13

330 بیماریوں کے بارے میں عالمی رپورٹ شائع ہوگئی

مشہور طبی تحقیقی جریدے ’’دی لینسٹ‘‘ نے امراض کے بوجھ اور ان سے ہونے والی اموات کے بارے میں عالمی جائزے پر مبنی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں 195 ممالک سے 330 مختلف بیماریوں کے اعداد و شمار کا جمع کیے گئے ہیں۔
’’گلوبل برڈن آف ڈزیز‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی یہ سالانہ رپورٹ اگرچہ بہت تفصیلی ہے تاہم اس کے چیدہ چیدہ نکات میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال (2016 میں) ہونے والی ہر 5 اموات میں سے 1 ناقص غذا یا غذائی قلت کے نتیجے میں ہوئی تھی جبکہ اسی عرصے میں تمباکو نوشی نے 71 لاکھ افراد کو دنیا بھر میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اس وقت کم از کم 1 ارب 10 کروڑ افراد کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری یا دماغی مسئلے کا شکار ہیں جبکہ 191 ممالک میں ڈپریشن یا اسی قبیل کے نفسیاتی مسائل، 10 بڑے دماغی امراض میں شامل ہیں۔
غیر متعدی امراض کے باعث دنیا بھر میں ہونے والی اموات میں دل کی بیماریوں کا حصہ 72 فیصد رہا جبکہ دہشت گردی اور تنازعات کے دوران آتشیں اسلحے کے استعمال سے اموات میں بھی گزشتہ برس اضافہ ہوا ہے۔
ذیابیطس کے پھیلاؤ میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا اور اس بیماری نے پچھلے سال 14 لاکھ 30 ہزار انسانی جانوں کا خراج وصول کیا، جو 2006 کے مقابلے میں 31.1 فیصد زیادہ رہا۔
ان سب باتوں کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2016 کے دوران دنیا بھر میں زندہ جنم لینے والے بچوں کی تعداد 12 کروڑ 88 لاکھ رہی جن میں سے 5 کروڑ 47 لاکھ بچے اپنی پہلی سالگرہ منانے سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہوگئے؛ یہ تعداد 1970 میں 4 کروڑ 28 لاکھ تھی۔ البتہ اچھی خبر یہ ہے کہ 5 سال سے کم عمر بچوں میں شرح اموات نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ 2016 میں پہلی بار یہ تعدادِ اموات 50 لاکھ سے کم ریکارڈ کی گئی جبکہ 1970 میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی تعدادِ اموات 1 کروڑ 64 لاکھ نوٹ کی گئی تھی۔
ویسے تو مجموعی طور پر دنیا بھر کے لوگوں کی اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے لیکن مردوں کی نسبت خواتین کی اوسط عالمی عمر زیادہ بڑھی ہے۔ خواتین کی اوسط عمر 75.3 سال رہی جبکہ مردوں کےلیے یہی اوسط 69.8 سال رہا۔ اوسط عمر کے اعتبار سے جاپان 83.9 سال کے ساتھ سرِفہرست رہا جبکہ وسطی افریقی ممالک میں یہ اوسط سب سے کم یعنی 50.2 سال دیکھا گیا۔
متعدی امراض یعنی وبا کے طور پر پھیلنے والی بیماریوں سے 2016 میں مرنے والوں کی شرح مجموعی طور پر کم ہوئی البتہ ڈینگی اور نئی قسم کی ٹی بی کے باعث ہونے والی اموات میں اضافہ دیکھا گیا۔ پچھلے سال ڈینگی سے دنیا بھر میں 37800 اموات ہوئیں جو 2006 کے مقابلے میں 81.8 فیصد زیادہ تھیں؛ اور یہ ایک تشویشناک بات ہے۔ ٹی بی کی نئی قسم سے گزشتہ سال مرنے والوں کی تعداد 10800 رہی جو 2006 کے مقابلے میں 67.6 فیصد زیادہ تھی۔ واضح رہے کہ یہ ٹی بی دواؤں کے خلاف شدید مزاحمت رکھتی ہے جس کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے۔
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ روایتی قسم کی ٹی بی سے (جس کا علاج دستیاب دواؤں سے بہ آسانی ہوجاتا ہے) پچھلے سال مرنے والوں کی تعداد 12 لاکھ 10 ہزار رہی جو 2006 کے مقابلے میں تقریباً 21 فیصد کم تھی۔
2016 میں ایڈز سے ہلاک ہونے والوں کی عالمی تعداد 10 لاکھ 30 ہزار تھی جو 2006 کی نسبت 45.8 فیصد کم رہی۔ ملیریا بھی اپنی ہلاکت خیزی میں 2006 کی نسبت تقریباً 26 فیصد کمی کے ساتھ گزشتہ برس 7 لاکھ 19 ہزار 500 انسانی اموات کی وجہ بنا۔
اس رپورٹ کا بنیادی مقصد مختلف ممالک میں عوامی صحت سے متعلق پالیسی سازی اور عملی اقدامات میں کلیدی معاونت فراہم کرنا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ پاکستان میں اسے کس حد تک سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں