71

تاریخ بن سکتی ہے تو بدل بھی سکتی ہے!

نفرت، ہٹ دھرمی اور بلا جواز سینہ زوری کے گرجتے بادلوں کو پیچھے دھکیلتے آخر کار وہ دن آن پہنچا جس کا انتظار کھیل سے محبت کرنے والے ہر شخص کو تھا، صرف برصغیر ہی بلکہ پاک بھارت مقابلے نے پوری دنیا کےاہم ترین مقابلے کی صورت اختیار کرلی ہے، یہی تو وہ وجہ ہے کہ سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مقام تبدیل کرنے کے لئے پاکستان کا مطالبہ بھی تسلیم کرلیا کہ کہیں ایسا نہ ہو جس مقابلے میں سب سے زیادہ کمائی کا آسرا ہے وہی ختم ہوجائے۔ 

ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل طرح طرح کی خبریں سامنے آرہیں تھیں، سرحد کے اُس پار دھرم شالہ میں پاک بھارت مقابلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے تو اس طرف پاکستان کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم بھارت روانہ کی گئی جس کا مقصد سیکیورٹی کے اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ دھرم شالہ میں میچ کے حوالے سے جب انتظامیہ نے ہاتھ کھڑے کردیئے تو پاکستان کی خوش قسمتی سمجھیئے یا بھارت کی بد قسمتی کہ میچ ایڈن گارڈن کولکتہ منتقل ہوگیا۔ اِس میدان میں بھارت کے خلاف پاکستانی ریکارڈ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستان کے لئے یہ اچھا فیصلہ ہوگیا ہے۔

بات ہو رہی ہے ایسے ہائی وولٹیج میچ کی جس میں دونوں طرف سے صرف گیارہ گیارہ کھلاڑی ہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے حامی بھی آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ پھر کچھ حقائق پر نظر ڈالی جائے تو ایک اندازے کے مطابق پاک بھارت مقابلہ لگ بھگ ڈیڑھ ارب لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔ ریٹنگ کمپنیوں کے مطابق 2011ء کے سیمی فائنل نے 988 ملین لوگوں کو محظوظ کیا، اور یہ بالکل حقیقت ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں کبھی انڈیا سے نہیں جیتا جب کہ دوسری جانب یہ حقیقت بھی اپنی واضح ہے کہ بھارت کبھی پاکستان سے ایڈن گارڈن میں نہیں جیت سکا۔ دونوں ٹیمیں چار بار آمنے سامنے آئیں مگر ہر بار بازی گرین شرٹس کے نام رہی۔ کرکٹ پر تبصرہ کرنے والے کہتے ہیں کہ تاریخ کا فیصلہ بہت مضبوط ہوتا ہے، اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہمیشہ بھارت کا نام اوپر رہا ہے، مگر وہ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ تاریخ بناتے بھی انسان ہیں اور بدلتے بھی انسان ہی ہیں۔

ورلڈ کپ کے آغاز میں بھارت فیورٹ ٹیم تھی، اور جب پاکستان نے سیکیورٹی کی بنیاد پر ٹیم کو بھیجنے سے انکار کیا تو بھارتی میڈیا کے کچھ حلقوں نے اس کی وجہ ایشیا کپ میں پاکستان کی بھارت سے ہار کو بتایا اور کہا کہ پاکستان جان بوجھ کر ٹیم نہیں بھیجے گا کیونکہ انڈیا یہ ورلڈ کپ جیتنے کا مضبوط امیدوار ہے، مگر جیسے ہی ورلڈ کپ کا باقاعدہ آغاز ہوا تو تصویر کا سارا رُخ ہی تبدیل ہوگیا۔ پاکستان نے اپنے وارم اپ میچ میں سری لنکا کو اور پہلے میچ میں بنگلہ دیش کو بھاری مارجن سے ہرا کر اپنی موجودگی کا احساس دلا دیا۔

دوسری طرف نیوزی لینڈ سے بُری طرح شِکست کھانے والی بھارتی ٹیم پہلے ہی سے دباؤ میں ہے، جس کا مقابلہ آج دنیا کے سب سے بہترین باؤلنگ اٹیک سے ہوگا۔ ایسے میں میچ کا آدھے سے زیادہ دباؤ بھارت پر ہوگا۔ اس میچ کے آغاز سے قبل بنگلہ دیش کے خلاف اوپنرز کی زبردست پرفارمنس اور شاہد آفریدی کی دھواں دار بلے بازی کو لے کر یقیناً بھارتی ٹیم دباؤ کا شکار ہوگی، اور اس کے ساتھ ساتھ ایشیا کپ میں عامر کی تباہ کن باؤلنگ بھی بھارتیوں کے لیے درد سر ہوگی۔

اس میچ سے قبل پاکستانی کوچ وقار یونس دباؤ سے قطع نظربہت پُر امید نظر آرہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ عامر ایسا باؤلر ہے جو ایک اسپیل سے سارا کھیل تبدیل کرسکتا ہے۔ یہ ہمارے لئے بہت خوشگوار ہے اور ہمارے پاس بہترین بولنگ اٹیک ہے، ہمیں ضرورت صرف زیادہ سے زیادہ اسکور کرنے کی ہے۔

70 ہزار شائقین کے نعروں اور شور کے درمیان بھارتی ٹیم کو جس بات کی زیادہ فکر ہوگی وہ یہ کہ اگر ہم یہ میچ ہارے تو سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات انتہائی معدوم ہوجائیں گے۔ ایسے میں پاکستان کو جارحانہ کھیل پیش کرنا چاہیئے اور جتنی جلدی ہوسکے ٹاپ آرڈر کو پویلین کی راہ دکھائے۔

پاکستان کے ٹیسٹ کپتان مصباح الحق نے اپنے آج کے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ کھلاڑیوں کے لئے زندگی میں سب سے زیادہ دباؤ اُمیدوں کا ہوتا ہے۔ جتنی زیادہ اُمیدیں ہوں گی اُتنا زیادہ دباؤ ہوگا۔ مصباح الحق نے پاکستانی ٹیم کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی ہے۔ مصباح لکھتے ہیں کہ پاکستانی کیمپ میں یہ سوچ بھی ہوگی کہ اگر ان حالات میں نیوزی لینڈ بھارت کو 89 کے اسکور پر آؤٹ کرسکتی ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے؟ محمد عامر کے حوالے سے مصباح لکھتے ہیں کہ عامر انتہائی شاندار باؤلر ہیں جو اپنی عمر سے زیادہ تجربے اور ذہانت سے گیند کرواتے ہیں، جس انداز میں وہ 145 کی رفتار سے گیند کو دیر سے سوئنگ کرتے ہیں وہ کسی بھی بلے باز کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

تیز گیند بازوں میں محمد عامر، محمد عرفان اور وہاب ریاض کی موجودگی کے ساتھ آفریدی، عماد وسیم اور شعیب ملک کی صورت پاکستان کے پاس ایسا ہتھیار موجود ہے جو دنیا کی کسی بھی ٹیم کے لیے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ جبکہ کرکٹ کا ایسا نام جس کو تعارف کی ضرورت نہیں ’’عمران خان‘‘، نے اس میچ سے پہلے بھارت پہنچ کر بھارتی میڈیا کےدباؤ اور تبصروں کو ’’ہائی جیک‘‘ کر لیا ہے۔ 1992 کے فاتح عمران خان کی موجودگی یقیناً پاکستانی ٹیم کے لئے خوشگوار ہی نہیں بلکہ بہت مددگار بھی ثابت ہوگی۔ عمران خان خود بھارت کے منجھے ہوئے بلّے بازوں کے سامنے باؤلنگ کروا چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ کس طرح دباؤ کا سامنا کرنا ہے۔

گزشتہ شب بھارتی ٹی وی چینل کے پروگرام میں عمران خان نے بہت نپی تلی باتوں میں ٹیم کو مشورہ دیا مگر اصل بات چُھپا لی کہ وہ ڈریسنگ روم میں جا کر بتائیں گے۔ پاکستانی قوم دعا کر رہی ہے کہ آفریدی کسی اور کی نہ سہی، عمران خان کی ہی سن لیں، کیونکہ آفریدی اگر بھارت کے خلاف پرفارم کر جائیں تو پھر جیت شاہینوں کی پکّی ہوتی ہے۔

اب آپ اِس کو پاگل پن کہیں یا حب الوطنی کی انتہا لیکن میری یہی رائے ہے کہ حالات ہمارے لئے سازگار ہیں اور ہماری ٹیم مضبوط جب کہ حریف کمزور ہے، اور شاہینوں کے پاس بھرپور موقع ہے کہ وہ اپنی پوری محنت اور جذبے کے بل بوتے پر جیت کر وطن کو فتح سے ہمکنار کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں