے ہیں اور پھر چوہے کیوں سبق لینے لگے؟ وہ تو الٹا ہمیں سبق سکھاتے ہیں لیکن ہم ان سے سبق لینے کے لیے تیار نہیں۔ ان سیانے چوہوں کی تلاش میں مدرسوں میں چھاپے بھی مارے گئے لیکن چوہے پھر بھی ہاتھ نہ آئے۔

ایک چوہا کہتا تھا کہ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں لیکن آج کل سنا ہے وہ چوہا ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے۔ لوگ اسے بلا سمجھتے تھے لیکن وہ چوہا نکلا۔ اسے بلا سمجھ کر دودھ کی رکھوالی کے لیے رکھا گیا تھا لیکن اس نے سارے چوہوں کو ملا کر بھان متی کا کنبہ جوڑا اور سارا دودھ ان چوہوں کے حوالے کردیا۔ اب وہ دودھ کے دھلے چوہے اپنی اپنی دُم چھپاتے پھر رہے ہیں۔ بلی نے نو سو چوہے کھا کر حج پر جانا تھا لیکن اب نو سو چوہے حج پر جاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا لیکن یہاں تو پہاڑ کے پہاڑ کھودنے کے بعد بھی چوہا نہیں نکلتا۔ آج کل چوہے پہاڑوں میں نہیں رہتے بلکہ عالیشان محلات میں رہتے ہیں۔ پاکستانی چوہوں کی دیدہ دلیری دیکھ کر بھارت سے بھی کچھ چوہے ادھر آ نکلے تھے، لیکن ایک چوہے کو پکڑا تو اس نے سب چوہوں کے نام اگل دیے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ چوہوں کی بھی حدود ہوتی ہیں اور اگر وہ حدود سے تجاوز کریں تو انہیں پکڑنا پڑتا ہے ورنہ طاعون جیسی موذی بیماری جنم لیتی ہے جس سے نجات بھی ممکن نہیں۔

نو سو چوہے ملک کو کھانے میں لگے ہوئے ہیں اور ساتھ چوہے بلی کا کھیل بھی کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوام ایک عرصہ سے یہ چوہے بلی کا کھیل دیکھ دیکھ کر بیزار آچکے ہیں۔ اب وہ چاہتی ہے کہ یہ کھیل بند کیا جائے اور کوئی نیا کھیل شروع کیا جائے، تو جناب نیا کھیل بھی شروع ہونے ہی والا ہے، دیکھتے رہیے کہیں مت جائیے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں