23

اندھافرشتہ

بس امربیل کی طرح ہوتی ہے۔ کبھی دھیمے سے دل کی منڈیروں پر چڑھ جاتی ہے تو کبھی چپکے سے کواڑوں میں الجھ جاتی ہے۔ کبھی چاندنی راتوں میں چاند سے شرما جاتی ہے تو کبھی شبنم کے قطروں کیطرح پتیوں کے دل میں زمٹ جاتی ہے۔
محبت۔۔ بس تتلیوں کے رنگوں کیطرح ہوتی ہے۔ کبھی بنفشی تو کبھی سرمئی، کبھی عنابی تو کبھی زعفرانی۔۔۔ جیسے پھولوں کے بوسوں سے تتلیوں کے کنوارے بدن پر سہاگن کے رنگوں کی طرح۔
اور نہیں تو پھر محبت۔۔ کسی حسین مورنی کیطرح ہوتی ہے جیسے خانم بیگم کی محبت، چاندی کے پازیب باندھے چھن چھنا چھن قاسم میاں کے دل کے نہال خانوں میں ناچ رہی تھی۔ مگر جسم کیا جانے تتلیوں کے کیا خواب ہوتے ہیں؟ ۔۔ ست رنگی کرنوں میں چھپے ہوئے کونسے آفتاب ہوتے ہیں؟ تو خانم بیگم کی بنجر زمین میں بھی پھول کھل نہ سکے اوارلمس، جس کی لذت سے آشنا ہو کر بھی تتلیوں کے خواب بن نہ سکے۔۔ خانم بیگم اجڑی کوکھ کے غم میں ساری عمر اشکبار رہی رہیں مگر قاسم میاں اپنے دل کے آبگینوں میں انکی محبت کی چاندنی میں سرشار رہے۔
مگر جسموں کی تو عمر ہوا کرتی ہے۔ وہ کب محبت کیطرح وقت کے پنجرے سے آزاد ہوا کرتے ہیں؟
تو پھر وقت چپکے چپکے گزرتا رہا اور قاسم میاں کے بالوں میں سفیدی اور خانم بیگم کی آنکھوں میں اداسی بھرتا رہا۔ بالآخر ایک رات آندھی چلی کہ قاسم میاں کے دل کے چراغ بجھتے چلے گئے اور وہ سیاہ رات آئی کہ اس گھپ اندھیرے سے چاند سورج بھی پناہ مانگنے لگے۔ خانم بیگم کو اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
کچھ دنوں تک قاسم میاں بے بس نگاہوں سے زمین کو تکتے رہے اور جب کوئی جواب نہ ملا تو آسمان کو دیکھ کر بلک بلک کر رو دیے۔

غم اشک بن جائے تو دوا ہو جاتا ہے اور اگر درد بن جائے تو سوا ہو جاتا ہے۔

قاسم میاں خانم بیگم کی یاد میں ایسے روئے کہ اپنی بینائی ہی کھو بیٹھے۔

عزیز و اقارب قاسم میاں سے منت سماجت کرتے تھے۔ انہیں اپنے ساتھ رہنے پر راضی کرتے تھے مگر قاسم میاں اپنے گھر کی دیواروں سے جڑے بیٹھے تھے۔ بالآخر عزیرو اقارب نے تنگ آکر انہیں انکے حال پر چھوڑ دیا۔
اب خالی گھر میں قاسم میاں دیواروں سے باتیں کرتے تھے۔ کبھی زمین تو کبھی آسمانوں سے باتیں کرتے تھے۔ کبھی زمین تو کبھی آسمانوں سے باتیں کرتے تھے۔ بس ایک آرزو میں جیتے تھے کہ کبھی خانم بیگم انکے پاس آئیں گی اور وہ ان کے دکھڑے اپنے آنسوؤں سے دھوئیں گے۔
تو ایک رات وہ محبت کے مارے نابینا بوڑھے کے خواب میں آ ہی گئیں۔

اماوس کی اس سیاہ رات میں جب چاند بادلوں کی اوٹ میں نہ تھا، قاسم میاں کے دل کے نہال خانوں میں محبت کی چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کب وقت کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ تو لمحے بھر میں دل کی منڈیروں اور کواڑوں پر امربیل کیطرح پھیل جاتی ہے۔
خانم بیگم نے پیار سے اپنے ہونٹوں کو قاسم میاں کے اشکوں سے نم کر لیا۔

اور ان کی نابینا آنکھوں کو محبت سے چوم لیا۔ پھر دھیمے سے کہنے گلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو نا! مجھے دیکھنے کے لیے تو تمہیں بینائی نہیں چاہیے۔

اور سنو جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے نہ؟

وہاں ساری حوریں بانجھ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری طرح

اور سارے فرشتے خدا کی محبت میں اندھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری طرح۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں