7

کرسمس کا تہوارآج میسحی برادری روایتی جوش و جذبے سے منارہی ہے

ملک بھر میں مسیحی برادری کی جانب سے کرسمس کا تہوار روایتی جوش و جذبےسے منایا جارہا ہے۔ گرجا گھروں، مسیحی افراد کے گھروں اور محلوں میں خصوصی طور پر کرسمس ٹری اور ڈیوڈ اسٹارز آویزاں کئے گئے ہیں، اس کے علاوہ گھروں اور گزر گاہوں کو برقی قمقموں سے بھی سجایا گیا ہے۔

کرسمس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز اتوار کی رات سے گرجا گھروں میں خصوصی دعائیہ تقریبات سے ہوا جن میں مسیحی برادری نے ملک کی بقا و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کےلیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ دن کے آغاز کے ساتھ ہی مسیحی افراد کی جانب سے ایک دوسرے کو تحائف دیئے گئے جبکہ خصوصی کرسمس کیک کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔ ملک میں امن و امان کی صورت حال اور آپریشن ردالفساد کے پیش نظر ملک بھر میں گرجا گھروں اور تفریحی مقامات پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

صدر ممنون حسین نے کرسمس کی مناسبت سے اپنے پیغام میں مسیحی برادری کو دل کی گہرائی سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسیحی برادری کی وطن عزیز کی ترقی، استحکام اور طبی و تعلیمی شعبوں میں خدمات پر پاکستانی قوم اور حکومت پاکستان دل سے ان کی قدر کرتی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کرسمس کی بنیادی روح یہ ہے کہ خوشیوں کو بانٹا جائے اورتمام انسانیت سے پیار کیا جائے، توقع ہے کہ حب الوطنی سے سرشار مسیحی برادری کا ملک کی ترقی، خوشحالی میں کردار برقرار رہے گا اور اس میں مزید تیزی آئے گی۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپنے تہنیتی پیغام میں مسیحی اراکین پارلیمنٹ اور مسیحی برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے اقلیتوں کو حاصل حقوق کے تحفظ اور قائداعظمؒ کے رہنما اصولوں کے مطابق انہیں مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ اپنے رسم و رواج کے مطابق رہنے کےلیے پارلیمنٹ اور حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید نے بھی اپنے ساتھی اراکین پارلیمنٹ کو مبارکباد دی اور کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات دنیا میں ہم آہنگی کے فروغ کےلیے مشعل راہ ہیں، ملک کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کےلیے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔

شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف زرداری نے بھی کرسمس پر مسیحی برادری کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے محبت، درگزر اور بھائی چارے کا سبق دیا، یہ وہ اقدار ہیں جنہیں آج ہمیں اپنی زندگیوں میں شامل کرنے کی جتنی ضرورت ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں