قانون میں معمولی ترمیم یا شروعات 16

قانون میں معمولی ترمیم یا شروعات

سنا ہے ترمیم واپس لے لی گئی ہے ,اچھا ہوا لیکن اس سارے شور میں مجھے ایک واقعہ یاد آگیا
___________________________
سعودی عرب میں ایک ظالم قسم کا کفیل تھا جو اپنی لیبر کو دو دو ,تین تین مہینے تک تنخواہ نہیں دیتا تھا,کبھی کبھی تو یہ دورانیہ چھ ماہ تک چلا جاتا
بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک ہی تھا لیکن وہ اپنے کچھ مزدوروں کو مارتا بھی تھا جن میں زیادہ تر حالات کے ہاتھوں مجبور تھے اور آواز نہیں اٹھا سکتے تھے, اور جب وہ غصے میں کسی ایک کو تھپڑ وغیرہ مارتا تو باقی تماشہ ضرور دیکھتے اور اپنا اپنا کام کچھ دیر کےلئے روک بھی دیتے کیونکہ مار کھانے والا بھی انکا تماشہ ایسے ہی دیکھ چکا ہوتا, اور مار کھانے والا تھپڑ کے بدلے ہنسنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے شاید اپنی عزتِ نفس کو یہ جھوٹی تسلی دیتا کہ کوئی بات نہیں مذاق میں مار رہا ہے
لیکن اس کفیل کا طریقہءواردات بڑا دلچسپ تھا
وہ نئے آنے والے مزدور کو پہلے کندھے یا بازو پہ ہلکا سا تھپکی نما تھپڑ مارتا,
پھر کندھے سے اوپر
پھر بات کمر تک پہنچتی اور اتنے سفر میں تھپڑ’ گھونسے میں تبدیل ہوچکا ہوتا اور مار کھانے والا بھی عادی ہونے لگتا تو آخر ایک دن آتا جب سب کے سامنےغلیظ گالیوں کے ساتھ چہرے پہ چٹاخ چٹاخ تھپڑ پڑتے اور بندہ تب تک کچھ کرنے کے قابل نہ رہتا
لیکن
اگر کوئی اسکو پہلی ہی "تھپکی” پہ براہِ راست آنکھوں میں گھور کے دیکھتا اور کفیل صاحب اسکے تاثرات دیکھ کے آئندہ اس سے پانچ قدم کی دوری سے ہی بات کرتے.
مجھے اس واقعے اور موجودہ پاکستانی حالات میں بہت زیادہ مماثلت نظر آتی ہے, حکومت کی جانب سے کی جانیوالی یہ "معمولی ترمیم” مجھے سعودی کفیل کی وہی تھپکی لگتی ہے….جس کے لئے پہلے تو پوری کوشش کی گئی کہ اسکو "معمولی اور بے ضرر” ثابت کیا جاسکے,لیکن جب بات نہیں بنی تو اسکو واپس لینا پڑا اور واپسی کا حکم دینے والوں کا کہنا ہے کہ
"مینوں تے پتہ ای نئیں سی”
اگر ختمِ نبوت کے پروانے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اپنے "تیور” نہ دکھاتے تو یہ تھپکی آگے چل کے وہی کرارا تھپڑ بن سکتی تھی جسکے نتیجے میں قادیانیوں کو مسلم فرقہ تسلیم کرکے پاکستانی عوام کے منہ پہ تھپڑ برسایا جاتا اور ہم خجالت مٹانے کو اسے بھی ایک "چھوٹی غلطی” ہی مان لیتے
(سکندر خان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں