16

غریب کا سوشل میڈیا؛ دیواریں اور عوامی بیت الخلاء

ہم پاکستانی بحیثیت قوم یوں تو تقریباََ ہر بدتمیزی کے معاملے میں مشہور و معروف ہیں لیکن چند معاملات ایسے ہیں جن میں بدتمیزی کے ساتھ ساتھ بیہودگی کے عالمی ریکارڈ بھی پاکستانی قوم کے پاس وافر تعداد میں موجود ہیں۔ کسی ملک کی عام ذہنی حالت کا اندازہ اس کے ٹریفک، دیواروں اور عوامی بیت الخلاء (پبلک ٹوائلٹس) کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ کسی بھی ملک میں، کسی ایک بھی جگہ ایسی شاعری، پینٹنگ اور کارٹون بنانے کے ماہر نہیں ملیں گے جیسے وطنِ عزیز پاکستان میں ملتے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ شاعری، کارٹون بنانے کے مظاہرے، تصاویر اور عالمی حالاتِ حاضرہ پر تبصرے عوامی ٹوائلٹس، اسپتالوں کے ٹوائلٹس اور اسکول و کالجز کے ٹوائلٹس میں دیکھنے کو بکثرت ملتے ہیں۔
حد ہوتی ہے بےشرمی کی! ایسے ایسے بے ہودہ، واہیات اور شرم سے عاری اشعار، تبصرے اور بے سروپا باتیں لکھی ہوتی ہیں کہ سنجیدہ سے سنجیدہ انسان بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ کسی کے ارمان اسی پر بس نہیں کرتے تو وہ انسان کے ایسے ایسے غیر انسانی کارٹون بنا کر اٹھتا ہے کہ انسان کا دل عش عش کر اٹھتا ہے کہ یار اتنا ٹیلنٹ جس نے واش رومز میں بیٹھ کر دکھایا ہے، اگر عملی زندگی میں اس کا دس فیصد بھی کر دکھاتا تو کم از کم غمِ روزگار سے بیگانہ ضرور ہو جاتا اور اس کا یہ ٹیلنٹ مشہور ہوجاتا۔ اس میں اکثر وہ مرد ملوث ہوتے ہیں جو تمام رات بیٹھ کر انگریزی فلمیں دیکھتے ہیں؛ پھر ان کے وہ مناظر جو ان کی یادداشت میں رچ بس جاتے ہیں، انہیں اپنے قلم کے ذریعے دنیا کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
بات اسی پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ یہ تمام خرافات جن کا تذکرہ کیا ہے، بلا تمیز و تخصیص خواتین کےلیے مخصوص بیت الخلاء (لیڈیز واش رومز) میں بھی کیا جاتا ہے۔ میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ یہ مرد، خواتین کے واش رومز میں کرنے کیا جاتے ہیں؟ یہ وہ واحد جگہ ہے جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگائے جاسکتے لیکن اگر لگائے جائیں تو میرے خیال میں ایک الگ سے جیل بنانی پڑ جائے گی جس میں اس طرح کی خداداد صلاحیتوں سے مالا مال فنکاروں کے طویل قیام و طعام کا بندوبست کرنا پڑے۔ پاکستانیوں کے بارے میں ایک تبصرہ یہ کیا جاتا ہے کہ یہ وہ واحد قوم ہیں جو ایئرپورٹ سے نکلتے ہی دنیا کے مہذب ترین لوگ بن جاتے ہیں۔
ویسے مجھے آج تک اس بدتمیزی کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ اس کے علاوہ ایک اور بات جو انتہائی قابل مذمت ہے، وہ یہ ہے کہ اکثر واش رومز میں لڑکیوں کے نمبر لکھ کر ساتھ ہی کوئی بیہودہ سی عبارت لکھ دی جاتی ہے جس کا متن یہ ہوتا ہے کہ وہ لڑکی کوئی بدکردار یا دوستیاں پالنے والی لڑکی ہے جسے دوستوں کی اشد ضرورت ہے۔ مجھے لگتاہے کہ یہ کام لازماً کوئی ایسا فرد ہی کرسکتا ہے جس کو اس لڑکی سے کوئی اختلاف ہوگیا ہو اور ان دونوں کے راستے جدا ہوچکے ہوں۔ لیکن وجہ کوئی بھی رہی ہو، کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو بدنام کرے یا اس طرح سے اس کا اشتہار بنائے۔

غریب کا سوشل میڈیا؛ دیواریں اور عوامی بیت الخلاء

اس کے علاوہ لڑکیوں کے فون نمبر لوکل بسوں کی سیٹوں پر بھی لکھے ملتے ہیں۔ یہ ذہنی گرواٹ کی آخری حد ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہمارے پبلک ٹوائلٹس، سڑکیں اور دیواریں ہماری ذہنی پستی و پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مردانہ کمزوری سے لے کر محبوب آپ کے قدموں تک اور چلو چلوجلو پارک چلو… بنگالی بابا کالے جادو کا توڑ، ہر طرح کے پوشیدہ زنانہ و مردانہ کا علاج فلانہ دوا خانہ ہی ہے… اور ہر طرح کے اشتہارات معہ موبائل نمبر یہیں ملیں گے۔ اِسی بناء پر ان عوامی دیواروں کو ’’غریبوں کا سوشل میڈیا‘‘ بھی کہا جانے لگا ہے۔
جی ٹی روڈ سے سفر کرتے ہوئے کسی شہر کی شاید ہی کوئی دیوار یا کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں دیواریں اشتہارات اور سیاسی نعروں اور مطالبوں پر مبنی چاکنگ سے بھری نہ ہوں۔ ہم لوگ نہ جانے کب ذہنی طور پر خواندہ ہوں گے۔ اس طرح کی حرکات کرنے والے معاشرے کےلیے کتنے خطرناک ہیں، اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ انتہائی گھٹیا اور اخلاقی طور پر تباہ شدہ قوم کی نشانی ہے۔ خدا اس قوم کو سمجھ بوجھ عطا فرمائے اور اس طرح کے کاموں سے رکنے کی طاقت بھی (آمین)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں