13

ہیرے میری آنکھوں سے چُرائے تو نے

موج خوشــــبو کی طرح بات اُڑانے والے
تُجھ میں پہلے تو نہ تھے رنگ زمانے والے
کتنے ہیرے میری آنکھوں سے چُرائے تو نے
چَند پتھر میری جھولی میں گِرانے والے
خوں بہا اگلی بہاروں کا تیرے سر تو نہیں
خُشک ٹہنی پہ نیا پُھول کِھلانے والے
آ تجھے نظر کروں اَپنی ہی شہہ رگ کا لہو
میرے دُشــــمں ـــ میری توقیر بڑھانے والے
آستینوں میں چھپائے ہوئے خنجر آئے
مجھ سے یاروں کی طرح ہاتھ مِلانے والے
ظلمتِ شب سے شکایت اُنہیں کیسی محسنؔ
وہ تو سُورج کو تھے آئینہ دکھانے والے ۔!!
________

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں