117

وہ لمحہ جب کمپیوٹر نے انسان کو مات دی

انسان بمقابلہ انسان تو آپ نے ہمیشہ سنا ہوگا، آج مقابلہ ہوگیا انوکھا، جی ہاں یہ مقابلہ تھا مصنوعی ذہانت اور انسان کے درمیان، اور بات صرف یہیں تک نہیں ہے بلکہ اس پر جیتنے والے کیلئے 10 لاکھ ڈالر کا انعام بھی ہو تو مقابلے جیت جانا سب کی ترجیح ہوتا ہے۔
جی ہاں، جنوبی کوریا میں مصنوعی ذہانت AI اور انسان ایک سخت، ذہن کو تھکا دینے والے تاریخی مقابلے کیلئے آمنے سامنے ہوگئے اور آپ ضرور جاننا چاہیں گے کہ اتنی خطیر رقم والے مقابلہ میں جیت کس کی ہوئی؟ یقیناً انسان کی جیت ہوسکتی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کو تو تخلیق کرنے والا بھی وہ خود ہی ہے، لیکن ہوا اس کے برعکس اور اِس مقابلہ میں مصنوعی ذہانت نے خود انسان کو شکست دے دی۔ ’’گو‘‘ نامی عالمی چیمپئین شپ مقابلہ میں اسی کھیل کے ایک عالمی چیمپین کو ان کے کمپیوٹر نے چاروں شانے چت کردیا ہے۔
شائقین جو کہ براہِ راست نشریات میں یہ مقابلہ دیکھ رہے تھے، ان کی اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب سیئول میں منعقد کرائے جانے والے اس مقابلہ میں جنوبی کوریا کے چیمپئین کو گوگل کے ’’الفا گو نے یوروپیئن‘‘ (مصنوعی ذہانت کے خود کار پروگرام) نے شکست سے دوچار کردیا۔ اس مقابلہ کی سختی اور نوعیت کا اندازہ آپ اس بات سے کرسکتے ہیں کہ کوریا کے چیمپئین ’’لی ڈول‘‘ کمپیوٹر کے ساتھ مقابلہ کے دوران پیسینہ سے شرابور اور کافی تلملاہٹ کا شکار نظر آئے۔
یہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک ایسا کارنامہ تھا جس کا کچھ عرصہ قبل تک تو کوئی تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا تھا۔
راقم کے کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کی جیت کوئی بڑی بات نہیں ہے، انسان کے آگے کمپیوٹر تھا اس کی پروگرامنگ کی گئی تھی تو کمپیوٹر نے ہی جیتنا تھا لیکن اِس بات کا میرے پاس ایک سادہ سا جواب ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسان کی بھی تو ایک پروگرامنگ کی ہوئی ہے۔ جس کے حساب سے ہی وہ کام کرتا ہے۔ مثلاً یہ ہماری پروگرامنگ ہے کہ ایک مخصوص حد تک درجہ حرارت میں ہم گزارہ کرسکتے ہیں اُس نقطہ سے درجہ حرارت بڑھے گا یا زیادہ کم ہوگا تو ہمار ہمت جواب دے جائے گی، ہمیں قدرت نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے نوازا ہے یہ ہماری پروگرامنگ ہی ہے کہ ہم انسان اس کی وجہ سے ذی شعور کہلاتے ہیں لیکن جانور اس طرح کی ذہنی صلاحتیوں اور استعداد سے محروم ہیں، یعنی اللہ نے ان کی پروگرامنگ ہم سے مختلف کی ہے بالکل ایسے جیسے اگر کوئی شخص ذہنی معذور ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا ذہن اپنی تکمیل کے مراحل تک نہیں پہنچا تو اس کی پروگرامنگ باقی افراد کی طرح نہیں، اس میں سوچنے کی صلاحیت بھی دیگر افراد کی مانند نہیں۔
بات ہو رہی تھی انسان اور کمپیوٹر کے مابین مقابلہ کی تو جناب اس مقابلہ میں ضروری نہیں کہ کمپیوٹر انسان پر بالکل حاوی ہی رہا تھا، آخر کمپیوٹر کا مقابلہ بھی تو ایک عالمی چیمپیئن سے پڑا تھا اور اس مقابلہ کے بیشتر حصوں میں تو ’’لی سی ڈول‘‘ نے کمپیوٹر کو بھی چکرا کر رکھ دیا تھا، لیکن آخری لمحات میں کمپیوٹر نے ساری بازی الٹ دی اور انسان پر حاوی آگیا۔
بیشتر قارئین نے اس ’’گو‘‘ نامی کھیل کے بارے میں پہلی بار سنا ہوگا۔ جن لوگوں نے اِس کا نام واقعی پہلی بار سنا ہے تو ان کو آج اس کا تعارف بھی کرواتے دیتے ہیں۔ اس کھیل کی تاریخ تقریباً 3 ہزار سال پرانی ہے اور یہ شطرنج سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور ذہن کو تھکا دینے والا کھیل ہے۔ پیچیدگی کے لحاظ سے شطرنج اس سے نسبتاً زیادہ آسان ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ گو میں یکسر مختلف قسم کا ذہنی چیلنج ہے، کیونکہ اس میں بے شمار چالیں چلنے کے امکانات ہیں جس کا مطلب ہے کہ اس مشین میں انسانوں کی طرح جیتنے کا ادراک ہے تو ہی مقابلہ کی صلاحیت بھی ہے۔
آخر میں آپ ضرور جاننا چاہیں گے کہ ورلڈ چیمپیئن مسٹر لی کیلئے یہ تجربہ کیسا رہا تو انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ،
’’کسی انسان کے بر خلاف کسی مشین کے ساتھ کھیلنا بہت مختلف ہے۔ عام طور پر آپ اپنے مخالف کی سانسوں سے اس کی طاقت کا اندازہ لگا لیتے ہیں اور کئی بار آپ ایسے فیصلے کرتے ہیں جو آپ کے مخالف کی جسمانی حرکات پر مبنی ہوتا ہے لیکن مشین کے ساتھ آپ ایسا نہیں کرسکتے‘‘۔
 اور یہاں مسٹر لی کے ساتھ مقابلہ کرنے والے بلکہ مقابلہ جیتنے والے دوسرے چیمپئین کا تعارف نہ کروایا جائے تو میں سمجتھا ہوں یہ اس کے ساتھ نا انصافی ہوگی
دوسرے کھلاڑی ’’الفا گو‘‘ کو برطانوی کمپیوٹر کمپنی ڈیپ مائینڈ نے تیار کیا تھا جسے آج سے 2 سال قبل گوگل نے کافی مہنگے داموں خرید لیا تھا۔ اس کے بارے ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیمس ہیسوب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ اپنی خامیوں سے سبق سیکھتا ہے اور اب یہ پہلے کے سپر کمپیوٹر سے زیادہ مضبوط ہے‘‘۔
جہاں ایک طرف کمپیوٹر کی یہ ترقی خوش آئند بات ہے تو دوسری طرف انسان کی کمپیوٹر کے ہاتھوں شکست کوئی معمولی سی بات ہرگز نہیں ہے، بلکہ مشہور سائنسدان پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ بہت پہلے ہی اپنے ان خدشات کا اظہار کرچکے ہیں کہ ایک دن کمپیوٹر مصنوعی ذہانت کے اعتبار سے انسانی سوچ سے کہیں آگے نکل جائے گا اور صرف یہی نہیں بلکہ کمپیوٹر کے ہاتھوں انسان کی اپنی بقاء بھی خطرے میں پڑجائے گی۔
یقیناً ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے سدباب کرنے چاہئیں تاکہ بنی نوع انسان سائنسی سہولیات سے استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بقا کو بھی مدِ نظر نظر رکھ کر آگے بڑھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں