80

خوشیوں کی راہ گزر

آج چندا کی شادی تھی۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ سے میرا سارا جسم تھکن سے چور تھا۔ لیکن اس تھکن میں بھی کیسی سردردتھی۔ آج دل سے کتنا بڑا بوجھ اتر گیا تھا۔ سامنے لٹکی امی کی تصویر کس طمانیت سے مسکرارہی تھی۔ امی کی تصویر تو سدا یونہی مسکراتی رہی ہے لیکن نہ جانے کیوں پہلے مجھے یہ مسکراہٹ بڑی پرسوز لگا کرتی تھی۔

چندا کی صورت بالکل امی جیسی ہے۔ ویسی ہی صبیح رنگت آج جب نازو خالہ نے چندا کو پیاری سی دلہن بنا کے اس کی پیشانی پہ امی کا جھومر اور ٹیکہ سجایاتو میری تینوں خالائیں آنکھوں میں  آنسو بھر لائیں اور میں اپنی سسکیاں چھپانے باتھ روم کی طرف بھاگی۔ مجھے اپنے بہن بچپن کی باتیں آج بھی اچھی طرح یاد ہیں میرے ابو چاہتے تھے کہ امی ہر وقت بنی ٹھنی پورے زیور سے آراستہ رہیں۔ شادی کے سات سال بعد تک بھی امی کو روزِ اول کی دلہن کی طرح ٹیکہ، جھومر، نتھ وغیرہ پہننا پڑتا۔ تب وہ بالکل چندا کی طرح لگا کرتیں۔ جب ہی تو چندا کو دلہن بنا دیکھ کر میرا دل تڑپ رہا تھا امی کی یاد میں۔

ہاں تو میں اس زمانے کی بات کر رہی ہوں جب میری عمر سات سال تھی۔ ہمارا گھر جنت کا نمونہ تھا۔ امی ابو میں مثالی محبت تھی۔ انہی دنوں اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر پیاری سی گڑیا بھیجی۔ “امی یہ کتنی گوری ہے بالکل چاند جیسی چمکتی ہوئی!” میں اس کا  منہ ہاتھ چومتے ہوئے کہتی۔ امی ہنس دیتیں۔ میری امی بہت ہنس مکھ تھیں۔ یوں منی بہن کا نام ہی چندا رکھ دیا گیا۔

چندا کی پیدائش کے ایک ہفتہ بعد صغیر پھوپھا ایکسیڈنٹ میں چل بسے۔ ابو کی دنیا میں ایک ہی بہن تھی۔ ان کی بیوگی ابو کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا۔ پھوپو کی عدت پوری ہوئی تو ابو انہیں اپنے گھر لے آئے اور اسی دن سے ہمارے گھر کا سکون درہم برہم ہو گیا۔ پھوپو نے آتے ہی سب سے پہلے یہ فتویٰ صادر کیا کہ چند منحوس ہے جس نے دنیا میں آتے ہی میرے ہنستے کھیلتے شوہر کو کھالیا۔ شروع شروع میں تو امی ان کے صدمے کے خیال سے چپ رہیں لیکن پھر انہوں نے سوچا کہ ایسے تو میری بچی ہمیشہ کے لئے منحوس قرار پائے گی۔ بس ان کی تردید ہی بہانہ بن گئی۔ پھوپو تو امی کی پکی دشمن ہو گئیں۔ امی ہنڈیا پکا کے آتیں تو چپکے سے اس میں چمچہ بھر نمک جھونک دیتیں۔ امی چاولوں کو دم پہ لگا کے آگ دھیمی کرتیں وہ آنکھ بچا کے آگ تیز کر آتیں۔ چاول جل جاتے۔ ابو بہت خوش خوراک تھے۔ ایسا زہر سالن اور جلی بھنی چیزیں کھانے کے عادی نہ تھے۔ وہ چیختے۔

“فرزانہ! یہ انسانوں کے کھانے کے قابل ہے؟”

امی بے چاری حیران رہ جاتیں۔ پھوپو اور جلتی پہ تیل ڈالتیں۔ پھوپو نے ابو کے ذہن میں بھی یہ خیال پیدا کر دیا کہ چندا منحوس ہے۔ وہ اس معصوم بچی کی طرف پلٹ کر بھی نہ دیکھتے۔ پھوپو کی دو بیٹیاں تھیں۔ ایک مجھ سے دو سال بڑی اور دوسری میری ہم عمر۔ ابو دفتر سے آتے تو انہیں لپٹا لیتے۔ میں دور کھڑی دیکھتی رہتی تھی۔ ابو چاہتے تھے کہ وہ بچیاں احساس محرومی کا شکار نہ ہوں لیکن ان کے جیتے جی ان کی اپنی بیٹی احساس محرومی کا شکار ہو رہی تھیں۔

چندا ابھی دو ماہ ہی کی تھی کہ اسے خسرہ نکل آئی۔ امی اسے ڈاکٹروں کے پاس لئے لئے پھریں۔ وہ ٹھیک تو ہو گئی لیکن بہت کمزور ہو گئی تھی۔ ہر وقت روتی رہتی۔ امی اس کے پیچھے ہلکان ہوتیں اور پھوپو کو سنہری موقع مل گیا تھا۔ ہر وقت بھائی کے کان بھرا کرتیں۔ ہمارے گھر کے مثالی ماحول میں ہر وقت نفرت کی چنگاریاں بھرتی رہتیں۔

وقت گزرتا رہا۔ چندا ٹھیک ہو گئی لیکن گھر میں کشیدگی سی رہتی۔ جب بھی امی ابو ذرا مل بیٹھ کے باتیں شروع کرتے پھوپو کو جانے کیا ہوجاتا کبھی تو وہ اونچے سر میں اپنے نصیبوں کو کوسنے لگتیں یا اپنی بیٹیوں ریما اور شیما کی پٹائی پر اتر آتیں ساتھ ساتھ غائبانہ امی کو باتیں سناتی جاتیں۔

“کمبختو پہلے ہی مامی تمہارا جینا دو بھر کئے رکھتی ہے۔ ہر وقت پٹائی کرتی ہے۔ تم بھی باپ کے ساتھ ہی مرجاتیں تو میں چین پاتی۔ اے ہماری دو روٹیاں ان پہ بھاری ہو گئیں۔” وہ چیخ چیخ کے روتیں۔

ابو ہائے ہائے کرتے بھاگے آتے بہن کو تسلی دلاسا دیتے۔ بیوی کو حسب توفیق ڈانٹ ڈپٹ کرتے۔ اب چندا دو سال کی ہو گئی تھی۔ وہ اتنی پیاری بچی تھی کہ ہر کوئی اسے پیار کرتا۔ سوائے پھوپو اور ابو کے۔ عمیر پیدا ہوا تو ابو نے بہت خوشیاں منائیں۔ پھوپو اس سے بھی جل گئیں کہ امی کی قدر شاید پھر زیادہ ہو جائے۔

وہ ایک گرم دوپہر تھی۔ امی عمیر کو کاٹ میں سلا کے کچن میں کھانا پکا رہی تھیں کہ عمیر کی چیخوں سے گھبرا کے بھاگی آئیں۔ دیکھا کہ ریما اس کے گال نوچ رہی تھی اور شیما اسے چٹکیاں کاٹ رہی تھی پھوپو مزے سے دیکھ رہی تھیں۔ عمیر میں تو امی کی جان تھی۔ انہوں نے چٹکے سے دونوں کو پیچھے ہٹایا۔ ریما لڑکھڑائی اور گرپڑی۔ گرتے گرتے اس کی پیشانی دروازے سے ٹکرائی اور ذرا سا گومڑ ابھر آیا۔ پھر کیا تھا پھوپو نے تو واویلا مچا دیا۔

“ہائے میری نازوں پلی بیٹی کو مامی مارڈالے گی۔ میری بچی کا خون کر دیا۔ لوگوں میں کیا کروں۔”

ابو گرمی سے نڈھال اندر آرہے تھے۔ یہ چیخ وپکار سن کے بھاگتے ہوئے اپنی بہن کے قریب آئے۔

“آپا کی اہوگیا؟”

“مر گئی تمہاری آپا۔ اسے آج تو میں اپنی بچیوں کے ساتھ کنویں میں کود کے جان دے دوں گی۔ دیکھو میری معصوم بچی کے سر مین ڈنڈا مار دیا تمہاری چہیتی نے۔ ہائے ہائے عمیر کو پیار کرنا جرم ہو گیا۔ بس میرے سامنے سے ہٹ جاﺅ۔ میں تو آج مر کر یہ روز کا جھگڑا ہی ختم کر دوں گی۔”

وہ دروازے کے طرف لپکیں۔ ابو غصے سے لال ہوگئے۔ آپا آپ نہیں جائیں گی آج یہ جھگڑا میں ختم کر وں گا۔” پھر وہ حیران پریشان کھڑی امی کی طرف مڑے اور کہا۔”

“ذلیل عورت! میں نے تمہیں طلاق دی طلاق دی طلاق دی۔” امی گم صم رہ گئیں۔ پھوپو کو بھی یہ توقع نہ تھی۔ نصیبن بوا یہ سب دیکھ رہی تھیں۔ اتنی ناانصافی دیکھ کے وہ نوکر اور مالک کے فرق کو بھول گئیں اور عمیر کو بازوﺅں میں بھرکے ابو کے پاس پہنچیں۔

“اے میاں! ذرا اس معصوم کو دیکھے۔ ریما بی بی نے نوچ نوچ کے بے حال کر دیا ۔ بہو بیگم نے بچی کو پیچھے کیا تو اتفاق سے وہ دروازے سے ٹکرا گئی اور آپ نے اپنے ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیا۔ ہائے ہائے انصاف تو دنیا سے اٹھ ہی گیا۔” وہ…. آنسو بہاتے ہوئے بولیں۔

پھوپو بولیں “چل کٹنی اپنی زبان بند رکھ ورنہ تجھے دفعان کر دوں گی۔”

“میں خود بھی اپنی بی بی کے بعد اب یہاں رہنا نہیں چاہوں گی۔”

وہ بھی اپنا سامان سمیٹ کے امی کے ساتھ رخصت ہو گئیں۔ امی کا مائیکہ بھی اسی شہر میں تھا۔ بڑے حوصلے سے وہ ٹیکسی میں ہم سب کو لے کر گھر آگئیں۔ لیکن اپنی پیاری ماں کو دیکھ کے ان کے حوصلے جواب دے گئے اوزپیح دہلیز میں ہی بے ہوش ہو کے گر گئیں۔ سب پریشان ہو گئے نصیبن بوا نے ساری بات بتائی تو گھر میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ امی کو ہوش آیا تو وہ سب سے لپٹ لپٹ کے روئیں۔ نازوخالہ اور زوبی خالہ امی سے بھی زیادہ روئیں۔ شعیب ماموں کا سر بھی صدمے سے جھک گیا۔ نانا اور نانی بھی امی کو بہلانے کی کوششیں کرتے۔ نرگس خالہ سرگودھا سے بھاگی آئیں اور اپنی چہیتی بہن کو رو رو کے دلاسے دیے۔ آہستہ آہستہ سب ہی نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ امی نے عدت کی مدت گزرتے ہی ایک اسکول میں ملازمت کر لی۔ نانا اور ماموں نے بہت مخالفت کی لیکن وہ ہمارا بوجھ خود اٹھانا چاہتی تھیں۔ کبھی کبھی میں کہتی۔

“امی! ابو بہت خراب ہیں۔ آپ سے لڑتے تھے۔” تو وہ میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیتیں۔

“بیٹے! ایسا نہیں کہتے۔”

وہ ہمارے ننھے ذہنوں کو پراگندہ نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ سنا ہے ابو اپنی اس جلد بازی پر بہت پشیمان ہوئے۔ جبھی تو انہوں نے ہم تینوں کو امی کے پاس رہنے دیا ورنہ شاید وہ عدالت کے ذریعے ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے انہوں نے ہمارے خرچے کا منی آرڈر بھی بھیجا لیکن امی نے لوٹا دیا۔

یوں ہی دن گزررہے تھے۔ امی نے ہماری خاطر چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجا لی تھی۔ ہم بھی نانا ، نانی اور ماموں کی محبت میں سب کچھ فراموش کر چکے تھے کہ تقدیر نے ایک اور چرکا لگایا۔

اس رات ٹی وی پہ لانگ پلے آرہا تھا۔ ڈرامہ بارہ بجے ختم ہوا۔ اس کے بعد بھی امی ، نازو خالہ اور زوبی خالہ باتیں کرتی رہی۔ چندا اور عمیر سو رہے تھے۔ عمیر چھ سال کا تھا اور چندا آٹھ سال کی۔ اتنے بڑے ہو کے بھی وہ دونوں ابھی تک امی کے پاس ہی سوتے تھے۔ نازو خالہ بولیں۔ آپا یہ چندا کتنی پیاری لگ رہی ہے بالکل پریوں جیسی۔” سوئی ہوئی چندا واقعی بہت پیاری لگ رہی تھی۔”

اور آپا عمیر بھی کیسا خوبصورت ہے “ننھا فرشتہ” زوبی خالہ نے بھی بولنا ضروری سمجھا۔”

“نازو! آج تم اس پری کو اپنے پاس سلاﺅ اور زوبی تم بھی اپنے ننھے فرشتے کو اپنے ساتھ لے جاﺅ۔ رات بھر یہ شریر سونے نہیں دیتے۔” امی نے ہنستے ہوئے کہا۔

وہ دونوں خوش خوش چندا اور عمیر کو لے کے سوگئیں۔

“میں تو آج اپنی مہجبین بیٹی کے ساتھ سوﺅں گی۔” امی نے میری پیشانی چومتے ہوئے کہا۔

میں امی سے لپٹ کے سو گئی۔ رات کو اچانک ہی امی کی کراہوں سے میری آنکھ کھل گئی۔

امی! آپ کو کیا ہو گیا ہے؟” میں نے روتے ہوئے کہا۔”

“میں ٹھیک ہوں بیٹا۔ جلدی سے نازو خالہ کو جگاﺅ۔”

امی کا رنگ زرد ہو رہا تھا اور وہ شدید درد سے تڑپ رہی تھیں۔

“نازو خالہ دیکھیں امی کو کیا ہو گیا۔” میں نے انہیں جھنجھوڑ ڈالا منٹوں میں سارا گھر جاگ اٹھا امی کو فوراً ہسپتال لے جایا گیا اور پھر دن کے دس بجے امی کا بے جان وجود واپس آیا۔ ان کی اپنڈکس پھٹ گئی تھی۔

گھر میں کہرام مچ گیا نازو خالہ بے ہوش تھیں۔ زوبی خالہ بین کر رہی تھیں۔ ” ہائے آپا ہمیں کیا خبر تھی کہ آپ چندا اور عمیر ہمیشہ کے لئے ہمارے حوالے کر رہی ہیں۔” نانی کا کمزور وجود تڑپ رہا تھا۔

“فرزانہ میری خوبصورت میری سلیقہ شعار بچی ہائے تمہاری آئی ہمیں کیوں نہ آگئی۔”

نانا جان کی سفید داڑھی آنسوﺅں سے ترتھی۔

شعیب ماموں دیواروں سے سرٹکرارہے تھے۔

امی کی کزنز ان کی سہیلیاں ان کی کولیگز سب کی زبان پہ ان کی خوش اخلاقی ان کی خوبصورتی ان کی نیک فطرت کے چرچے تھے۔ نرگس خالہ کی آمد پہ نئے سرے سے آہ و بکا کا طوفان اٹھا۔ ہم بچے چیخ چیخ کر امی کو پکار رہے تھے ہماری چیخیں پتھروں کے کلیجے پھاڑ رہی تھیں۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے امی اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئیں ہمیں تڑپتا بلکتا چھوڑ کے۔

امی کا صدمہ ایسا نہ تھا کہ اتنی جلدی فراموش ہو جاتا مجھے ایسا لگتا امی صبح ہی صبح جگا رہی ہوں۔” مہجبیں چندا عمیر اٹھو اسکول نہیں جانا۔” جلدی سے آنکھیں کھولتی تو وہ نازو خالہ ہوتیں۔ مجھے لگتا امی کبھی چپکے سے آجائیں گی لیکن وہ کبھی نہ آئیں اور ہم ان کی مہربان صورت کو ترستے ہی رہے یوں ہوا کہ ہم بچوں کی خاطر سب نے اپنے غم دلوں میں چھپالئے اور ہمارا دل بہلانے کی کوشش کرنے لگے۔

نازو خالہ نے چندا اور زوبی خالہ نے عمیر کی ذمہ داری سنبھال لی ان کو تیار کرنا بہلا پھسلا کے کھانا پلانا۔ ان کی پڑھائی غرض وہ ہر طرح ان کا خیال رکھتیں نرگس خالہ نے بہت کہا کہ میرے پاس کچھ دنوں کے لئے بچوں کو بھجوا دیں۔ لیکن نانی جان ہمیں ایک پل اپنی آنکھوں سے دور کرنا نہ چاہتی تھیں۔ ہماری صورتوں میں انہیں اپنی بیٹی نظر آتی تھی۔ خاص طور پر جب چندا نانی جان کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہتی۔

“نانی امی ہمیں پیار کریں ہم اسکول جا رہے ہیں۔” وہ اس کی پیاری آنکھیں چوم لیتیں۔

زوبی خالہ اور نازو خالہ کی شادیاں ہو گئیں۔ شعیب ماموں امریکہ گئے اور وہیں کے ہو رہے میں ابھی بی اے کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی کہ لئیق کی بہنوں نے مجھے کہیں دیکھ لیا انہوں نے ہماری دہلیز کی مٹی ہی لے ڈالی اور یوں میری شادی لئیق سے ہو گئی شادی پہ میں دل کھول کے روئی آج مجھے امی کی یاد شدت سے آرہی تھی۔ لئیق بہت اچھے شوہر ثابت ہوئے چندا سے وہ بہت محبت کرتے تھے کہتے میرے لئے جیسی نیلو ہے ویسی چندا پنلو ان کی چھوٹی بہن تھی اور بہت ہی لاڈلی۔ میری شادی کے بعد نازو خالہ اور ناصر خالونانی جان کے پاس رہنے کے لئے آگئے کیونکہ چندا ابھی بہت چھوٹی تھی اور نانی ضعیف ہو چکی تھیں۔

چندا جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی ذہین بھی تھی سب کہتے چندا اپنی ماں جیسی ہے ہر وقت ہنسنے والی دکھی دلوں کو خوش کرنے والی امی کی بنائی ہوئی خوبصورت پینٹنگز اب تک ہمارے ڈرائنگ روم کی زینت تھیں اور…. چندا کو بھی مصوری سے خاصا لگاﺅ تھا گھر کے کام کاج میں بھی نانی جان نے اسے ماہر کر دیا تھا اور پھلکے تو وہ اتنے نفیس بناتی تھی کہ میں دیکھتی ہی رہ جاتی۔ نانی جان کو تو وہ اتنا آرام دیتی کہ وہ دعائیں دیتی نہ تھکتیں۔ عمیر بھی پڑھائی میں خوب لائق تھا چندا سے اسے اتنی محبت تھی کہ ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر جیتے۔

چندا نے ایف اے کا امتحان دیا تھا رزلٹ کا انتظار تھا کہ نانی شدید بیمار ہو گئیں چندا نے تو اپنی رات کی نیند اور دن کا چین حرام کر رکھا تھا۔ وہ ہر وقت نانی کے گرد منڈلاتی اور جب وہ سفید دوپٹہ اوڑھے اپنے نازک ہاتھ اتھائے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی تو اسے سمے اتنی مقدس لگتی کہ حد نہیں لیکن اس کی دعائیں مقبولیت کا درجہ حاصل نہ کر سکیں نانی کا وقت آخر آن پہنچا۔ مرتے مرتے بھی وہ چندا سے غافل نہ تھیں نرگس خالہ کے پاس بیٹے تھے۔ نانی جان نے خالہ کے چوتھے نمبر کے بیٹے رضوان سے چندا کی منگنی کر دی اور آنکھیں موند لیں میں تو پھر بھی لئیق اور اپنے بچوں میں کچھ بہل گئی لیکن چندا تو جیسے دوبارہ سے اپنی امی سے محروم ہو گئی تھی۔

رضوان اپنی منگنی سے بہت خوش تھا نرگس خالہ چندا کے صدقے واری جاتیں رضوان کی بہنیں چندا بھابی کی مالا جپتیں ۔ خوش تو چندا بھی تھی لیکن اس خوشی میں نانی جان کی جدائی کی کسک بھی شامل تھی۔

گرمی کی چھٹیوں میں ہم لاہور آئے چندا میرے دونوں بچوں کو دیکھ کے نہال ہو گئی جب دیکھو ان کے ساتھ لگی ہے کبھی نظمیں یاد کروائی جا رہی ہیں تو کبھی ان کے ساتھ بچہ بنی کھیل رہی ہے لئیق بھی بہت موڈ میں تھے تقریبا سارا لاہور ہم گھوم چکے تھے اس دن بھی ہمیں پکنک پہ جانا تھا سارا کھانا تیار تھا۔ لئیق نے جلدی مچا رکھی تھی۔ عمیر اپنے دوست کی وین لینے گیا تھا۔ میں جلدی جلدی میک اپ کر رہی تھی۔ چندا شامی کباب تل رہی تھی کہ اچانک پٹ سے ایک چھپکلی اس کے سر پہ گری چندا ایک دم سے اچھلی اور کھولتے ہوئے گھی میں اس کا ہاتھ پڑ گیا چندا کی چیخ دل ہلا دینے والی تھی ہم کچن کی طرف بھاگے چندا کا ہاتھ بری طرح جل چکا تھا اور وہ تکلیف سے تڑپ رہی تھی۔ عمیر اتنے میں وین لے آیا تھا ہم اسی وین میں چندا کو ڈاکٹر کے کلینک لے گئے اس نے دوائی لگا کے پٹی باندھ دی خیال تھا کہ چندا جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی لیکن بدقسمتی سے کمپاﺅنڈر نے دوسری پٹی کے دوران اس کی جلی ہوئی کھال کاٹتے ہوئے مسل (MUSCLE) بھی کاٹ ڈالے۔

اب صورت یہ تھی کہ چندا کے ہاتھ کی شکل بھی خراب ہو گئی تھی اور اس سے کوئی کام تو ہو ہی نہ سکتا تھا چندا کو ہم نے بہت ڈاکٹروں کو دکھایا لیکن زخم بگڑتا گیا ناچار ہم اسے کراچی لے گئے وہاں اس کی پلاسٹک سرجری ہوئی ڈاکٹر نے بہت امید دلائی کہ آہستہ آہستہ ایک سال کے اندر اس کا ہاتھ ٹھیک ہو جائے گا چندا اپنے ہاتھ کو دیکھ کر بہت روتی اس کی پڑھائی لکھائی سب چھوٹ چکی تھی۔ وہ ہر وقت مغموم رہتی۔

نرگس خالہ کی بیٹی عالیہ کی شادی تھی چندا تو اب ہجوم سے گھبراتی تھی ہم اصرار کر کے لے گئے خالہ بہت پیار سے ملیں لیکن ان کی بہوﺅں اور دونوں بیٹیوں کا رویہ بہت سرد تھا۔ رضوان بھی اس سے کٹا کٹا سا لگ رہا تھا۔ مہندی والے دن چندا اپنے کمرے میں گھس کے خوب روئی اسے خالہ کے بڑے بیٹے جمشید بھائی کی مہندی یاد آرہی تھی جب اس نے اتنی تیز ڈھولک بجائی تھی کہ کوئی لڑکی بھی اس تھاپ پہ رقص نہ کر سکی تھی مخالف ٹیم کے چھکے چھڑادیے تھے اس نے اور آج بھی سب نے بے ساختہ کہا۔

“چندا ڈھولک بجاﺅ۔” چندا نے پہلے اپنے ہاتھ کی طرف یکھا اور پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ روتی ہوئی چلی آئی پھر لڑکیوں نے بہت اصرار کیا کہ وہ کم از کم گانے ہی گائے لیکن وہ بھلارندھے ہوئے گلے سے کیا گاتی بارات والے دن بھی وہ چپ چپ ہی رہی۔

چندا کے آپریشن ہو رہے تھے کبھی کبھی وہ گھبرا جاتی تو ہم لوگ بہت تسلیاں دیتے ہم اس کو معزوری سے بچانے کی خاطر پانی کی طرح روپہ بہا رہے تھے لیکن وہ مایوس تھی۔

اور پھر رضوان نے دھماکہ کر دیا کہ وہ چندا سے شادی نہیں کر سکتا روبی خالہ نے بہت سمجھایا کہ ہم چندا کو جہیز میں ایک ملازمہ بھی دیں گے جو سارے کام کاج کرے گی تم اتنا ظلم نہ کرو لیکن وہ تو بڑاہٹ دھرم نکلا اصل میں اس کی بڑی بھابی اپنی بہن سے اس کی شادی کر رہی تھیں خالو بھی بیٹے کے ساتھ تھے اور اس کی دونوں بہنوں کو بھی یہ رشتہ بہت پسند تھا (زیادہ جہیز کی خاطر) بے چاری خالہ اکیلی تھیں اور سارا خاندان ایک طرف وہ تو اپنی مرحومہ بہن سے بہت شرمندہ تھیں۔ چندا سے یہ خبر بہت چھپائی گئی لیکن میرے چار سالہ بیٹے ٹیپو نے اسے بتا دیا۔

“چندا آنٹی رضی ماموں نے انگوٹھی واپس کر دی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے میں شہلا سے شادی کروں گا۔”

“باجی بتائیے کیا یہ سچ ہے۔” وہ میری طرف مڑی میں جھوٹ نہ بول سکی اور نگاہیںجھکا کے سراثبات میں ہلادیا۔ اس نے چپکے سے یا قوت جڑی انگوٹھی اتار کے میری جانب بڑھادی۔

چندا کی حالت منگنی ٹوٹنے کے بعد اور بھی خراب ہو گئی وہ روتی “باجی میں شروع ہی سے منحوس ہوں اور اور اب ہاتھ بھی جلا لیا رضی نے منگنی توڑ دی اچھا کیا اب میری نحوست اس پہ نہ پڑے گی” وہ ہذیانی انداز میں کہتی ہم لوگ ٹرنکولائزر کھلا کے اس پر سکون کرتے۔

“چھوڑو رضی کا خیال وہ لالچی کاروباری ذہنیت کا شخص تمہارے قابل ہی نہ تھا۔” لیکن چندا کی تان وہیں ٹوٹتی چندا کا ہاتھ اب کافی حد تک ٹھیک تھا ڈاکٹرز نے تمام آپریشن مکمل کر دیے تھے ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہاتھ کا فنکشن بالکل ٹھیک ہو جائے گا اب وہ اس ہاتھ سے سلائی مشین چلا سکتی تھی لکھ لیتی تھی چیزیں پکڑ سکتی فقط ایک سال تک کھانا پکانے کی ممالغت تھی۔ لیکن ذہنی لحاظ سے وہ بہت اپ سیٹ تھی اپنے ٹھکرائے جانے کا دکھ بہت شدید تھا۔

پھر رضی کی شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی نرگس خالہ نے کارڈ بھجوایا تو زوبی خالہ نازو خالہ میں نے غرض ہمارے دور کے رشتے داروں تک نے نہ لئے ہمارے نانا جان بھی بہت خفا تھے پھر وفد آنے شروع ہوئے کہ راضی نامہ ہو جائے لیکن ہم تو ڈٹے ہوئے تھے بھلا ہماری چندا کو ٹھکرا دیا جائے اور ہم اس کی شادی اٹینڈ کریں اور پھر آخری وفد شادی سے تین دن پہلے آیا۔ اور چنداکے لئے رضوان سے چھوٹے فرحان کا رشتہ پیش کیا فرحان رضوان سے زیادہ ہینڈسم تھا اور ایک پرائیویٹ فرم میں بہت اچھی پوسٹ پہ تھا گاڑی بنگلہ سب کچھ کمپنی کی طرف سے ملا تھا اس نے کہا۔

“چندا جیسی لڑکی کو ٹھکرا کے رضوان نے بڑی حماقت کا ثبوت دیا ہے وہ فرزانہ خالہ کی بیٹی ہے میں ان کی محبت بھول نہیں سکتا چندا تو اگر جل کر سیاہ بھی ہوجاتی تو میں اس سے شادی کرلیتا۔

مایوسی کے گھپ اندھیروں میں فرحان ہمارے لئے روشن ستارے کی مانند تھا ہم نے تھوڑی پس وپیش کے بعد یہ رشتہ قبول کر لیا۔ رضوان کی شادی سے ایک دن پہلے فرحان اور چندا کی شادی قرار پائی چندا کا سب جہیز تیار تھا لیکن یہ تین دن کس مصروفیت میں گزرے نہ پوچھئے عمیر بے چارہ سارا دن گھن چکر بنا رہتا خود میں بازاروں کے چکر لگا لگا کے بے حال ہو گئی۔

اور سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہوئی کہ شادی والے دن لئیق ابو اور پھوپو کو لے آئے اتنے سال بعد ابو کو دیکھا تھا میں بے اختیار ان سے لپٹ گئی ابو کی آنکھیں بھر آئیں چندا اور عمیر کو تو ابو کی صورت بھی یاد نہ تھی عمیر بہت ناراض تھا ابو سے لیکن جب میں نے اسے سمجھایا کہ یہ ہماری امی کی خواہش تھی کہ ہم اپنے ابو اور پھوپو کو معاف کر دیں تو اس کا غصہ دور ہو گیا ابو نے پھوپو کے اصرار پر بھی دوسری شادی نہ کی تھی اب پھوپھی کی بیٹیاں بھی بیاہی جا چکی تھیں ابو اور پھوپو تنہا رہ گئے تھے ابو کا بہت بڑا گھر تھا جس میں انہوں نے ایک انگلس میڈیم اسکول کھول رکھا تھا جو کہ اپنے اعلیٰ اسٹینڈرڈ کے باعث بہت مشہور تھا پھوپو بھی حج کر آئی تھیں اور اب بہت نرم دل ہو چکی تھی ہم نے پھوپو کو معاف کر دیا اور امی کے ساتھ جو ہوا تھا اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کے قبول کر لیا۔

ابو بار بار عمیر کو دیکھتے اور اسے بے ساختہ لپٹا لیتے اب وہی تو ان کے بڑھاپے کا سہارا تھا رخصتی کے وقت جب ابو نے چندا کو گلے لگایا تو چندا کی چیخیں نکل گئیں ابو پہ بھی رقت طاری ہو گئی اور سب خواتین آبدیدہ ہو گئیں پھوپو جس چندا کو منحوس کہتی تھیں اب اس کی بلائیں لے رہی تھیں۔

چندا کی شادی کے دو دن بعد ولیمہ ہوا دونوں دلہنیں اسٹیج پہ لائی گئیں تو ہر طرف چندا کی خوبصورتی کی دھوم مچ گئی رضوان کی دلہن کا چندا کے سامنے چراغ نہیں جل رہا تھا یوں بھی وہ پکی عمر کی واجبی سے نقوش کی موٹی سی لڑکی تھی۔ جب کہ ہماری چندا تو اپنے نام کی صحیح تصویر تھی ہلکا سا داغ تھا ہاتھ جلنے کی صورت میں جس کی وجہ سے رضوان نے اسے ٹھکرادیا اور اب تو وہ داغ بھی دور ہو چکا تھا۔ رضوان شروع ہی سے خودغرض تھا کسی کی خاطر قربانی دینا تو جانتا ہی نہ تھا اور اب اس کی آنکھوں میں پچھتاوے کے رنگ صاف نظر آرہے تھے جبکہ فرحان بے انتہا خوش تھا کیوں نہ خوش ہوتا اتنی خوبصورت دلہن مل گئی تھی اور سب خاندان والوں کے دل بھی جیت لئے تھے۔ بہنوں کو پھر سے ملا دیا تھا مجھے یاد آرہا ہے ایک دفعہ…. بچپن میں چندا نہر میں ڈوبنے لگی تھی تو فرحان نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھینچ لیا تھا اب بھی اس نے چندا کو مایوسی کے گڑھے سے نکال لیا تھا۔

مجھے یقین ہے آج میری امی کی روح بھی مسکرا رہی ہوگی۔ اس مسکراتی تصویر کی طرح۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں