11

سمجھے کون ہمارے دکھ

سمجھے کون ہمارے دکھ
دکھ اور اتنے سارے دکھ
شب بھر باتیں کرتے ہیں
جگنو ، چاند ، ستارے ، دکھ
تم نے خوب خوشی دیکھی
ہم نے خوب سہارے دکھ
سینے سے لگ جاتے ہیں
رات ، تھکن کے مارے دکھ
ہم سے پہلے پھرتے تھے
دہر میں مارے مارے دکھ
گلدستہ بن جاتا ہے
ملتے ہیں جب سارے دکھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں