ڈاکٹر رتھ فاؤ 20

ڈاکٹر رتھ فاؤ اور اللہ کی جنت

آنجہانی ڈاکٹر رتھ فاؤ کی انسانیت کے لیئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ بلاشبہہ پاکستان میں ان کی خدمات کو برسوں یاد رکھا جائے گا۔ حکومت پاکستان نے بھی ان کی خدمات کے عوض انہیں بہت سے ملکی ایوارڈز سے نوازا۔ جن میں
٭ ستارہ قاعد اعظم
٭ ہلال امتیاز
٭ ہلال پاکستان
٭ جناح ایوارڈ
٭ نشان قاعد اعظم
٭ ڈاکٹر آف سائنس (DSc) آغا خان یونیورسٹی کراچی
شامل ہیں۔
مذہب کے حوالے سے آنجہانی ڈاکٹر رتھ فاؤ کا تعلق عیسائی فرقہ کیتھولک سے تھا۔ جو تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں اور حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کو معاذ اللہ عزوجل اللہ کا بیٹا مانتے ہیں !
ان تمام خدمات کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ رب العزت واحد القہار کی جنت کا مستحق ثابت کر دیا۔ جیسا کہ فیس بک پر کچھ چھپے ہوئے ملحدین اور ان کے پروپیگنڈے کے متاثر جاہل مسلمان انہیں جنت کا سرٹیفیکیٹ ہاتھ میں تھمائے بیٹھے ہیں !
جنت اللہ عزوجل کی ہے اور اللہ عزوجل نے واضح طور پر فرما دیا کہ مشرک کبھی جنت میں نہیں جا سکتا اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔
إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ
(سورۃ المائدہ : 72)
جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔ اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے !
شرک ایک ایسا عمل ہے جو کسی بھی صورت میں معاف نہیں۔ وہ اللہ عزوجل جس نے انسان کو تخلیق کیا ان گنت نعمتوں سے نوازا، زمین و آسمان جس کے لیئے مسخر کر دیئے جس کو خلافت ارضی سے نوازا، جسے عقل و شعور عطا کر کے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا، اگر وہی انسان ان بیکراں نعمتوں و خلعتوں کی ناشکری کرتے ہوئے اپنے پروردگار کے ساتھ شریک ٹھہرائے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے ؟
اسی لیئے اللہ عزوجل نے سورۃ لقمان میں فرمایا :۔
"إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ”
بے شک شرک ظلم عظیم ہے۔
دنیا کا ہر جرم دنیا کا ہر گناہ معاف ہو سکتا ہے لیکن شرک ایک ایسا گناہ ہے جس کی کوئی معافی نہیں چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :۔
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ
﴿سورۃ النساء : 116﴾
خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔
آنجہانی ڈاکٹر کو جنتی ثابت کرنے کے لیئے سورۃ البقرہ کی آیہ 62 بڑے زور و شور سے پیش کی جاتی ہے
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالنَّصَارٰى وَالصَّابِئِيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَـهُـمْ اَجْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ ( البقرہ : 62)
جو کوئی ایمان والے اور یہودی اور نصرانی اورصابئی اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھے کام بھی کرے تو ان کا اجر ان کے رب کے ہاں موجود ہے اور ان پر نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
شرک کی مذمت اور مشرک کے تا ابد جہنمی ہونے کی بے شمار آیات سے صرف نظر کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ کی طرح کلام اللہ سے اپنے مطلب کی بات لیتے ہوئے یہ ولائتی مسلمان مشرکوں تک کو جنت کا سرٹیفیکیٹ تھمانے پر بضد نظر آتے ہیں۔
اس آیت سے مراد یہ ہے کہ امم سابقہ میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے دور میں جو یہودی یا عیسائی یا صابئی اللہ عزوجل پر اور روز آخرت پر ایمان لائے تو وہ جنتی ہیں !
حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد سابقہ کوئی بھی مذہب قابل قبول نہیں اس کی تائید قرآن ہی کی اس آیہ مبارکہ سے ہوتی ہے :۔
وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْـرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُۚ وَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ ( آل عمران : 85)
اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین چاہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
اس آیہ میں وضاحت کی جا چکی کہ اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین قابل قبول نہیں۔ اور جو بھی رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد اسلام کے علاوہ کوئی اور دین لائے گا تو وہ قبول نہ کیا جائے گا ۔اب ہدایت اور نجات ابدی اسی پر منحصر ہے کہ اللہ عزوجل کی وحدانیت کے ساتھ ساتھ ختم الرسل حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر بھی ایمان لایا جائے !
جنت کا استحقاق کس کے لیئے ثابت ہے آیئے قرآن ہی سے فیصلہ کراتے ہیں :۔
وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَآ اَبَدًا ۖ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقًّا ۚ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّـٰهِ قِيْلًا (سورۃ النساء 122)
اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے انہیں ہم باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اللہ سے زیادہ سچا کون ہے۔
جنٹ کا مستحق صرف وہ ہے جو ایمان لایا اور نیک اعمال کرتا رہا
ایمان کیا ہے اور کن کن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے آیئے حدیث مبارکہ سے پوچھتے ہیں :۔
صحیح مسلم جلد اول حدیث 100کے مطابق ایمان کے چھ ارکان ہیں
1۔ ایمان باللہ
2۔ ایمان بالرسالت
3۔ ایمان بالکتب
4۔ ایمان بالملائکہ
5۔ ایمان بالقدر
6۔ ایمان بالآخرت
جنت کے حصول کے لیئے قرآن کے بیان کردہ آمنو کے دائرے میں داخل ہونا ضروری ہے اور آمنو کے دائرے میں داخل ہونے کے لیئے ایمان کے ان چھ کے چھ ارکان پر ایمان لانا اور دل سے ماننا ضروری ہے ۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار آمنو کے دائرے سے خارج کر دیتا ہے ! اور جو آمنو کے دائرے سے خارج ہوا اس کاٹھکانہ جہنم ہے جو کہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے !!!

مصنف : محمد اسحاق قریشی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں