44

این ٹی ایس؛ نیشنل ٹھگ سروس نہیں بلکہ آئینہ ہے آئینہ

برادرم عثمان حیدر کا بلاگ ’’این ٹی ایس: نیشنل ٹھگ سروس‘‘ نظر سے گزرا جس میں انہوں نے این ٹی ایس پر سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں نوکری کے لئے ’’نام نہاد‘‘ غیر نصابی امتحانات کا انعقاد کرانے اور ان کے نتائج کی بنیاد پر طلباء میں بے روزگاری کے فروغ اور میرٹ کا قتل کرنے کےعلاوہ مالی معاملات کے مشکوک ہونے کے سنگین الزامات عائد کئے۔ اس بابت اپنا موقف پیش کرنے سے پہلے یہ وضاحت ضروی ہے کہ نہ تو مجھے این ٹی ایس سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی وطن عزیز کے نونہال شاہینوں سے کسی قسم کی پرخاش۔

این ٹی ایس پر لگائے جانے الزامات میں سر فہرست اس کے امتحانانی سوالات کا غیر نصابی ہونا اور طلباء کے سروں کے اوپر سے گزر جانا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پاکستان کی جامعات اوراعلیٰ تعلیمی اداروں نے ان سروں کے اندر موجود دماغوں کو ان صلاحیتوں سے ہی آراستہ نہیں کیا جن سے سیکھے گئےعلم اور دستیاب معلومات کے استعمال سے نئے مسائل کا حل ڈھونڈا جاسکے۔ رٹے کی بنیاد پر کھڑے اس تعلیمی نظام میں طلباء کی قابلیت جانچنے کے لئے سوالات یعنی مسائل بھی پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ ان کے جوابات یعنی حل بھی اور ان کے اطلاق کا طریقہ کار بھی۔ ایسے میں اگر کسی امتحان میں اسی سوال یا مسئلے سے ملتا جلتا کوئی نیا سوال پوچھ لیا جائے تو امیدواروں کی ایک بڑی اکثریت اس ٹیسٹ پرغیر متعلقہ ہونے کا الزام لگا کر ’’رضا کارانہ‘‘ بنیادوں پر ناکام ہوجاتی ہے۔

پاکستانی جامعات کا اپنے ہی قائم کردہ تعلیمی معیار اور نتائج  پر عدم اعتماد کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ بیشتر جامعات اپنے ہی ماسٹرز کے فارغ التحصیل طلباء کو ایم فل (یاد رہے دنیا میں اس نام کی کوئی ڈگری سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی) اور ڈاکٹریٹ میں اس وقت تک داخلہ نہیں دیتیں جب تک این ٹی ایس سے ان کی قابلیت کا ثبوت نہ لے لیں۔ حالانکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس سلسلے میں تمام جامعات کو مکمل آزادی دی ہوئی ہے اور خود ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی تو ملکی وغیر ملکی اسکالر شپز کی تقسیم کے لئے موزوں امیدواران کے انتخاب کے لئے جامعات سے جاری کردہ نتائج کو معیار بنانے کے بجائے این ٹی ایس سے ہی ٹیسٹ کا انعقاد کراتا ہے، جبکہ پاکستان کی تمام سرکاری و غیر سرکاری جامعات ہائر ایجوکیشن کمیشن کی زیر نگرانی اپنے فرائض سر انجام دیتی ہیں۔

جہاں تک امتحانی فیسوں کی مد میں طلباء سے کروڑوں روپیہ وصول کرنے کا تعلق ہے تو اس ضمن میں گزارش ہے کہ پاکستانی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے چاروں صوبوں اور وفاق میں ایک ایک پبلک سروس کمیشن قائم  ہے، مگر کیا اس میں مطلوبہ قابلیت کے حامل طلباء بنا کسی فیس کےامتحان میں جا بیٹھتے ہیں؟ اگر ہم ایک سرکاری ادارے کو اپنے بنیادی حق کے حصول کے لئے فیس دے رہے ہیں تو ایک غیر سرکاری ادارے کو اس سے کہیں بہتر، معیاری، جامع اور تیز رفتار خدمت مہیا کرنے پر اتنی ہی فیس کیوں نہیں دے سکتے؟ مزید برآں ان پبلک سروس کمیشنز کے تحریری امتحانات میں بالعموم اور انٹرویوز میں بالخصوص ہونے والی بدعنوانیاں بھی زبان زدعام ہیں، جس کا ایک چھوٹا سا ثبوت 2013 میں وفاقی پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان کا لیک ہوجانا اور ہائی کورٹ کی مداخلت پر فیصل آباد کے 347 امیدواران سے دوبارہ امتحان لیا جانا ہے۔

صوبائی پبلک سروس کمیشنز میں سے پنجاب پبلک سروس کمیشن کا معیار سب سے بہتر خیال کیا جاتا ہے، لیکن یہاں بھی بالعموم فارم جمع کرانے سے امتحان کے انعقاد تک اور پھر انٹرویو اور متعلقہ محکمہ کو کامیاب امیدواران کی سفارش بھیجنے میں سالوں بیت جاتے ہیں۔

ہاں نفسِ مضمون سے ہٹ کر سوال پوچھنے پر ضرور این ٹی ایس کو دوش دینا چاہیئے۔ اب انجینئرنگ کے طالب علم سے ’’سیل‘‘ کے بارے پوچھا جائے گا تو وہ بیچارہ تو گھڑی والے برقی سیل ہی کی بات کرے گا نا، اسے ہرگز نہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ بیالوجی میں بھی سیل نامی کوئی بلا ہوتی ہے، اور اسلامیات کا طالب علم بھی ونڈوز 7 کا مطلب سات دریچوں والی کھڑکی ہی بتائے گا کیونکہ اس سوال کا اس کے مضمون سے دور پرے کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ویسے سنا ہے آج تک این ٹی ایس کے کسی مرد قلندر نے امتحان سے پہلے اس راز کو کبھی فاش نہیں کیا کہ کس مضمون سے کتنے فیصد سوالات پوچھے جائیں گے۔

ہماری ناقص عقل اس حقیقت کو سمجھنے سے سراسر قاصر ہے کہ جب ایک ہی مضمون سے حاصل کردہ معلومات سے پوری انسانی زندگی سہولت سے گزاری جاسکتی ہے تو پھر اس این ٹی ایس کا دوسرے مضامین کے بارے میں بنیادی سوالات پوچھنے کا وہی مقصد ہوگا جو ابنِ انشاء کی رائے میں ریاضی کے پڑھائے جانے کا تھا، یعنی طلباء کو فیل کرنا۔

پاکستان میں تعلیمی پسماندگی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیر و مرشد ضیاءالحق صاحب کے دور میں جنوں بھوتوں سے بجلی پیدا کرنے کے لئے اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کرایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘‘، ’’جعلی ڈگریوں والے پارلیمینٹیر ینز‘‘، ’’پانی سے چلنے والی کار‘‘ جیسے چھوٹے چھوٹے ٹریلرز بھی کمپنی کی مشہوری کے لئے مارکیٹ میں آتے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں این ٹی ایس صحیح معنوں میں قوم کو تعلیمی پسماندگی کا آئینہ دکھا رہا ہے اسے اپنے معیار کو پست کرنے کے لئے مجبور کرنے کے بجائے تعلیمی اداروں اور طلباء کو اپنا معیار تعلیم بلند کرنے پر مجبور کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں