14

سنگدل ڈاکو

بیان کیا جاتا ہے، ایک قافلہ سر زمیں یونان میں سفر کر رہا تھا۔ ایک جگہ ڈاکوؤں کے ایک زبردست گروہ نے حملہ کر کے قافلے والوں کا سارا سامان لوٹ لیا۔ قافلے والوں نے بہت منت سماجت کی۔ خدا رسول کا واسطہ دیا۔ لیکن ڈاکوؤں پر کچھ اثر نہ ہوا۔ اس قافلے میں حکیم لقمان بھی شامل تھا۔ مسافروں نے اس سے کہا کہ ہماری آہ و زاری کا تو ان ظالموں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ آپ ہی انھیں سمجھائیے۔ شاید آپ کی نصیحت کا کچھ اثر ہو۔
لقمان نے جواب دیا، میں انھیں ہر گز نصیحت نہیں کروں گا۔ نصیحت کرنا وہاں مناسب ہوتا ہے جہاں نصیحت قبول کرنے کی صلاحیت معلوم ہو۔
کھا لیا ہو زنگ نے لوہے کو جب پوری طرح
اس کو صیقل کر کے چمکا دیں، یہ ممکن ہی نہیں
سنگ دل پر ہو نہیں سکتا نصیحت کا اثر
کچھ بھی کیجئے کیل گڑ سکتی ہے پتھر میں کہیں
وضاحت
اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے یہ بتایا ہے کہ گناہ کرتے کرتے انسان کا دل بالآ خر ایسا سخت اور سیاہ ہو جاتا ہے کہ اس پر نصیحت کا بالکل اثر نہیں ہوتا قرآن مجید کی اس آیت میں کھل کر یہ بات بیان کی گئی ہے۔
ترجمہ : مہر کر دی اللہ نے ان کو دلوں پر اور کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ۔ ان کے لئے ہے بہت بڑا عذاب ہے۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں