128

عورت

بیس برس بعد اچانک جب کل اظہر صائمہ کے سامنے آکھڑا ہوا تو وہ بظاہر بالکل پُرسکون رہی۔ کیا مجال جو ماتھے پر شکن آئی ہو یا آنکھوں میں آگ بھڑکی ہو۔ اس کے برعکس اظہر کی آنکھوں میں شرمندگی کے سائے تھے۔ وہ اظہر سے اس طرح ملی جیسے سب کچھ بھول گئی ہو، جیسے گرمی کی وہ چلچلاتی دوپہر اس کے ذہن سے بالکل اُتر چکی ہو۔

اظہر نے جب اس کا یہ انداز دیکھا تو ذرا آپے میں آیا۔ اس نے اپنی بیٹی پر نظریں جماتے ہوئے صائمہ کے چہرے پر وہ انتقامی کی آگ نہیں دیکھی تھی۔ اس کی اٹھارہ سالہ خوب صورت لڑکی اپنائیت بھری نظروں سے صائمہ کو دیکھ رہی تھی۔ رابعہ کو ڈاکٹر سے دکھانے کے لئے ہی وہ لاہور آیا تھا۔ اس کے ایک دوست نے اس ڈاکٹر کا پتا دیا تھا۔ لاہور میں اور کوئی ٹھکانا نہ تھا ہوٹل کے مصارف اس کی جیب برداشت نہ کرسکتی تھی۔ اس لئے وہ ذرا سہما شرمندہ صائمہ کے دروازے پر آیا تھا لیکن صائمہ کے سکون نے اسے نئی زندگی عطا کردی۔ صائمہ سے بھی زیادہ خاطر مدارات تو اظہرکی اس کے شوہر فیاض نے کی۔ وہ بہت خوش تھا کہ سسرال کا کوئی شخص اس کے گھر آیا ہے۔

صائمہ نے رابعہ کو دیکھا پھر اپنے لڑکے عمران کو۔ خوب صورت ،اونچا مضبوط نوجوان عمران ،کچھ زیادہ ہی شوخ،بہت جلد بے تکلف ہوجانے والا،بہت جلد گھل مل جانے والا تھا۔ صائمہ کے لبوں پر ایک مسکراہٹ اس طرح ابھری جیسے شعلہ لپکا ہو۔ ہاں اس کا بیٹا اس کے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرسکتا ہے۔

اس نے رابعہ کا چہرہ تھام کر کہا۔

“کتنی پیاری بچی ہے۔”

صائمہ کے لبوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ ابھری۔اس مسکراہٹ کو چھپانے کے لئے وہ کچن میں چلی گئی۔

ایک کمرا اظہر اور رابعہ کے لئے مختص کردیا گیا۔ بستر پر چائے ،وقت پر ناشتا اور کھانا۔۔۔۔۔۔ اظہر کا سر جھکا ہی رہا تھا۔ خلوص اور خاموشی کے مارے بڑی سخت تھی۔

آج فیاض کے ساتھ اظہر ڈاکٹر راشد کے یہاں رابعہ کی رپورٹس چیک کرانے اور پوائٹمنٹ لینے گیا تھا۔ گھر کی تنہائی نے صائمہ کے اندر کچلی ہوئی ناگن کو جھنجھوڑ کر اٹھا دیا۔ اس نے اپنی لڑکی افروز کو اپنی ایک سہیلی کے پاس سوئیٹر کا نیا ڈیزائن سیکھنے کے لئے بھیج دیا اور خود جلدی جلدی لباس تبدیل کرکے بال سنوار کر عمران سے کہنے لگی۔

“عمران! دیکھو گھر اکیلا ہے، میں بھی ذرا باہر جا رہی ہوں، گھنٹا بھر بعد لوٹوں گی۔ تم رابعہ کا خیال رکھنا بلکہ ایسا کرو کہ اس کے پاس بیٹھ جاؤ۔ شاید اسے کوئی ضرورت ہو۔ تمہارے پاپا اور اظہر صاحب بھی دیر سے آئیں گے۔”

“اچھا امی!” عمران کی خوب صورت آنکھوں میں ایک ایسی چمک لہرائی جو صائمہ کے لئے نئی نہیں تھی۔ بالکل ایسی ہی چمک بیس برس پہلے اظہر کی آنکھوں میں بھی لہرائی تھی۔”

“اور سنو! اندر سے دروازہ بند کرلینا، ایسا نہ ہو کہ تم اُدھر کمرے میں رہو اور ادھر کوئی اندر گھسس کر سب سامان صاف کرجائے۔” اس نے میدان بالکل ہی صاف کر دیا۔

“ٹھیک ہے ممی! ٹھیک ہے۔” عمران نے اپنے اندر کے جوش کو بڑی مشکل سے دبایا۔

صائمہ گھر سے نکلی تو سہی لیکن کہیں گئی نہیں۔ چپل بغل میں دبا کر وہ بلی جیسی چال سے پچھلے دروازے پر آئی اور بے آواز دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔ دروازہ اس نے کھلا ہی چھوڑ دیا تھا۔ اتنے میں عمران باہر کا دروازہ بند کرکے رابعہ کے کمرے میں جاچکا تھا۔ صائمہ چھپاک سے اس کمرے میں گھس گئی جو رابعہ کے کمرے کے برابر میں تھا اور جسے صائمہ نے سٹورروم بنا رکھا تھا۔

وہ دونوں ہنس رہے تھے، باتیں کررہے تھے۔

“تم بڑی خوب صورت ہورابعہ!” عمران کہہ رہا تھا۔

“سچ؟”

“خدا کی قسم ایسی حسین لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی”

“تم!” اسے شاید تشبیہ تلاش کرنے میں ناکامی ہورہی تھی۔

“یگلا!بے وقوف”۔ صائمہ بڑبڑائی۔

“تم۔۔۔۔۔۔تم مجسم غزل ہو،تم حسن کی ملکہ ہو،تم ایک سنہیری خواب ہو۔” عمران سرگوشیوں میں اس کے کانوں کے پاس بڑبڑا رہا تھا۔ اس کی آواز شدت جذبات سے کپکپارہی تھی۔

گرمیوں کی وہ ایک سخت بوکھلا دینے والی دوپہر تھی۔ گھر والے سب کھانے کے بعد اپنے اپنے کمروں میں بند ہوگئے تھے۔ سیلنگ فین گنگنارہے تھے۔

آنگن میں لوکے جھکڑ چل رہے تھے۔ کبھی کوئی سینی کھٹاک سے گر پڑتی، کبھی کوئی گملا دھم سے لڑھک جاتا مگر نیند کے متوالوں کی آنکھ نہیں کھلتی۔

اور جب کسی شیشے کے گلاس کی دل خراش آواز سن کر صائمہ نے اماں بی کو پکارنا چاہا تو ایک دم اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اظہر اندر آگیا۔ اظہر، اس کا کزن جو کسی انٹرویو کے سلسلے میں اپنے شہر سے آیا ہوا تھا۔ اونچا خوب صورت مضبوط اظہر، بہت جلد بے تکلف ہوجانے والا، بہت جلد گھل مل جانے والا، بہت اونچے قہقہے لگانے والا اظہر۔

“آپ؟” صائمہ نے اس سناٹے میں نیم روشن کمرے میں اس کا آنا کچھ ناپسند کرتے ہوئے کہا۔

“دروازہ کیوں بند کررہے ہیں آپ؟” اس نے گھبرا کر کہا۔

“تا کہ کوئی ہماری تنہائی میں دخل انداز نہ ہو۔”

اظہر مسکراتا ہوا اس کے قریب آگیا اور اس کے اوپر جھک کر بولا۔

“تم کتنی خوبصورت ہو صائمہ؟”

“دروازہ کھول دیجئے۔” صائمہ نے ڈر کے مارے سمٹتی جارہی تھی۔

“تمہارا شباب قیامت خیز ہے۔۔۔۔۔۔ تمہارا حسن۔۔۔۔۔۔” وہ جانے کیا کہہ رہا تھا اور لمحہ بہ لمحہ اس پر جھکا آ رہا تھا۔

فاضلہ ختم ہوتا جارہا تھا۔ صائمہ نے چلانا چاہا مگر چلا نہ سکی حملہ آور نے اس کا منہ یوں دبا لیا تھا کہ آواز ہی نہ نکلی اس نے بھاگنا چاہا مگر بھاگ نہ سکی۔

کچھ ہی دیر میں اپنے گھر میں، اپنے ہی کمرے میں، اپنے ہی لوگوں کے درمیان وہ دن دہاڑے لٹ گئی۔

اسی شام وہ اپنے شہر واپس چلا گیا۔

صائمہ کس سے کہتی، کس سے فریاد کرتی وہ چپ رہی۔ اس زہر کو اندر ہی اندر پیتی رہی۔ اس روز بھی اس نے اُف نہ کی جب اظہر کی شادی کا دعوت نامہ اس کے گھر آیا۔

پھر دن،مہینے اور سال بن کر بیتتے چلے گئے اور اس کی شادی فیاض جیسے نیک شخص سے ہوگئی۔

بیس سال پہلے اظہر نے اس کی بے بسی کا فائدہ اٹھایا تھا۔ آج اس کا بیٹا، اظہر کی بیٹی کی بے بسی کا فائدہ اٹھائے گا۔ داستان وہی ہے ،بس افراد بدل گئے ہیں، جگہ بدل گئی ہے۔

صائمہ نے اپنا نچلا لب دانتوں میں جکڑ لیا۔

دوسرے کمرے میں اب عجیب بولتی خاموشی چھا گئی تھی۔ صائمہ کا دل دھڑدھڑ کررہا تھا۔

“یہ کیا کررہے ہیں آپ؟” یہ رابعہ کی آواز تھی۔

شرم،خوف اور صدمے سے بوجھل آواز۔

“نہیں نہیں!خدا کے لئے۔۔۔۔۔۔۔” وہ چلا رہی تھی۔

فرق اتنا تھا کہ صائمہ چلا بھی نہیں سکی تھی۔

“عمران بھائی!میرے اوپر رحم کیجئے۔”

بالکل۔ یہی الفاظ اس نے اظہر سے کہے تھے۔

“اظہر بھائی! ” وہ اظہر ہنس پڑا تھا، ایک بے درد اور وحشیانہ ہنسی، عمران کی وحشیانہ ہنسی نے صائمہ کی بھڑکی ہوئی آگ میں پانی کا چھینٹا سا دیا۔

اندر وہ اب زور زور سے رو رہی تھی۔ معصوم مجبور لڑکی منتیں کررہی تھی،قسمیں دے رہی تھی۔

“یہ کم بخت دیر کیوں کررہا ہے؟” صائمہ دانت پیس کر بڑبڑائی۔

“پھوپھی جان،پاپا،افروز باجی!” رابعہ چلا رہی تھی۔

“کم بخت کیا ڈراما کررہا ہے۔” صائمہ لپکی۔

“خاموش رہو، ورنہ گلا دبا دوں گا۔” جاوید نہیں کوئی وحشی درندہ صفت مرد غرایا تھا۔

تب صائمہ نے دھڑاک سے دروازہ کھول دیا۔ جاوید نے بیرونی دروازہ بند کرکے کمرے کا دروازہ بولٹ نہیں کیا تھا، صائمہ اندر گھس گئی۔

“پھوپھی جان! مجھے بچائیے۔”رابعہ سسکی۔

حیرت زدہ جاوید اچھل کر الگ ہٹ گیا تھا۔ خوف اور ندامت سے اس کا سر جھکا ہوا تھا۔

صائمہ نے ایک نظر جاوید پر ڈالی پھر رابعہ کو دیکھا۔

نازک سی کم زور سی،معصوم لڑکی۔

اپنی بےبسی اور ناچاری پر روتی ہوئی لڑکی۔

دہشت سے اس کا چہرہ سفید ہورہا تھا۔

بڑی بڑی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔

“جاوید!” صائمہ بجلی بن کر کڑکی۔

“دور ہوجاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔”

اس کے اندر عورت جاگ اتھی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں