خواجہ سرا اور ہمارا معاشرہ 33

خواجہ سرا اور ہمارا معاشرہ

نیم سائنسدان جناب غالب کمال صاحب جیسے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے ہجڑوں ( خواجہ سراوں ) کو حقوق نہیں دیئے وہ دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نےاپنے معاشرے میں پھیلے ہوئے اس گندے کلچر کو معاذ اللہ اسلام سمجھ لیا ہے ، ہمارے معاشرے میں کسی گھر میں اگر کوئی خواجہ سرا پیدا ہوجائے تو اس کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے تو کیا یہ اسلامی حکم ہےیا یہ ہماری جہالت ہے ، کس عالم مفتی نے فتوی دیا ہے کہ کوئی نامرد پیدا ہوتو اس کو گھر سے نکال دیا جائے؟؟اسلام تو ان کو میراث میں بھی شریک کرنے کا حکم دیتا ہے ، ان بیچاروں کے لئے روزگار کے ذرائع بند کردیئے گئے تو کیا یہ اسلامی حکم سمجھ کر کیا گیا ہے ؟؟ کس مفتی اور کس عالم نے فتوی دیا کہ ان لوگوں کا کام کرنا حرام ہے؟؟ اپنی جہالتوں کو اسلام کا لیبل لگا کر اسلام پر اعتراضات یہ تمھاری جہالت ہے ، کسی کا ہیجڑا پیدا ہونا یہ اللہ کی طرف سے ہی ہے اس کے لئے بھی شریعت کے احکامات ہیں وہ بھی احکامات کا مکلف ہے ، ان بیچارے خواجہ سراوں کو ہمارے معاشرےنے بند لگی میں دھکیلا ہے جو کہ ظلم ہے ، باقی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بعض مرد عورتوں کی مشابھت اختیار کرتے ہیں اور اپنی چال اور گفتار کو عورتوں کی طرح بناتے ہیں اور ناچ گانا کرتے ہیں یہ ہیچڑے نہیں بلکہ مخنث ہیں ان پر اللہ کے رسول نے لعنت بھیجی ہے ، یعنی وہ مرد جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں وہ ملعون ہیں ، ہمارے معاشرے میں اکثریت مردوں کی ہے جنھوں نے یہ پیشہ اختیار کیا ہوا ہے اور یہ غلط کاموں میں بھی ملوث ہوتے ہیں ، اس لئے ان کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ، لیکن اگر کوئی قدرتی طور پر اس طرح پیدا ہو اور وہ عفت اور پاکدامنی سے زندگی گزار رہا ہے تو بلاشبہ وہ اجر و ثواب کے لحاظ سے مردوں سے بھی سبقت لے جائے گا کیونکہ اس نے پوری زندگی صبر اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی حالات میں گزاری ہے ، یہ لوگ قابل نفرت و ملامت ہرگز نہیں ۔ بلکہ ان کے ساتھ محبت کا تعلق اور ان کی دلجوئی کرنی چاہیے کہ کہیں یہ اپنے آپ کو معاشرے سے الگ تصور کرکے اچھوتوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں ۔
ایسی مخلوق کو عربی میں مخنث اور اردو میں ہیجڑا یا کھسرا کہا جاتا ہے۔ اور ایسی خلقت والے لوگ آج کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی موجود تھے،اور شریعت میں ایسے لوگوں کے حوالے سے تفصیلی راہنمائی موجود ہے،فقہائے کرام نے اپنی کتب فقہ میں ایسے لوگوں کے حوالے سے تفصیلی مباحث بیان فرمائی ہیں۔

اب آتے ہیں غالب کمال کے مین سوال کی طرف کہ اللہ نے مرد و عورت کا زکر تو کر دیا مگر ہیجڑے کا زکر کیوں نہیں کیا؟ مرد اور عورت کی جنس میں ہیجڑے کا بھی زکر ہونا چاہیے تھا۔ کہتے ہیں نیم حکیم خطرہ جان ، اسی طرح نیم سائنسدان خطرہ ایمان 🙂 محترم غالب کمال صاحب نے ہیجڑے کو بھی جینڈر یعنی جنس میں شامل کر دیا ہے اور ان کے بقول تین جنسیں ہو گئیں مرد، عورت اور ہیجڑا۔ مگر لگتا ہے موصوف نے سائنس کو صرف دیکھا ہے پڑھا نہیں۔
یہ کوئ نئ جنس نہیں بلکہ ایک بیماری کا نام ہے جسے Klinefelter syndrome کلِنفیلٹر سنڈروم کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک سنڈروم یعنی بیماری ہے تو اس کا الگ سے جنس کا تعین کرنا چہ معنی دارد۔ اصل میں می اوسس ١میں جب کروموسومز کا تبادلہ ہوتا ہے تو نارملی مرد کا x یا yکروموسوم عورت کے x کروموسوم کو فرٹیلائز کرتا ہے۔ اگر xx مل جائیں تو عورت اور XY ملیں تو مرد ہوتا ہے۔
مگر اس سنڈروم میں کسی وجہ سے می اوسس کے دوران کروموسومز الگ نہیں ہو پاتے۔ اس وجہ سے مرد کا XY کروموسوم عورت کے x کو یا مرد کا y عورت کے xx کو فرٹیلائز کر سکتا ہے جس سے xxy کروموسوم والا جاندار بنے گا۔ اس بیماری کو ہیری کلِنفیلٹر نے دریافت کیا جس کی بنا پر اس کا نام رکھا گیا۔ ای میڈیکل میں اس کو ایک بیماری کے طور ہر رجسٹر کیا گیا ہے جس کا نمبر ped/1252 ہے۔ یہ صرف پانچ سو میں اسے ایک شخص یا ہزار میں سے ایک شخص کو ہوتی ہے۔ اب یہ مطالبہ کرنا کہ اس کی بنیاد پر مرد ، عورت اور ہیجڑے کی مختلف جنسیں بنا کر پیش کی جائیں سواۓ جہالت کے اور کچھ نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے اللہ نے کسی کو اندھا پیدا کیا ، کسی کو لنگڑا۔ اب ان جیسے خود کار سائنسدان اٹھ کر یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو نعوز باللہ اللہ سے بھول ہو گئ اور اس کو اندھا پیدا کو دیا۔ ارے بھئ یہ بھی ایک بیماری ہے جو اللہ کی طرف سے امتحان ہے بالکل اس طرح جیسے کہ مخنس ہے۔ پہلے تو سائنس میں اس کو بیماری کی کیٹگری سے ہٹا کر جنس کی کیٹگری میں لاؤ پھر آ کر اعتراض کرنا کہ اس جنس کا زکر نہیں کیا۔
مگر شریعت اسلام نے پھر بھی ان کی ظاہری صورتحال کو مدنظر رکھ کر ان کے حقوق متعین کیے ہیں۔
1 ـ خنثى لغت عرب ميں اس شخص كو كہتے ہيں جو نہ تو خالص مرد ہو اور نہ ہى خالص عورت، يا پھر وہ شخص جس ميں مرد و عورت دونوں كے اعضاء ہوں ، يہ خنث سے ماخوذ ہے جس كا معنىٰ نرمى اور كسر ہے، كہا جاتا ہے خنثت الشئ فتخنث، يعنى: ميں نے اسے نرم كيا تو وہ نرم ہو گئى، اور الخنث اسم ہے.

اور اصطلاح ميں: اس شخص كو كہتے ہيں جس ميں مرد و عورت دونوں كے آلہ تناسل ہوں، يا پھر جسے اصل ميں كچھ بھى نہ ہو، اور صرف پيشاب نكلنے والا سوراخ ہو.

2 ـ اور المخنث: نون پر زبر كے ساتھ: اس كو كہتے ہيں جو كلام اور حركات و سكنات اور نظر ميں عورت كى طرح نرمى ركھے، اس كى دو قسميں ہيں:

پہلى قسم:

جو پيدائشى طور پر ہى ايسا ہو، اس پر كوئى گناہ نہيں.

دوسرى قسم:

جو پيدائشى تو ايسا نہيں، بلكہ حركات و سكنات اور كلام ميں عورتوں سے مشابہت اختيار كرے، تو ايسے شخص كے متعلق صحيح احاديث ميں لعنت وارد ہے، خنثى كے برخلاف مخنث كے ذكر يعنى نر ہونے ميں كوئى اخفاء نہيں ہے.

3 ـ خنثى كى دو قسميں ہيں: منثى مشكل اور خنثى غير مشكل.

ا ـ خنثى غير مشكل:

جس ميں مرد يا عورت كى علامات پائى جائيں، اور يہ معلوم ہو جائے كہ يہ مرد ہے يا عورت، تو يہ خنثى مشكل نہيں ہو گا، بلكہ يہ مرد ہے اور اس ميں زائد خلقت پائى جاتى ہے، يا پھر يہ عورت ہو گى جس ميں كچھ زائد اشياء ہيں، اور اس كے متعلق اس كى وراثت اور باقى سارے احكام ميں اس كا حكم اس كے مطابق ہو گا جس طرح كى علامات ظاہر ہونگى.

ب ـ خنثى مشكل:

يہ وہ ہے جس ميں نہ تو مرد اور نہ ہى عورت كى علامات ظاہر ہوں، اور يہ معلوم نہ ہو سكے كہ يہ مرد ہے يا عورت، يا پھر اس كى علامات ميں تعارض پايا جائے.

تو اس سے يہ حاصل ہوا كہ خنثى مشكل كى دو قسميں ہيں:

ايك تو وہ جس كو دونوں آلے ہوں، اور اس ميں علامات بھى برابر ہوں، اور ايك ايسى قسم جس ميں دونوں ميں سے كوئى بھى آلہ نہ ہو بلكہ صرف سوراخ ہو.

4 ـ جمہور فقھاء كہتے ہيں كہ اگر بلوغت سے قبل خنثى ذكر سے پيشاب كرے تو يہ بچہ ہوگا، اور اگر فرج سے پيشاب كرے تو يہ بچى ہے.

اور بلوغت كے بعد درج ذيل اسباب ميں سے كسى ايك سے واضح ہو جائيگا:

اگر تو اس كى داڑھى آ گئى، يا پھر ذكر سے منى ٹپكى، يا پھر كى عورت كو حاملہ كر ديا، يا اس تك پہنچ گيا تو يہ مرد ہے، اور اسى طرح اس ميں بہادرى و شجاعت كا آنا، اور دشمن پر حملہ آور ہونا بھى اس كى مردانگى كى دليل ہے، جيسا كہ علامہ سيوطى نے اسنوى سے نقل كيا ہے.

اور اگر اس كے پستان ظاہر ہو گئے، يا اس سے دودھ نكل آيا، يا پھر حيض آ گيا، يا اس سےجماع كرنا ممكن ہو تو يہ عورت ہے، اور اگر اسے ولادت بھى ہو جائے تو يہ عورت كى قطعيت پر دلالت كرتى ہے، اسے باقى سب معارض علامات پر مقدم كيا جائےگا.

اور رہا ميلان كا مسئلہ تو اگر ان سابقہ نشانيوں سے عاجز ہو تو پھر ميلان سے استدلال كيا جائيگا، چنانچہ اگر وہ مردوں كى طرف مائل ہو تو يہ عورت ہے، اور اگر وہ عورتوں كى طرف مائل ہو تو يہ مرد ہے، اور اگر وہ كہے كہ ميں دونوں كى طرف ايك جيسا ہى مائل ہوں، يا پھر ميں دونوں ميں سے كسى كى طرف بھى مائل نہيں تو پھر يہ مشكل ہے. مگر یہ ایسا نہیں کہ جہاں اللہ تعالی مرد و عورت کا زکر کریں وہاں اس کا زکر بھی ہو۔ یہ جینیٹک سنڈروم ہے اور مخنث کو ان کیٹگریز کے حساب سے ان کے حقوق متعین کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں