روح کا وزن 19

روح کا وزن

لاس اینجل کے ڈاکٹر ابراہام انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لئیے نزع کے شکار لوگوں پر پانج سال میں بارہ سؤ تجربے کیئے۔اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتھائی حساس ترازو بنایا،وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا،مریض کی پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، مریض کا کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے مرنے کے فورن بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ہے۔ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا کہ انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے ابراہام کا کھنا تھا کہ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں،کھدروں،درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے،موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے ۔۔۔
ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں ۔۔؟؟
21 گرام لوہے کے 14چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں ،ایک ٹماٹر ،پیاز کی ایک پرت،ریت کی چھہ چٹکیاں اور پانج ٹشو پیپر ہوتے ہیں ۔۔ یہ آپ اور ہماری اوقات ہے لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتے ہیں .
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواھشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟
اس میں ہماری نفرتیں،لالچ،ہیراپھیری،چالاکی،سازشیں،ہماری گردن کی اکڑ ،ہمارے لھجے کے غرور کا وزن کتنا ہے ؟؟؟؟؟۔۔۔
میں نے کسی جگہ پڑھا تھا کہ تبت کے لوگ 21 گرامون کی اس زندگی کو موم سمجھتے ہیں،یہ لوگ صبح کے وقت موم کے دس بیس مجسمے بناتے ہیں ان میں ہر مجسمہ ان کی کسی نا کسی خواھش کی نمائندگی کرتا ہے،دن کو سورج کی تپش میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ مجسمے پگھلتے ہیں شام تک ان کی دھلیز پر موم کے چند آنسؤں کی سوا کچھ نہیں بچتا یہ لوگ ان آنسؤں کو دیکھتے ہیں اور اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تھی میری ساری خواھشیں اور اس کے بعد ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔۔
ہم 21 گرام کے انسان جوخود کو 21 گرام کے کروڑوں انسانوں کا حکمران سمجھتے ہیں ہم وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں بس ذرا سی تپش ،بس ذرا سی ایک ہچکی ہمارے اختیار ہمارے اقتدار ہماری اکڑ،غرور اور چلاکی کی موم کو پگھلا دے گی ،اور جب یہ 21 گرام ھوا ہمارے جسم سے باہر نکل جائی گی تو ہم تاریخ کی سلوں تلےدفن ہوجائیں گے اور 21 گرام کا کوئی دوسرا انسان ہماری جگہ لے لے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں